مریخ پر پانی - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

مریخ پر پانی

12074779_1084300918247174_119562553946185462_n

 

آج مریخ پر پانی دریافت ہوا تو میں دن بھر مختلف لوگوں کے کمٹس اور پوسٹس پڑھتارہا۔ میرے لیے یہ ایک بہت بڑی خبر تھی۔ میں بے پناہ خوش بھی تھا کہ اپنے جیتے جی یہ خبر سن لی۔ زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیّارے پر پانی کا دریافت ہونا اکیسوی صدی کی ایک بڑی دریافت ہے۔ جب کولمبس کو امریکہ ملا تو لوگوں کو یقین نہیں آتاتھا۔ اس سے پوچھتے تھے، ’’کیا وہاں کے انسانوں کی شکلیں ہم جیسی ہی ہیں؟‘‘۔۔۔۔۔۔کولمبس کو خود آخرتک یقین نہیں آیا کہ اس نے ایک نیا براعظم دریافت کرلیا ہے۔ وہ یہ تسلیم کیے بغیر ہی فوت ہوا۔ اس کے بعد امریگو نے پندرہ سو پانچ میں دوبارہ جاکر امریکہ پھر سے دریافت کیا اور اس لیے اس کے نام پر اس براعظم کا نام پڑا۔
اب آج سوچیں تو!! امریکہ کی دریافت کتنی بڑی دریافت تھی؟
آج دوستوں کی باتیں غور سے سنتا رہا اور پھر سوچ میں پڑگیا۔ مجھے اپنا آپ احمق احمق لگا۔ یعنی لوگوں نے اس وقت بھی یہی رویّہ دکھایا ہوگا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے خیال آیا۔ میں نے کولمبس سے لے کر نیل آمسٹرانگ تک نظردوڑائی اور باقی دنیا کا ردعمل دیکھا۔ اور آج لوگوں کا طرز عمل دیکھا۔ ایک کیفیت تھی جس سے گزرتے ہوئے خود کو محسوس کیا کہ ہاں اس وقت بھی ایسا ہی ہوتاہوگا۔ انسان سائیکل کے ساتھ بڑا ہوا ہے اس کے لیے یہ ایجاد نہیں ہے، گھر کا آئٹم ہے۔ وہ بڑا ہوجاتاہے ، پوچھتا تک نہیں کہ یہ کیوں چلتی ہے کیسی چلتی ہے۔ وہ ٹی وی کے ساتھ بڑا ہوا ہے، اسے کیا ضرورت برقی مقناطیسی لہروں کے بارے میں متجسس ہونے کی۔

خبریں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ارتقأ کا تقاضا ہی یہی ہے کہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے ہو۔ کوئی نہ چونکے، کوئی نہ اُچھلے۔ جو ہورہا ہے بس روٹین لگے۔ اور پتہ ہی نہ چلے جب نسلوں کی نسلیں بدل چکی ہوں۔ ایک نوع سے دوسری نوع کا ظہور ہوجائے۔ ہم نے اپنے آس پاس لاکھوں تبدیلیوں کا نوٹس کبھی نہیں لیا تو اس ایک خبر کا نوٹس خاک لینگے؟ ہم برائیلر کھاتے ہیں۔ گھر لے جاتے ہیں۔ مہمانوں کو کھلاتے ہیں۔ ہم نے کبھی سوچا تک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔’’بابا! یہ خدا کی نہیں انسان کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہے‘‘۔ اللہ اکبر وللہ الحمد ۔

کبھی کبھی مارفئیس کا ڈائیلاگ بہت یاد آتاہے،

’’ ہر شہری کے لیے ایک مشین، یہی منصوبہ بنایا ہے مشینوں نے‘‘

چپ چاپ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہرکسی کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ مسلسل مسیجنگ، کالز، گیمز اور پتہ نہیں کیا کیا الا بلا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر دور دراز سے کنٹرول کی بے شمار قسمیں اور ایپلیکیشنز، دھڑا دھڑ ہم استعمال کیے جارہے ہیں۔ کبھی خیال نہیں آتا کہ ’’یہ ارتقأ ہورہا ہے بھائی‘‘۔ اسی کو تو ارتقا کہتے ہیں۔ جب پتہ تک نہ چلے کہ ’’میاں آپ بکری سے زرافہ بنتے جارہے ہو‘‘ ۔ نہیں، جب زرافہ بن جاتے ہیں تب بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم پہلے بکریاں تھے؟ ظاہر ہے بزدلی اور ہروقت منمناتے رہنے سے تو بدرجہا بہتر ہے اوپر سے جھانکنا اور سب نیچے والوں کو بنظرغائر دیکھتے جانا اور چباتے جانا۔

یوں جب بہت سی باتیں سوچیں تو سکون آیا کہ چلو! کوئی بات نہیں اگر آج مریخ پر پانی دستیاب ہونے کا کسی نے ویسے نوٹس نہیں لیا جیسے تم نے لیا تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ تم نے بھی تو بے شمار ایجادات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔ دراصل اپنی اپنی دلچسپی کی بات ہوتی ہے۔

جب سے کیوریاسٹی وہاں پہنچا میرے کان اُدھر لگے رہتے تھے۔ میرے بڑے بیٹے نے سپیس سٹیشن کی لائیو ویڈیو ہروقت چلائی ہوئی ہوتی ہے، ناسا کی سائیٹ سے۔ بہرحال مریخ پر پانی دریافت ہوگیا ہے۔ مریخ پر 95.97 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ پودوں کی خوراک ہے۔ کارل ساگان نے اپنی کتاب کاسموس میں مریخ کی آباد کاری کا ایک ویلِڈ منصوبہ پیش کیا ہے۔

اس کے مطابق مریخ کے قطبین پر برف موجود ہے اور مریخ پر قدرتی نہروں کا نظام بھی ہے ۔ مریخ کے بڑے گڑھے سمندر بھی بن سکتے ہیں اگر قطبین پر کسی طرح کا گرین ہاؤس ایفکٹ پیدا کرکے اس برف کو پگھلادیا جائے تو مریخ کے قدرتی نہری نظام کی وجہ سے گڑھے بھر کر سمندر بن جائینگے۔ اگر مریخ پر ہرطرح کے پودوں کے بیچ شاور کردیے جائیں اور اگر کسی طرح وہاں ایک بھی پودا پیدا ہوجائے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بطور خوراک استعمال کرنا شروع کردے گا اور آکسیجن پیدا کرنا۔ اور شجرکاری کا سلسلہ بہت زیادہ تیزرفتار سے شروع ہوجائے گا۔

یہ تو بہت پرانا منصوبہ ہے جب پانی دریافت نہیں ہوا تھا۔ اب تو پانی دریافت ہوگیا ہے۔ اگر پانی دریافت ہوگیا ہے تو جتنا پرانا مریخ ہے ممکن ہے زندگی کی بھی کوئی شکلیں کل کو دریافت ہوجائیں۔ نہ بھی ہوں تو اور بہت سے سیارے ہیں جہاں پانی کےہونے کے توقعات ہیں اور زندگی کے ہونے کی بھی۔

بقول کارل ساگان ’’یہ کائنات حیات سے چھلک رہی ہے‘‘۔ آبادی کا مسئلہ ہو یا ریسورسز کا انسان خود کو سنبھال لیگا۔ مجھے اس بات کا یقین ہے۔ کیونکہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ فرشتوں سے مکالمہ بالآخر خدا نے جیتنا ہے ، جو آج تک ہارتا چلاآیا۔
ادریس آزاد

2538 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 9 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada