لوگ اپنے آپ کو زخمی کیوں کرتے ہیں؟ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

لوگ اپنے آپ کو زخمی کیوں کرتے ہیں؟

cutting-addiction-and-abuse-640x426

 

لوگ اپنے آپ کو زخمی کیوں کرتے  ہیں؟

مزمل پیرزادہ

اپنے ہاتھ کاٹنا یا پھر کسی اور طریقے سے خود کو نقصان پہنچانا  یہ سب طبی بیماریاں ہیں جو تب ظاہر ہوتی ہیں جب مریض خود کو اذیت سے گذارتے ہیں جب وہ گہرے جذبات اور پریشانیوں سے نمپٹنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ایسے جان بوجھ کر خود کو اذیت دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور اس مرض کی مجموعی تعداد کو جاننا بھی خاصا پیچیدہ ہو چکا ہے۔مناسب اور مستعد علاج کسی بھی قسم کے کٹاو کے سنگین نتائج سے بچاو کا بہترین زریعہ ہے۔

اپنے آپ کو کاٹنے کے عمل کے پیچھے کچھ غیر متوقع محرکات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ایسے افراد جو اس قسم کا برتاو کرتے ہیں کئئ بار ایسا  کر کے خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔اکثر اوقات خود کو کاٹنا ہی وہ واحد عمل ہوتا ہے جو وہ جانتے ہیں تاکہ اپنے اندر  موجود ذہنی دباو،غصہ،احساس جرم،خالی پن اور اپنے آپ سے نفرت کرنے  جیسے منفی جذبات سے نمپٹ سکیں۔

اکثرلوگ جو خود کو زخم لگا کر خود کو اذیت دیتے ہیں کیوں کہ اس سے انہیں اپنے رکے ہوے جذبات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے انہیں سکون ملتا ہے۔کسی لت کی طرح ان لوگو ں کے اعمال ان کے مکمل قابو میں نہیں ہوتے ایسے لوگ  کسی شدید قسم کے آرام کی تلاش میں ہوتے ہیں جو کہ انہیں اپنے جسم میں زخم لگانے سے ملتا ہے،۔

تراشندہ  سمجھتا ہے کہ یہ عمل انہیں مثبت  فوائد پہنچاے گا،یہ انہیں ان کے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے اور بے قابو محسوس نہیں ہونے دیتا،اپنے آپ کو زخم دینے سے یہ اپنی توجہ زندگی کے دیگر مشکل مرحلوں سے ہٹا سکتے ہیں۔اس سے انہیں     ان کے اندر موجود احساس جرم سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور یہ ایسا خود کو سزا دے کر کرتے ہیں،اور ایسا کرنے سے کئئ تراشندہ خود کو مذید زندہ محسوس کرتے ہیں۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ لوگ خود کو زخمی کیوں کرتے ہیں کیوں کہ ایک دفعہ آپ اس بات کی وجہ جان جائیں تو آپ ان کو ایسے دوسرے اختیارات فراہم کر سکتے ہیں جو کہ انہیں اسی جیسے فوائد عطا کر سکتے ہیں۔ایسا کرنے سے تراشندہ اس بات کی طرف مائل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زخمی کرنا چھوڑ دے اور دوسرے محفوظ طریقوں کا استمال کرے جس سے وہ اپنے منفی جذبات سے نمپٹ سکے۔

خطرے کے عوامل

خود کو زخمی کرنا یا کاٹنا ایک خطرناک رویہ ہے۔چونکہ ہر مریض خود کو مختلف وجوہات کی وجہ سے زخمی کرتا ہے،ایسے میں ان گروہوں کے درمیان کچھ مشترکیات بھی دیکھی گئئ ہیں۔اس میں کچھ یقینی خطرات ہیں جو کہ ایک فرد کو خود کو زخمی کرنے پر شدید خطرات میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ خطرے والے عوامل خود کو کاٹنے کے مرض کی تشخیص کا کام کرتے ہیں۔تاہم یہ عوامل ہمیشہ  خود سے کاٹنے کی طرف  راغب نہیں کرتے۔ایک مکمل امتحان ضروری ہوتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ ایک فرد اپنے آپ کو آخر کیوں زخمی کر رہا ہے۔

یہ کیسے بتایا جا سکتا ہے کہ ایک محبت کرنے والا خود کو زخمی کر رہا ہے۔؟

کپڑے سے چھپا کر اور اپنے برتاو میں سکون پیدا کر کے کاٹنے اور خود کو اذیت دینے کے عمل کو باآسانی چھپایا جا سکتا ہے۔آپ کا پیارا ہو سکتا ہے اندرونی ہلچل کا شکار ہو مگر اس کا وہ درد اس کے چہرے پر واضح نہیں ہو گا۔تاہم یہاں پر انتباہ کی نشانیاں ہیں جو کہ آپ کو بیماری کی شناخت کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔اگر آپ کو ایسی نشانیاں اپنے پیاروں میں دیکھائئ دیں،تو یہ ضروری ہے کہ مدد تلاش کی جاے۔علاج کے بغیر کاٹنے کا عمل دیگر خطرناک سرگرمیوں کی طرف جانے کا رجحان بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

کاٹنے کی شدت جانچنا

ایک بار تشخیص قائم  ہو جاے تو ڈاکٹرز کاٹنے کی بیماری کی  شدت کو ماپنے ہیں۔وہ ایک لڑی میں انٹرویو لیتے ہیں جو کہ بیماری کی حد    اور علاج کی تاثیر کی  نشاندہی کرتی ہے۔

وہ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ مریض نے کاٹنا کب شروع کیا،اس میں کتنی کثرت ہوتی تھی،کون سے محرکات تھے جو کہ کاٹنے کے عمل کی جانب لے گئے،کوئئ بنیادی وجوہات،اور یہ کہ کیا مریض کو کبھی خود کشی کرنے کا خیال آیا۔ڈاکٹرز سابقہ زہنی بیماریوں کے بارے میں بھی پوچھ سکتے ہیں۔اور اس کے بعد کس قسم کا علاج مریض کو میسر آئا،مریض کے مستقبل کے ارادے اور اس کے سماجی تعلقات کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔

یہ تمام سوال ڈاکٹرز کو بیماری کی شدت اور علاج کا بہترین طریقہ معین کرنے میں مدد کرتے ہیں۔کچھ معتدل مقدمات میں مریض کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک  حمائتی گروپ کا حصہ بنیں جو کہ انہیں ان کی جذباتی کشیدگی سے نمپٹنے میں مدد کرے گا۔

مذید شدید مقدمات میں شدید قسم کی کردارسازی سے متعلق ایک تھراپی اور نفسیاتی تشخیص کی ضرورت پیش آتی ہے۔اور اس قسم کے مقدمات میں علاج کا طریقہ ادویات کے زریعے کیا جاتا ہے۔اس طرح کے علاج کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام طرح کی بنیادی نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کیا جاے اور مریض کو طاقتور منفی جذبات سے نمپٹنے کے متبادل طریقے بتاے جائں۔

پیپچیدگیاں

طویل مدت کےلیے خود کو کاٹنے کا عمل جذباتی بحران کے خاتمے میں مدد نہیں کرتا،اور اکثر اوقات مختلف انواع کی پیچیدگیوں کی طرف لے جاتا ہے۔کچھ پیچیدگیاں نسبتاً معمولی ہوتی ہیں جن کو بدلا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے کچھ ایسی پیچیدگیاں بھی ہیں جو کہ دائم اور ناقابل علاج ہیں۔

 خود کو کاٹنے کا عمل دراصل ایک فرد کے شرم یا پھر احساس کمتری  کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔کاٹنے کا عمل عارضی طور پر منفی جذبات کے خاتمے کا باعث بنتا ہے مگر یہ طویل مدتی جذباتی مسائل کے خاتمے کا باعث نہیں بنتا۔ایسے میں جذبات وقت کے ساتھ تعمیر ہوتے رہتے ہیں اور یہ مریض کو  مذید مغلوب کر دیتے ہیں۔

کاٹنے کے عمل سے انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔چاہے وہ زخم خود سے لگایا جاے یا پھر کاٹنے کے اوزاروں کے زریعے ۔کچھ تراشندہ حفظان صحت کا خیال نہیں رکھتے اور جس سے وہ معتدی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ آلودہ کاٹنے کے اوزاروں کو استمال میں لانے سے ہوتا ہے۔ایسے بھی کچھ مقدمات سامنے آے ہیں جس میں کچھ تراشندہ حفظان صحت کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر گئے۔

اگر اہم شریان یا پھر رگ کٹ جاے تو اس بات کا رسک بڑھ جاتا ہے کہ مریض مسلسل  خون بہنے کی وجہ سے  مر جاے۔اگر خون مسلسل بہ رہا ہو تو اکثر انیمیا کا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے،جسے خون کی کمی کا مرض کہا جاتا ہے،جو کہ جسم میں موجود دوسرے اعضاء  کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

خود کشی کا خطرہ( چاہے وہ حادثاتی طور پر ہو یا پھرارادتاً ہو) ان لوگوں میں بڑھ جاتا ہے جو کہ خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔حادثاتی خودکشی میں مریض غیر ارادی طور پر اپنی اہم رگ یا شریان کاٹ بیٹھتا ہے۔معاملات اور بھی بدتر ہوتے ہیں جب یہ مریض  خود کو نشے کے زیر اثر آ کر کاٹ ڈالتے ہیں۔اور یہ عناصر خودکشی کے امکانات کو بڑھا دیتے ہیں۔

مستقل نشانات اور خوفناک انحراف بھی اس کے اعوارض میں شامل ہیں۔کچھ مقدمات میں،تراشندہ اپنی کوئئ اہم نس یا رگ  کاٹ ڈالتا ہے جس سے اس کے ہاتھ اور پاوں پر اس کا قابو کم ہوتا چلا جاتا ہے۔کچھ مقدمات میں ان کے کام کو پھر سے رواں کیا جا سکتا ہے مگر دوسرے مقدمات میں،ان کے اعضاء مکمل طور پر جواب دے جاتے ہیں۔

طویل مدتی مقدمات میں رویوں میں کافی جبر پیدا ہو جاتا ہے،تراشندہ اس وقت اور جگہ کی تلاش میں سرگرم رہتے ہیں جہاں پر وہ خود کو کاٹ سکیں،حتی کہ وہ چاہیں یا نا چاہیں،وہ خود کو کاٹنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

دستاندازی کی ضرورت۔

ایک بار اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ آپ کا پیارا خود کو زخم دیتا ہے،تو آپ یقینی طور پر اس کی مدد کرنا چاہیں گے۔صحت کی دیکھ بھال کرنے والے     پیشہ ور ہمیشہ تیار رہتے ہیں کہ وہ  اس بیماری کا علاج کر سکیں۔مگر آپ کے لیے اپنے عزیز کو علاج کے لیے منانا کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ایسے لوگ جو خود کو زخمی کرتے ہیں کافی کم گو ہوتے ہیں اور اپنے اعمال کسی کے ساتھ نہیں بانٹتے۔اگر آپ بغیر تیاری کے اپنے عزیز کے سامنے جائں گے تو وہ آپ سے غصۓ اور انکاری انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کرے گا۔

اس کے لیے آپ کو دست اندازی کی مکمل منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔دست اندازی کے لیے کسی محفوظ اور خفیہ جگہ کا ہونا ضروری ہے تاکہ آپ کی ٹیم اور آپ کا عزیز ایک ہمدردانہ مباحثہ کر سکتیں۔ آپ کی ٹیم  اور آپ کے عزیز کے درمیان ایک مناسب بات چیت شروع کی جا سکتی ہے۔دستاندازی میں ذاتی احساسات اور جذبات کا اظہار اس بات کی فکر کیے بغیر کیا جا سکتا ہے کہ تعلقات کو کوئئ چوٹ پہنچے گی یا پھر تعلقات خراب ہوں گے۔کیوں کہ اس دست اندازی میں موجود تمام لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ اس بحث کا اصل مقصد تراشندہ کی مدد کرنا ہے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سب اس کی حقیقی معنوں میں قدر کرتے ہیں۔

کسی پیشہورانہ دست انداز کی مدد لینا بھی اچھا خیال ہے۔کسی اچھی منصوبہ بندی کے بغیر آپ ترانشدہ کے اندر مذید زہنی دباو ،غصہ اور احساس جرم پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک پیشہورانہ معالج نے بہت سے مقدمات کی تشخیص کی ہوتی ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس مریض کے ساتھ کس قسم کا برتاو کرنا ہے اور کون سے قسم کی دستاندازی کا طریقہ بہترین رہے گا۔۔

2917 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada