کتاب:انسان بڑا کیسے بنا...........حصہ دوئم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

کتاب:انسان بڑا کیسے بنا………..حصہ دوئم

مصنف:ایلین اور سیگال
مترجم :منیب احمد ساحل

جنگل کی سیر
جنگل میں گھومتے وقت تم نظر نہ آنے والی دیواروں کو پار کرتے رہتے ہو اور جب تم درخت پر چڑھتے ہو تو تمہارا سر نظر نہ آنے والی چھتوں کو پار کرتا رہتا ہے۔ ایک بڑے مکان کی طرح پورا جنگل منزلوں اور فلیٹوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ان سب کا وجود واقعی ہے چاہے وہ تمہیں نظر نہ آئیں۔ پھر بھی یہ سچ ہے کہ جنگل میں گھومتے وقت تم دیکھتے ہو کہ وہ بدلتا رہتا ہے۔
مثلاً تم دیکھو گے کہ اچانک چیڑ کے درختوں کی جگہ صنوبر کے پیٹر آگئے اور بعض جگہ صنوبر دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ لمبے ہیں۔ یہاں تم سبز کائی کے قالین پر چل رہے ہو اور وہاں زمین گھاس یا سفید کائی سے ڈھکی ہوئی ہے۔
شہر والے کے لئے یہ سب جنگل ہے لیکن اگر جنگلات کے کسی ماہر سے پوچھا جائے تو ہو کہے گا کہ یہاں ایک نہیں چار جنگل ہیں۔ مثلاً تم نشیب میں چیڑ کے درختوں کی گپھا دیکھو گے جہاں فرش پر کائی کا انتہائی دبیز قالین ہے۔ اس کے آگے ریتیلی ڈھلان پر گہرے ماشی رنگ کی کائی کے درمیان صوبرکے پیٹر ہیںجن کے چاروں طرف لال نیلی گوندنیوں کی جھاڑیاں ہر جگہ نظر آئے گی۔ اور اوپر ریتیلی پہاڑیوں پر سفید مائل ماشی رنگ کی کائی کے درمیان صنوبروں کا جھنڈ ہو گا اور آگے نم جگہ میں گھاس سے ڈھکا ہوا صنوبروں کا قطعہ ملے گا۔
دیکھو، تم تین دیواروں کے بیچ سے گذر گئے جو جنگل کی چار دنیائوں کو ایک دوسرے سے علحدہ کرتی ہیں لیکن تم نے اس طرف دھیان بھی نہ دیا۔
اگر گھروں کی طرح جنگلوں میں بھی نام کی تختیاں لگی ہوتیں تو تم کو چیڑ کے جنگل میں درختوں پر کراس بل جنگلی مرغی اور تین انگلیوں والے ہد ہد کی تختیاں لٹکتی نظر آئیں اور پتیوں والے درختوں کے جنگل میں دوسری قسم کی تختیاں یعنی سبز اور پھدکی وغیرہ کی۔
ہر جنگل کئی منزل ہوتا ہے۔
صنوبر کے جنگل میں دو اورکبھی کبھی تین منزلیں بھی ہوتی ہیں۔ نچلی منزل کائی یا گھاس کی ہوتی ہے۔بیچ والی جھاڑیوں کی اور اوپری منزل صنوبر کے درختوں کی ہوتی ہے۔

جنگل کے دو باسی__ہُد ہُد اور کراس بل

شاہ بلوط کے جنگل میں تو سات منزلیں ہوتی ہیں۔ سب سے اوپر والی بلوط، ایش، لینڈن اور چنار کی چوٹیوں سے بنی ہوتی ہے اور ہوا میں بلندی پر لہراتی رہتی ہے۔ گرمیوں میں وہ ایک سرسبز چھت بن جاتی ہے او رخزاں میں رنگا رنگ ہو جاتی ہے۔ عظیم الشان بلوطوں کی چوٹیوں سے آدھی بلندی تک پہاڑی ایش، جنگلی سیب اور ناشپاتی کے درختوں کی کلغیاں بھی پہنچتی ہیں۔
ان کے نیچے جھاڑ جھنکار کا ایک جال پھیلا ہوتا ہے۔ جھاڑیوں کے نیچے پھول اور گھاسیں ہوتی ہیں۔ یہ بھی تہہ بہ تہہ اگتی ہیںاور زمین سے بالکل قریب نرم کائی ہوتی ہے۔
جنگل کاگودام زیر زمین ہوتا اوریہاں ہم کودرختوں اور جھاڑیوں کی جڑیں ملتی ہیں۔
صنوبر یا پتے دار درختوں کے جنگلوںکی ہر منزل کے اپنے باشندے ہوتے ہیں۔ شکرہ اپنا گھونسلا سب سے بلندی پر بناتا ہے۔ اس کے نیچے کسی درخت کے کھوکھلے میں ہدہد اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے۔ کستورا نے کٹیلے کی جھاڑی میں بسیرے کا انتظام کیا ہے۔ نچلی منزل میں رہنے والی بن مرغی ادھر ادھر دوڑتی رہتی ہے۔ زیر زمین گودام میں جنگلی چوہوں کی سرنگیں اورکھر ہوتے ہیں۔
اس بڑے گھر میں ہر قسم کے کمرے ہوتے ہیں۔ اوپر کی منزلوں میں دھوپ آتی ہے اور خشکی رہتی ہے۔ نچلی منزل میں اندھیرا اور نمی پائی جاتی ہے۔ ایسے سرد کمرے بھی ہوتے ہیں جو صرف گرمیوں میں ہائس کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور گرم کمرے بھی ہیں جن میں سارے سال رہا جا سکتا ہے۔
زمین کے اندر بل گرم رہتا ہے۔ ایک ایسے بل کا درجہ حرارت ناپا گیا جس کی گہرائی ڈیڑھ میٹر تھی۔ یہ جاڑوں کی بات ہے جب باہر درجہ حرارت -18 سنٹی گریڈ تھا لیکن بل کے اندر _8سنٹی گریڈ تھا۔
درخت کے کھوکھلے میں اس سے کہیں زیادہ سردی ہوتی ہے۔ یہاں تو جاڑوں میںکوئی جانور ٹھٹھر کر جم بھی سکتا ہے۔ لیکن گرمیوں میں یہ بڑی اچھی جگہ ہوتی ہے خصوصاً الوئوں چمگاڈروں کے لئے جو ہمیشہ ”رات کی پالی” میں نظر آتے ہیں اور دن بھی کسی اندھیرے کمرے میں سورج سے چھپ کر اونگھنا پسند کرتے ہیں۔
انسان تواکثر اپنی رہائش گاہ بدلتا رہتا ہے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر، ایک منزل سے دوسری منزل چلا جاتا ہے۔ لیکن جنگل میں عملی طو رپر یہ ناممکن ہے۔
بن مرغی اپنے تاریک اور نم گھرکو کسی خشک، روشن بالاخانے سے کبھی نہ بدلے گی۔ اور شکرہ جو بالاخانے کا دلدادہ ہے یہ کبھی نہ پسند کرے گا کہ اس کا گھونسلا نچلی منزل پر کسی درخت کی جڑ کے پاس ہو۔

جنگل کے قیدی
تھوڑی دیر کے لئے مان لو کہ ایک گلہری نے پھد کنے والے چوہے سے گھر کا تبددلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ گلہری توجنگل میں رہتی ہے اور پھدکنے والا چوہا کھلے استیپ یا ریگستان میں۔
گلہری کا گھر درخت میں اونچائی پر ہوتا ہے کھوکھلے میں یا ڈالیوں کے درمیان اور پھدکنے والا چوہا زمین کے اندر بل میںرہتا ہے۔
اب اپنے نئے گھر تک پہنچنے کے لئے پھدکنے والے چوہے کو درخت پر چڑھنا پڑے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا کیوں کہ اس کے پنجے درختوں پر چڑھنے والے نہیں ہوتے۔
دوسری طرف گلہری بھی زمین کے اندر نہیں رہ سکتی۔ اس کی تمام عادتیں اور طور طریقے تو درختوں پر رہنے والوں کے ہوتے ہیں۔
ہم اس کی دم اور پنجے ہی دیکھ کر بتاسکتے ہیں کہ وہ کہاں رہتی ہے۔
گلہری کے پنجوں کی بناوٹ شاخیں پکڑنے، اخروٹ اور صنوبر کے پھل درختوں سے چننے کے لئے ہوتی ہے اور اس کی دم ا یک اڑن چھتری کا کام کرتی ہے جو اس کا ایک شاخ سے دوسری شاخ تک لمبی چھلا نگ مارنے میں مدد دیتی ہے۔ جب کوئی شکاری جانور اس پر جھپٹتا ہے تو بھاگنے اور جست لگانے میں بھی اس کی دم کام آتی ہے۔
لیکن استیپ کے پھدکنے والے چوہوں کے پنجوں اور دم کی ساخت توگلہری سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ مسطح، کھلے استیپ میں تو پناہ کیلئے نہ کوئی جھاڑی ہوتی ہے اور نہ درخت۔ دشمن سے بچ نکلنے کا بس یہی واحد طریقہ ہے کہ بھاگ کر غائب ہو جائے یعنی زمین کے اندر گھس جائے۔ اور یہی پھدکنے والا چوہا کرتا بھی ہے۔ جب وہ کسی الو یا عقابی الو کو دیکھتا ہے تو پھد کتا ہوا اس سے بھاگتا ہے اور زیر زمین اپنی بل میں گھس جاتا ہے۔ اسی لئے اس کیے پنجے ایسے ہوتے ہیں۔ اچھلتے وقت وہ اپنے لمبے پچھلے پیر آگے کی طرف زور دینے کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے سامنے کے چھوٹے پیر زمین کھودنے کے لئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دشمنوں سے بل میں پناہ لیتا ہے جو اس کو گرمیوں میں گرمی اور جاڑوں میں سردی سے بھی بچاتا ہے۔
اور اس کی دم کا کیا استعمال ہے؟ پھدکنے والے چوہے کی دم اس کے پنجوں کی بہترین مدد گار ہوتی ہے۔ جب یہ چھوٹا ساجانور اپنے پچھلے پیروں پر بیٹھ کر چاروں طرف دیکھ بھال کرتا ہے تو اس کی دم اس کوتیسرے پیر کی طرح سہارا دیتی ہے اور جب وہ جست لگاتا ہے تو اس کی دم رخ بدلنے والے آلے کا کام دیتی ہے۔ اگر اس کی دم نہ ہو تو پھدکنے والا چوہا ہر بار جست لگانے میںہوا میں قلا کھا کر دھم سے زمین پر آرہے۔
اس لئے اگر گلہری اور پھدکنے والا چوہا اپنے گھروں کا تبادلہ کریں، استیپ کو جنگل سے بدلیں اور کھوکھلے کو بل سے تو ان کو اپنی دمیں اور پنجے بھی بدلنے ہوں گے۔
اگر ہم جنگل اور استیپ کے دوسرے باسیوں کا گہرا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ سے ایک نظر نہ آنے والی زنجیر کے ذریعے بندھا ہے، ایسی زنجیر سے جس کو توڑنا بہت مشکل ہے۔
بن مرغی جنگل کی نچلی منزل میں رہتی ہے کیونکہ اس کی من بھاتی غذا تو گودام میںہوتی ہے۔ اس کی لمبی چونچ خاس طور سے زمین کے اندر سے کینچوئوں کو کھینچ لانے کے لئے بنی ہے۔ چونکہ بن مرغی کے لئے درخت پر کوئی دلچسپی نہیں ہے اس لئے وہ درخت پر کبھی نہیں ملے گی۔
لیکن تم کو تین انگلیوں یا شوخ رنگ کا بڑا ہد ہد شاز ونادر ہی زمین پر ملے گا۔ اس کا کام تو سارا دن کسی چیڑ یا بھوچ کے درخت کے تنے پر ٹھونگیں مارنا ہے۔
وہ کیوں ٹھونگیں مارتا ہے؟ وہ کیا تلاش کرتا ہے ؟
اگر تم چیڑ کے درخت کی چھال کا ایک ٹکڑا چھڑا لو تو دیکھو گے کہ تنے پر ٹیڑھی میڑھی لائنیں ہر طرف چلی گئی ہیں۔ یہ نقاشی، چھال کے کیڑے کی بنائی ہوئی سرنگیںہیں جو اس نے لکڑی چبا چبا کر بنائی ہیں۔ ہر ٹیڑھی لائن کے آخر میں ایک چھوٹا دندانہ ہوتا ہے اور ہر دندانے میں اس کیڑے کا انڈا منجھ روپ میں تبدیل ہو کر کیڑا بنتا ہے۔ کیڑا چیڑ کے درخت کا عادی ہو گیا ہے اور ہدہد کیڑے کا۔ ہدہد کی سخت چونچ آسانی سے درخت کی چھال کو پھاڑ دیتی ہے اور اس کی زبان اتنی لمبی اور لوچدار ہوتی ہے کہ وہ ٹیڑھی میڑھی لائنوں پر لہراتی ہوئی جاتی ہے اور انڈوں کو ہڑپ کر لیتی ہے۔
اس طرح ایک زنجیر سی ہے: چیڑ کا درخت، چھال کا کیڑا اور ہد ہد۔ یہ ان زنجیروں میں سے صرف ایک ہے جنہوں نے ہد ہد کو درخت اور جنگل کا پابند بنا رکھا ہے۔
یہاں درخت پر اسے اپنی غذا ملتی ہے۔ صر ف چھال کا کیڑا ہی نہیں بلکہ دوسرے کیڑے اور ان کے انڈے بھی۔ جاڑوں میں ہد ہد بڑی صفائی کے ساتھ صنوبر کے مخروطی پھلوں کو درخت کے تنے اور کسی شاخ کے درمیان رکھ کر ان کے بیج نکال لیتا ہے۔ ہدہد اپنے کنبے کیلئے کسی درخت کے تنے میں کھوکھلا بناتا ہے۔ اس کی سخت دم اور پنجوں کی طرح مضبوط چنگل اس کو تنے پر چڑھنے اترنے میں مدد دیتے ہیں تو پھر وہ اپنی درختوں کی زندگی کو کسی دوسری چیز سے کیوں کر بدل سکتا ہے؟
ہم دیکھتے ہیں کہ ہدہد اور گلہری جنگل کے باسی نہیں، بندی ہیں۔00 001

 

4014 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد