کتاب:انسان بڑا کیسے بنا......حصہ سوئم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

کتاب:انسان بڑا کیسے بنا……حصہ سوئم

مچھلیاں خشکی پر کیسے آئیں

جنگل کی چھوٹی موٹی دنیا ان بہت سی ننھی منی دنیائوں میں سے ہے جن سے مل کر بڑی دنیا بنتی ہے۔
اس دھرتی پر صرف جنگل اور استیپ ہی نہیں ہیں۔ یہاں پہاڑ، ٹنڈرا، سمندر اور جھیلیں بھی ہیں۔
ہر ایک پہاڑ پر نظر نہ آنے والی دیواریں ایک چھوٹی سی دنیا کو دوسری دنیا سے الگ کرتی ہیں۔
اور ہر سمندر ان دیکھی چھتوں کے ذریعہ منزلوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
ساحل پر لہروں سے ٹکرانے والی چٹانیں بے شمار گھونگھوں سے ڈھکی ہوتی ہیں۔ وہ ان چٹانوں سے اتنی مضبوطی سے چپک جاتے ہیں کہ بڑے سے بڑا طوفان بھی ان کو چٹانوں سے نہیں جدا کر سکتا۔
اور آگے دھوپ سے روشن پانی میں، سبز اور بادامی سمندری گھاس کے درمیان رنگ برنگی مچھلیاں اچھلتی نظر آتی ہیں، شفاف جیلی مچھلیاں ادھر ادھر تیرتی ہیں۔ اور ستارہ مچھلیاں آہستہ آہستہ تہہ کے قریب تیرتی رہتی ہیں۔ زیر آب چٹانیں انکھوکے جانوروں سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ زیر آب چٹانیں انوکھے جانوروں سے ڈھکی ہوئی ہیں جو پودوں کی طرح غیر متحرک ہیں۔ ان کو اپنی غذا نہیں تلاش کرنی پڑتی۔ وہ خود ان کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ یہ سرخ ہیں جو دو منہ والی صراحی کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ ان کو ان چھوٹے چھوٹے کیروں سے غذا ملتی ہے جو وہ پانی کے ساتھ چوس لیتے ہیں۔ چمکدار شقیق البحر اپنے پنکھڑیوں جیسے چنگلوں میں ان مچھلیوں کو گرفتار کر لیتے ہیں جو ان کے بالکل قریب آجاتی ہیں۔
سمندر کی تہہ میں، اس کی تاریک فرش پر، جہاں رات ہی رہتی ہے، دن کبھی نہیں آتا، جہاں ہمشیہ تاریکی چھائی رہتی ہے بالکل ہی مختلف دنیا ہے۔ سمندر کی گہرائیوں تک روشنی نہیں پہنچتی اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں سمندری گھاس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا جس کو روشنی کی ضرورت نہیںہوتی ہے۔
سمندر کی تہہ ایک وسیع قبرستان ہے جہاں جانوروں اور پودوں کی باقیات اوپر سے نیچے آتی رہتی ہیں۔
دس پیروں اور لمبے چنگلوں والے کیکڑے کیچڑ میں رینگتے رہتے ہیں۔ چوڑے منہ والی مچھلیاں اندھیرے میں تیرتی ہیں کچھ کے تو آنکھیں ہوتی ہی نہیں۔ کچھ کے دو آنکھیں ہوتی ہیں جو دور بین کی طرح باہر نکلی ہوتی ہیں۔ایسی مچھلیاں بھی ہوتی ہیں جن کے جسم پر آتشیں گل ہوتے ہیں۔ وہ ننھے منے جہازوں کی طرح معلوم ہوتی ہیں جن کی کھڑکیوں کی روشنی جھلک رہی ہو۔ ایسی مچھلیاں بھی ہوتی ہیں جن کا اپنا منارہ نور ہوتا ہے۔ وہ ان کے سر سے اوپر کی طرف نکلا ہوتا ہے اور چمکتا ہے۔
یہ نرالی دنیا ہمارے دنیا سے کتنی مختلف ہے!
لیکن سمندری ساحل کی اتھلے پانی کی پٹی بھی خشک زمین سے کتنی الگ ہے حالانکہ ان کو ایک واحد خط، ساحل کا خط علحدہ کرتا ہے۔
کیا ایک دنیاکے باسی دوسری دنیا کو منتقل ہو سکتے ہیں؟ کیاکوئی مچھلی سمندر کو چھوڑ کر خشکی پر منتقل ہو سکتی ہے؟
یہ تو بالکل ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ مچھلی کی زندگی تو پانی سے وابستہ ہے۔ خشکی پر رہنے کے لئے اس کو گلپھڑوں کی بجائے پھیپھڑوں کی او رپروں کی بجائے پیروں کی ضرورت ہو گی۔ مچھلی سمندر کی زندگی کی بجائے خشکی کی زندگی اسی وقت اختیار کر سکتی ہے جب وہ مچھلی نہ رہے۔
لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ مچھلیاں مچھلی نہ رہے؟
اگر تم یہ سوال ایک سائنس داں سے کرو تو وہ تم کو بتائے گا کہ لاکھوں سال پہلے بعض قسم کی مچھلیاں واقعی خشک ساحل پر آگئیں اور مچھلیاں نہیں رہیں۔پانی سے خشکی تک کے اس عبوری دور نے سال دو سال نہیں لئے۔ اس میں لاکھوںسال لگ گئے۔
آسٹریلیا کے دریائوں میں جوکبھی کبھی خشک ہوجاتے ہیں ایک قسم کی سینگ مچھلی پائی جاتی ہے جس کی تیرنے کی تھیلی پھیپھڑے کی طرح ہے۔ جب سال کے خشک حصے میں پانی کی سطح کم ہونے لگتی ہے اور دریا صرف گدلے نالے بن جاتے ہیں تو تمام دوسری مچھلیاں مر جاتی ہیں اور پانی کو گندہ کر دیتی ہیں۔ صرف سینگ مچھلی اس خشکی زمانے میں بھی زندہ رہتی ہے کیونکہ گلپھڑوں کے علاوہ اس کے پھیپھڑے بھی ہوتے ہیں اور جب اس کو ہوا کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنا سر پانی سے باہر نکال دیتی ہے۔
افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ایسی اورجنوبی امریکہ میں ایسی بھی مچھلیاں ہیںجو بغیر پانی کی بھی رہ سکتی ہیں۔ وہ خشکی کے زمانے میں ریت کے اندر گھس جاتی ہیں اور بے حس وحرکت پڑی رہتی ہیں، صرف اپنے پھیپھڑوں سے سانس سانس لیتی ہیں یہاں تک کہ برسات کا موسم پھر آجاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مچھلیاں پھیپھڑے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
لیکن پیروں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ہاں، وہ پیر بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے لئے تو زندہ مثالیں موجود ہیں۔ گرم منطقوں میں خشکی پر پھدکنے والی مچھلیاں ہوتی ہیں جو صرف ساحل پر پھدکتی ہی نہیں بلکہ درختوں پر بھی چڑھ جاتی ہیں۔ ان کے جوڑواں پر پیروں کا کام دیتے ہیں۔
یہ تمام انوکھی ہستیاں اس بات کا زندہ ثبوت ہیںکہ مچھلیاں پانی سے نکل کر خشکی پر آسکتی تھیں۔ لیکن ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ واقعی ایسا ہی ہوا؟
معدوم جانوروں کی ہڈیاں ہمیں یہ داستان بتاتی ہیں۔ زمین کی قدیم پرتوں کی کھوج میں ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کرتے ہوئے ایک ایسے جانور کی ہڈیاں پائی ہیں جو بڑی حد تک مچھلی سے مشابہ ہے پھر بھی وہ مچھلی نہیں تھا۔ یہ مینڈک یا ٹرائٹن کی طرح جل بھومی جانور تھا۔ اس جانور کو کہا جاتاہے۔ اس کے پروں کی بجائے باقاعدہ پانچ انگلیوں والے پیر تھے۔ جب وہ تھوڑی مدت کے لئے کنارے پر آتا تو وہ ان پیروں کی مدد سے آہستہ آہستہ چل سکتا تھا۔
آئو، اب ذرا معمولی مینڈک کو غور سے دیکھیں۔ جب وہ انڈے سے نکلتا ہے تو دمدار ہوتا ہے۔ اور اس کے اور مچھلی کے درمیان بہت کم فرق ہوتا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لاکھوں سال پہلے مچھلی کی بعض قسموں نے اس دیوار کو پار کر لیا جو سمندر اور خشکی کے درمیان حائل تھی لیکن اس عبوری دور میں ان میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔ جل بھومی جانور مچھلی کی اولاد ہیں اور خود رینگنے والے جانور کے اجداد میں ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کے قدیم اجداد رینگنے والے جانور ہیں۔ ان میں سے بہتیرے ایسے بھی ہیں جو پانی کو بالکل بھول چکے ہیں۔

بے زبان گواہ
پتھرائے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں اس بات کی بے زبان گواہ ہیںکہ جانداروں میںلاکھوں برسوں کے دوران میں تبدیلیاں ہوئیں۔
ان میں کس طرح تبدیلی پیدا ہوئی؟
انگریز سائنس داں چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا پیش کرنے سے پہلے یہ ایک راز تھا۔جوکام ڈارون نے شروع کیا تھا اس کو دو روسی سائنس دانوں کووالیفسکی اور تیمیریا زیف نے جاری رکھا اور جب انہوں نے اپنا وسیع مطالعہ پایہ تکمیل تک پہنچا لیا تو ہم کو وہ باتیں سمجھا دیں جو ہمارے دادا کبھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔
دنیا میں ہر جاندار کا وجود اپنی جگہ کی مناسبت سے ہے، اس فضا اور ماحول کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے۔ لیکن دنیا میں کچھ بھی یکساں نہیں رہتا۔ گرم آب وہوا سرد ہو جاتی ہے اس جگہ پہاڑ نمودار ہو جاتے ہیں جہاں پہلے میدان تھے، سمندر کی جگہ خشکی لے لیتی ہے، صنوبر کے جنگلوں کی جگہ پتیوں والے جنگل آجاتے ہیں۔
اور جب چاروں طرف کی چیزیں بدلتی ہیں تو وہاں کے جانداروں پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟
وہ بھی بدلتے ہیں۔
بہتر حال یہ ان کے طے کرنے کی بات نہیں ہوتی کہ وہ کیسے بدلیں گے۔ کوئی ہاتھی اچانک اپنی خوراک بدل کر پتوں، گھاس اور پھلوں کی جگہ گوشت تو نہیں کھانے لگے گا۔ کوئی ریچھ یہ نہیں کہہ گا کہ ”مجھے گرمی لگتی ہے۔ میں اپنی بالدار جھبری کھال اتار دوں”۔
جاندار اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدلتے۔ وہ بدلتے ہیں کیونکہ وہ نئی طرح کی غذائیں کھائے اور نئے حالات میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور جو تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ تو ان کی بھلائی کے لئے یا کار آمد نہیں ہوتی ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جانور یا پودے نئے حالات میں رفتہ رفتہ ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی کے لئے جو چیزیں ضروری ہیں وہ ان کو نہیں ملتیں جیسی کہ ان کے اجداد کو ملتی تھیں۔
وہ بھوک اور سردی سے مرجاتے ہیں یا شاید ان کو غیر معمولی گرمی اور خشکی ستاتی ہے۔ وہ ا پنے دشمنوں کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے اولاد اور بھی بیمار ہوتی ہے اور نئے حالات میں زندہ رہنے کی نسبتاً کم صلاحیت رکھتی ہے۔ آخر میں یہ پوری کی پوری قسم ختم ہو جاتی ہے کیونکہ وہ تبدیلیوں پرقابو نہیں پا سکتی۔
لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جانداروں میں ایسی تبدیلیاں ہوں جو کارآمد ہوں، نقصان دہ نہ ہوں۔ ساز گار حالات میں ایسی کار آمد تبدیلیاں آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتی ہیں۔ ان میں اضافہ ہوتا ہے اوروہ مضبوط ہو جاتی ہیں۔
وقت گذرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نسلیں اپنے اجداد سے مشابہت نہیںرکھتیں، ان کی فطرت ہی بدل جاتی ہے۔ وہ ایسے حالات میں رہ سکتی ہیں جو ان کے اجداد کے لئے مضرت رساں ہوتیں۔ وہ رہن سہن کے نئے حالات سے مانوس اور ان کی عادی بن جاتی ہیں۔ یہاں فطری انتخاب کارفرما نظر آتا ہے۔ وہ جاندار جو اپنے کو نئے حالات کا عادی نہیںبنا سکے تباہ ہوگئے اورجن سے ایسا ممکن ہوا وہ باقی رہ گئے۔
ایسی بہت سی مثالین ہیں کہ ماحول کی تبدیلی سے جاندار مخلوق کی فطرت بدل جاتی ہے۔
یہ بات اس سے واضح ہوتی ہے کہ مچھلیاں رفتہ رفتہ تبدیل ہو کر جل بھومی مخلوق بن گئی ہیں۔
اس کی ابتدا زمانہ تاریخ سے قبل کے پایاب سمندروں اور جھیلوں سے ہوئی تھی جو رفتہ رفتہ سوکھ رہے تھے۔ مچھلی کی وہ قسمیں جو اپنے کو زندگی کے نئے طریقے کا عادی نہیں بنا سکیں مرنے لگیں اور صرف وہ قسمیں بچیں جنہو ںنے طویل مدت تک بغیر پانی کے رہنا سیکھ لیا۔ خشک موسم میں وہ یا تو ریت میں گھس جاتی تھیں یا قریب ترین جوہڑ میں۔وہ اپنے پروں کو پیروں کی طرح استعمال کرتی تھیں۔ قدرت نے چھوٹی سی چھوٹی جسمانی تبدیلی کا استعمال کیا جو خشکی پر کار آمد ہو سکتی تھی۔ ان مچھلیوں کی تیراکی کی تھیلی رفتہ رفتہ پھیپھڑوں میں تبدیل ہو گئی۔ اور جوڑی دار پروں نے پیروں کی شکل اختیار کر لی۔
اس طرح پانی کے کچھ باسیوں نے اپنے کو خشکی کی زندگی کا عادی بنا لیا۔ تبدیلی کی صلاحیت ہی نے مچھلی کے پروں، اس کی تیراکی کی تھیلی اور جسمانی ساخت کو نئے ماحول کے مطابق تبدیل کر دیا۔
انتخاب نے صرف تبدیلیاں برقرار رکھیں جو کار آمد تھیں اور جو مضرت رساں تھیں ان کو ختم کر دیا۔
نسلی وراثت نے ان کا رآمد تبدیلیوں کو آئندہ نسلوں میں منتقل کیا، ان میں اضافہ کیا اوران کو مضبوط بنایا۔
کووالیفسکی نے گھوڑے کی تاریخ کے بارے میں تحقیقات کر کے ایک اور واضح مثال پیش کی ہے۔
واقعی یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ گھوڑا ایسے چھوٹے جانور کی اولاد ہے جو کسی زمانے میں گھنے جنگلوں میں رہتا تھا اور گرے پڑے درختوں کے اوپر سے صفائی کے ساتھ چھلانگ لگاتا تھا۔ اس چھوٹے جانور کے گھوڑے جیسے کھر نہیں تھے۔ اس کے پیر چھوٹے اور ان میں پانچ انگلیوں والے پنجے تھے۔ اس سے اس کو جنگل کی ناہموار زمین پر قدم جماکر چلنے میں مدد ملتی تھی۔
وقت آیا کہ یہ بڑے جنگل چھدرے ہونے لگے اور ان کی جگہ میدانوں نے لے لی۔ اب گھوڑے کے جنگلی باسی بزرگوں کو اکثر کھلے میدان میں آنا پڑتا تھا۔ خطرے کی حالت میں یہاں جنگل کی طرح پناہ کی کوئی جگہ نہ تھی۔ فرار کا طریقہ محض تیز رفتاری تھی۔ جنگلوں میں چھپنے کا جو طریقہ تھا وہ میدانوں میں نہیں رہا۔ اس کی جگہ بھاگ دوڑ نے لے لی اور بہت سے جنگلی جانور تعاقب میں ختم ہو گئے۔ درندوں سے صرف وہی بچے جن کی ٹانگیں سب سے لمبی اور تیز رفتار تھیں۔
ایک مرتبہ پھرقدرت نے اپنے انتخاب سے کام لیا، اس نے ہر اس تبدیلی کو تلاش کر کے محفوظ رکھا جوجانور کو تیز دوڑنے میں مدد دیتی تھی اور ہر اس چیز کو رد کر دیا جو دوڑنے میں استعمال نہیں ہو سکتی تھی۔
گھوڑے کے بزرگوں کو زندگی کی آزمائشوں نے یہ دکھایا کہ تیز ڈوڑنے والے جانوروں کے پیروں میں بہت سی انگلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ مضبوط اور سخت وہ تو بس ایک کافی ہے۔ ایک زمانے میں گھوڑے کے تین انگلیاں تھیں اور آخر کار ایک ہی رہ گئی۔ جس گھوڑے کو ہم موجودہ زمانے میں دیکھتے ہیں اس کے ایک لمبی انگلی یعنی کھر ہے۔
میدان میں آکر گھوڑے کے صڑف پیر ہی نہیں بدلے بلکہ اس کا سارا جسم بدل گیا۔ مثلاً اس کی گردن کو لے لو۔ اگر اس کے پیر زیادہ لمبے ہو گئے ہوتے اور گردن چھوٹی ہی رہ جاتی تو گھوڑا اس گھاس تک نہ پہنچ سکتا جو اس کے قدموں کے نیچے ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ قدرت نے چھوٹی گردن والے گھوڑوںکو رد کر دیا جیساکہ وہ چھوٹے پیروں والے گھوڑوں کے ساتھ کر چکی تھی۔
اور گھوڑے کے دانتوں کے بارے میں؟ وہ بھی بدل گئے۔ میدان میں گھوڑے کو سخت اور موٹی پودے کھانا پڑے جن کوا سے پہلے اپنی داڑھوں سے چبا کر باریک کرنا پڑتا تھا۔ اور اسی لئے اس کے
دانت بھی بدلے۔ اب اس کے دانت ایسے ہیں جو سوکھی گھاس کو بھی چبا کر باریک کر سکتے ہیں۔
گھوڑے کے پیروں، گردن اور دانتوں کو بدلنے کے زبردست کام میں پانچ کروڑ سال لگے۔
اس کا یہ مطلب ہوا کہ جو دیواریں سمندر کو خشکی سے اور جنگل کو میدان سے علحدہ کرتی ہیں وہ مستقل نہیں ہیں۔ سمندر خشک ہو جاتے ہیں یا خشکی پرچڑھ آتے ہیں، میدان ریگستانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، سمندر کے باسی رینگ کر خشکی پر آجاتے ہیں اور جنگل کے رہنے والے میدانوں میں رہنے لگتے ہیں۔ لیکن کسی جانور کے لئے اپنی چھوٹی موٹی دنیا چھوڑنا، اپنے ماحول کی زنجیروں کو توڑنا کتنا مشکل ہے۔ ان زنجیروں کو توڑنے کے بعد بھی وہ آزاد نہیں ہوتاکیونکہ وہ ایک ان دیکھے پنجرے سے دوسرے پنجرے میں پہنچ جاتا ہے۔
جب گھوڑا جنگل چھوڑ کر میدان میں آیا تو وہ جنگل کا باسی نہ رہا، میدان کا رہنے والا ہو گیا۔ ایک مرتبہ اگر کسی قسم کی مچھلی کو پانی سے باہر خشکی کاراستہ مل گیا تو پھر یہ مچھلیاں سمندر کونہیں واپس ہوئیں کیونکہ واپسی کے لئے دوبارہ تبدیلی کی ضرورت تھی۔ یہی ان کئی قسم کی خشکی کی مچھلیوں کے ساتھ ہوا جو خشکی سے سمندر کو واپس ہوئیں۔ ان کے پیر پھر پروں میں تبدیل ہو گئے ۔ مثلاً وھیل کو ایسا ”مچھلی جیسا” بننا پڑا کہ جو لوگ اس کے آغاز کے بارے میں نہیں جانتے ہیں اس کو مچھلی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ صرف ظاہری صورت اور طریقہ زندگی کے لحاظ سے مچھلی سے مشابہت رکھتی ہے ۔

00 ex

2726 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد