کتاب:انسان بڑا کیسے بنا............حصہ چہارم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

کتاب:انسان بڑا کیسے بنا…………حصہ چہارم

دنیا میں تقریباًدس لاکھ قسم کے جانور ہیں اور ہر ایک اپنی چھوٹی موٹی دنیا میں رہتا ہے جس کا وہ عادی بن گیا ہے۔

بعض جگہوں پر ایک قسم کے جانوروں کو یہ ان دیکھا نشان ملے گا کہ ”دور رہو” اور دوسری قسم کو ایسی جگہ ”خوش آمدید!” کا ان دیکھا نشان ملے گا۔
ذرا سوچو تو منطقہ حارہ کے جنگل میں کسی قطبی ریچھ کا کیا حال ہو گا۔ اس کا تو دم گھٹ جائے گا کیونکہ اس کا گھنے بالوں والا موٹا کوٹ تو اتارا نہیں جا سکتا۔ لیکن گرم خطوں کا کوئی رہنے والا مثلاً ہاتھی تو
آرکٹک کے برف میں ٹھٹھر کر مر جائے گا۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس کی زندگی گرم غسل میں بسر ہوتی ہو اس کے جسم پر تو کھال ہی ہوگی۔
دنیا میں صرف ایک ایسی جگہ ہے جہاں قطبی ریچھ اور ہاتھی پڑوسی ہوتے ہیں یعنی وہ جگہ جہاں دنیا کے ہر حصہ کے جانور ہوتے ہیں۔ یہاں میدانوں کے جانور جنگلوں کے جانوروں سے صرف چند گز کے فاصلے پر نظر آتے ہیں اور پہاڑی جانور ان کے برابر رہتے ہیں۔ یہ جگہ چڑیا گھر ہے۔

قطبی ریچھ اور ہاتی اب صرف چڑیا گھر میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں

چڑیا گھر میں تو جنوبی افریقہ کے برابر ہی آسٹریلیا ہوتا ہے اور آسٹریلیا کا پڑوسی شمالی امریکہ ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا سے جانور یہاں آتے ہیں۔ لیکن وہ خود نہیں آئے ہیں انسان نے یہاں ان کو لاکر جمع کیا ہے۔
سوچو تو کہ ان سب کو خوش رکھنا کتنی مشکل بات ہے! ہر جانور اپنی چھوٹی موٹی دنیا کا عادی ہوتاہے اور انسان کو ان سب کے لئے ایسے حالات پیدا کرنا چاہیئں جو ان کی چھوٹی موٹی دنیاکے مطابق ہوں۔
یہاں ایسا تالاب ہونا چاہئے جو سمندر کی یاد دلائے اور وہاں ریگستان کا ایک ٹکڑا۔
پھرجانوروں کو کھلانا پلانا ہے۔ ان کو ایک دوسرے کو ہڑپ کرنے سے باز رکھنا ہے۔ قطبی ریچھ کو غسل کے لئے ٹھنڈا پانی چاہئے بندروں کو گرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شیر ہر روز اپنی خوراک کے مطابق کچا گوشت چاہتا ہے اور عقاب کو اتنی جگہ چاہئے کہ وہ اپنے پروں کو حرکت میں لا سکے۔
میدانوں، جنگلوں، پہاڑوں، ریگستانوں اور سمندروں کے جانوروں کوا نسان مصنوعی طو رپر اکٹھا کرتا ہے تو اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے لئے ایسی مصنوعی فضا بھی پیداکی جائے کہ وہ ختم نہ ہو جائیں۔
انسان خود کسی قسم کا جانور ہے؟ میدانی جنگلی یا پہاڑی جانور؟
کیا جنگل میں رہنے والے آدمی کو ”جنگلی آدمی” اور دلدل میں رہنے والے کو ”دلدلی آدمی” کہا جا سکتا ہے
نہیں بالکل نہیں۔
کیونکہ ایسا آدمی جو جنگل میں رہتا ہے میدان میں بھی رہ سکتا ہے۔ اور جو آدمی دلدل میں رہتا ہے اس کو زیادہ خشک جگہ منتقل سے خوشی ہوگی۔
آدمی کہیں بھی رہ سکتا ہے۔ اس دنیا میں مشکل ہی سے کوئی ایسا کونا ہو گا جہاں آدمی نہ پہنچا ہو اور جہاں کوئی ایسا نہ دکھائی دینے والا نشان ہو جو کہتا ہو ”انسان، دور رہو!”۔ آرکٹک میں تحقیقات کرنے والے بہتی ہوئی برفانی چٹانوں پر رہتے ہیں۔ اگر ان کو اچانک انتہائی گرم ریگستانوں میںجانا پڑے تو ان کو کوئی مشکل نہ ہو گی۔
اگر کوئی آدمی استیپ سے جنگل کو یا جنگل سے میدان کو منتقل ہوتا ہے توا سے اپنے ہاتھ پیر اور دانت نہیں بدلنے پڑتے۔اگرچہ اس کا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا نہیں ہوتا پھر بھی وہ جب جنوب سے شمال کو جاتا ہے تو ختم نہیں ہو جاتا۔
اس کو سمور کا کوٹ،ٹوپی اور بوٹ جوتے سردی سے اسی طرح بچاتے ہیں جیسے جانوروں کا سمور ان کو بچاتا ہے۔
آدمی نے گھوڑے سے کہیں زیادہ تیز چلنا سیکھ لیا ہے لیکن اس کے لئے اسے اپنی انگلیوں سے نہیں دستبردار ہونا پڑا۔
آدمی نے مچھلی سے کہیں زیادہ تیز تیرنا سیکھ لیا ہے لیکن اس کے لئے اس ہاتھ پیروں کی جگہ مچھلی کے پروں کی ضرورت نہیں ہوئی۔
رینگنے والے جانوروں کو تبدیل ہو کر پرندے بننے میںلاکھوں برس گذر گئے۔ان کو اس تبدیلی کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی کیونکہ اس تبدیلی کے دوران میں وہ اپنے اگلے پنجوں سے محروم ہو گئے جو پر بن گئے۔ انسان نے چند صدیوں میں اڑناسیکھا ہے لیکن اس کو اپنے بازوئوں سے نہیں محروم ہونا پڑا۔
آدمی نے یہ گر سیکھ لیا کہ نظر نہ آنے والی دیواروں کے درمیان سے، جو جانوروں کو اپنا قیدی بنا لیتی ہیں، بلا تبدیلی کیسے گذرا جا سکتا ہے۔
انسان ایسی بلندیوں تک جا سکتا ہے جہاں سانس لینے کے لئے ہوا نہیں ہے پھر بھی وہ زمین پر صحت مند اور چاق وچوبند واپس آتا ہے۔
جب ہوا بازوں نے فضا میں بلندی کے تمام ریکارڈ توڑ دئے تو زندگی کی عام چھت زیادہ بلند ہو گئی اور اس دنیا کے حدود کے پار ہو گئی جس میں زندہ مخلوقات آباد ہیں۔
جانوروں اور چڑیوں کا انحصار پوری طرح قدرت پر ہوتا ہے۔ ریاضی کے کسی سوال کے حل کا انحصار اس کے شرائط پر ہوتا ہے۔ یہی صورت قدرت کی ہے۔ ہر جانور ایسا مسئلہ ہے جس کو زندگی نے کامیابی سے حل کر لیاہے۔ مسئلے کے شرائط زندگی کے حالات ہیں اور اس کا جواب پنجوں، پیروں، پروں، مچھلی کے پروں، چونچوں، جنگلوں، عادتوں اور طور طریقوں کی ایک وسیع فہرست ہے۔ جواب کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جانور کو کہاں اور کیسے رہنا ہے۔ میٹھے یا کھاری پانی میں یا خشکی پر، ساحل پر یا سمندر میں، سمندر کی تہہ میں یا سطح سمندر سے قریب، شمال یا جنوب میں، پہاڑوں پر یا وادیوں میں، سطح زمین پر یا زیر زمین، استیپ میں یا جنگلوں میں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کون سے جانور اس کے پڑوسی ہوتے ہیں۔
جانور پوری طرح اپنے ماحول کا محتاج ہوتا ہے۔
لیکن آدمی اپنی مرضی کے مطابق ماحول بناتا ہے۔ وہ اکثر قدرت کی کتاب اس کے ہاتھ سے چھین لیتا ہے اور ان شرائط کو کاٹ دیتا ہے جو اسے پسند نہیں ہیں۔
قدرت کی کتاب کہتی ہے: ”ریگستان میں بہت کم پانی ہے”۔ لیکن جب ہم ریگستان میں گہری نہریں کھود دیتے ہیں تو اس حالت کو ختم کر دیتے ہیں۔
قدرت کی کتاب کہتی ہے: ”شمالی کی زمین بنجر ہے”۔ہم زمین میںکھاد ڈال کر اس کو بدل دیتے ہیں۔ ہم کئی سال تک خود بخود اگنے والی گھاسیں اور پھلی دار فصلیں بوکر زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔
قدرت کی کتاب کہتی ہے: ”جاڑے کے موسم میں سردی اور رات میں اندھیرا ہوتا ہے”۔ لیکن آدمی ان باتوں کی کوئی پروا نہیںکرتا۔ وہ اپنے گھر کو جاڑے میں گرم اور رات میں روشن کرتا ہے۔
ہم برابر اپنے ماحول کو بدلتے رہتے ہیں۔
جو جنگل ہمارے چاروں طرف ہیں شجر کاری اور جنگلوں کی کٹائی کی وجہ سے مدت ہوئے اپنی صورت شکل بدل چکے ہیں۔
اب ہمارے استیپ بھی پہلے کی طرح سپاٹ ویرانے نہیں رہے ہیں۔ ان کو آدمی زیر کاشت لایا ہے۔
ہمارے پودے، ہماری گیہوں اور رائی کی فصلیں، ہمارے سیب اور ناشپاتیوں کے درخت، اُن جنگلی اناج کی گھاسوں اور پھل کے پیڑوں کی طرح بالکل نہیں ہیں جو کسی زمانے میں ویرانوں میں اگتے تھے۔
ایسے گھریلو جانور جیسے گھوڑے، گائیں اور بھیڑیں اب جنگلی نہیں ہوتے۔ ان کو آدمی پالتا پوستا ہے اور ان کی افزائش کرتا ہے۔
آدمی نے جنگلی جانوروں کے طور طریقے بدل ڈالے ہیں۔ بعض جانور غذا کی تلاش میں آدمی کے گھروں اور کھیتوں سے بہت قریب رہتے ہیں اور بعض آدمی سے بھاگنے کی کوشش میں اس سے بہت دور جنگلوں اورویرانوں میں چلے گئے ہیں۔ آدمی کے ظہور سے پہلے ان جانوروں کے اجداد وہاں نہیں رہتے تھے۔
ایک زمانہ وہ بھی آئے گا جب آدمی کوئی اصلی جنگل یا ویرانہ دیکھنا چاہے گا تو اس کو خاص محفوظ جگہوں کو جانا پڑے گا کیونکہ انسان دنیا کا چہرہ بالکل بدل دے گا۔
ان محفوظ جگہوں کی سرحدیں کھینچتے ہوئے ہم قدرت سے کہتے ہیں: ”تم کو ہم یہاں کی مالکہ رہنے دیں گے لیکن اس سرحد کے پار ہر چیز ہماری ہے۔”
انسان قدرت پر روز بروز زیادہ اقتدار حاصل کرتا جا رہا ہے۔
یہ صورت ہمیشہ سے نہ تھی۔
ہمارے زمانہ تاریخ سے قبل کے اجداد قدرت کے ویسے ہی غلام تھے جیسے اس دنیا میں رہنے والے دوسرے جانور۔

اپنے اجداد سے ملاقات
لاکھوں سال پہلے جنگلات اور ان کے درخت، جانور اورگھاسیں ہمارے موجودہ جنگلوں اور باغوں سے مختلف تھے۔
ان قدیم زمانے کے جنگلوں میں مہندی، لارل اور میگنولیا کے پودوں کے ساتھ بھوچ، لینڈن اور چنار کے بڑے بڑے درخت اگتے تھے۔ انگور کی بیلیں اخروٹ کے درختوں سے لپٹی رہتی تھیں اور بید مجنوں کے پڑوسی کا فور اور عنبر دینے والے درخت ہوتے تھے۔
بڑے بڑے دیو پیکر درختوں کے سامنے عظیم الشان شاہ بلوط بھی بالشتیا معلوم ہوتا تھا۔
اگر ہم آج کے جنگل کو کسی مکان سے تشبیہ دیں تو اس زمانے کا جنگل فلک بوس عمارت کی طرح ہوتا تھا۔
اس ”فلک بوس عمارت” کی سب سے اوپری منزل روشن اور چہل پہل والی ہوتی تھی۔ وہاں بڑے بڑے رنگین پھولوں کے درمیان، شوخ رنگ کی کلغیوں والی چڑیاں ادھر ادھر اڑتی تھیں اور ان کی آوازیں جنگل میں گونجتی تھیں۔ لنگور ادھر ادھر شاخوںسے جھولتے تھے۔
دیکھو، بندروں کا ایک غول شاخوں پر اس طرح دوڑ رہا ہے جیسے وہ کوئی پل پار کر رہا ہو۔ مائیں اپنے بچوں کو زوروں سے سینے سے لگائے ہیں اوران کے منہ میں چبائے ہوئے پھل اور اخروٹ بھر رہی ہیں۔ وہ بچے جو ذرا بڑے ہیں اپنی مائوں کے پیر پکڑے ہیں۔اور اس غول کا جھبرا بڈھا سردار بڑی چستی سے ایک تنے پر چڑھ رہا ہے اور سارا غول اس کے پیچھے چلتا ہے۔
یہ بندروں کی کون سی قسم ہے؟ آج کل تم کویہ چڑیا گھر میں بھی نہیں ملیں گے۔ یہ وہی بندر ہیں جن کی نسل سے آدمی، چمپا نزی اور گوریلا کے اجداد پیدا ہوئے ۔ ابھی ہماری ملاقات زمانہ تاریخ سے قبل کے اجداد سے ہوئی۔
وہ سب جنگل کی سب سے اوپر والی منزل پر رہتے تھے۔ وہ زمین سے بہت بلندی پر ایک درخت سے دوسرے درخت تک شاخوں کے ذریعے سفر کرتے رہتے تھے جیسے یہ شاخیں پل، بالکونیاں اور راہ دار یاں ہوں۔
جنگل ہی ان کا گھر تھا۔ رات کو وہ درختوں کے دو شاخے میں ڈالیوں سے بنے ہوئے بڑے بڑے گھونسلوں میں آرام کرتے تھے۔
جنگل ان کا قلعہ تھا۔ وہ اوپر والی منزل پر اپنے جانی دشمن تیز دانتوں والے چیتے سے پناہ لیتے تھے۔
جنگل ان کا بھنڈا تھا۔ وہاں اوپر کی شاخوں میں وہ اپنا کھانا، پھل اور اخروٹ جمع کرتے تھے۔
لیکن جنگل کی چھت تلے زندگی بسر کرنے کے لئے ان کو ایک شاخ سے جھول کر دوسری شاخ تک جانا سیکھنا پڑتا تھا اور یہ بھی کہ درختوں کے تنوں سے کس طرح اوپر نیچے چڑھا اترا جائے اور ایک درخت سے کود کر دوسرے تک کس طرح پہنچا جائے۔ ان کو پھلوں کو چننا اور اخروٹوں کو توڑناسیکھنا پڑا۔ ان کی انگلیوں کو چست، آنکھوں کو تیز اوردانتوں کو مضبوط ہونا چاہئے تھا۔
ہمارے اجداد بہت سی زنجیروں سے جنگل سے منسلک تھے اور صرف جنگل ہی سے نہیں بلکہ اوپر چوٹی والی منزلوں سے۔ آدمی نے ان زنجیروں کو کسی طرح توڑا؟ جنگلی مخلوقات نے کس طرح یہ ہمت کی کہ وہ اپنا پنجراچھوڑ کر اپنے گھر کی سرحدوں سے باہر قدم رکھے؟

دوسرا باب
ہمارے ہیروں کی دادی اور چچیرے رشتے دار
جب پرانے زمانے میں کوئی مصنف آدمی کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں اپنی کہانی شروع کرتا تھا تو وہ عام طور پر اپنی کتاب کے پہلے ہی بابوںمیں اپنے ہیرو کے خاندان اور اس کے اجداد کا تفصیلی ذکر کرتا تھا۔
چند ہی صفحے پڑھنے کے بعد یہ پتہ چل جاتا کہ جب اس کی دادی لڑکی تھی تو کتنے خوبصورت گائون پہنتی تھی اور شادی سے پہلے ماں اس دن کے خواب کیسے دیکھا کرتی تھی۔ دنیا میں اس ہیرو کے ظہور، اس کے پہلے دانت، پہلے الفاظ، پہلے قدم اور پہلی شرارتوں کے بارے میں طویل بیان ہوتا تھا۔ دس باب بعد لڑکا اسکول میں داخل ہوتا تھا اور دوسری جلد کے آخر میں محبت میں مبتلا ہو جاتا تھا۔ تیسری جلد میں وہ بہت سی مہموں اور واقعات کے بعد آخر کار اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا تھا اور اس کہانی کاخاتمہ عام طور پر اس طرح ہوتا تھا کہ بزرگ اور بوڑھا ہیرو اور اس کی سفید بالوں والی بیوی اپنے گلاب جیسے گالوں والے پوتے کو پیار سے دیکھ رہے ہیں جو پہلی مرتبہ ڈگمگا کر زمین پرقدم رکھ رہا ہے۔
ہم بھی آپ کو انسان کی زندگی اورا س کے کارناموں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔ اورپرانے زمانے کے ناول نگاروں کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنے ہیروکے قدیم آباو اجداد، ا س کے خاندان اور رشتے داروں، زمین پر اس کے ظہور کے بارے اور یہ بھی بتانا میں چاہتے ہیں کہ اس نے چلنا، باتیں کرنا، سوچنا کیسے سیکھا۔ ہم اس کی جدوجہد، خوشی اور غم، فتوحات اور شکستوں کا بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن ہمیں اعتراف کرنا پڑے گا کہ ابتدا میں ہم بڑی مشکلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
ہم اپنے ہیرو کی ”جدو” کے بارے میں کیسے بیان کریں، اس بوزنہ جدہ کے بارے میں جن کی اولاد ہماری قسم ہے، جب کہ اس جدہ کو ختم ہوئے لاکھوں سال بیت چکے ہیں؟ ہمارے پاس ان کی کوئی تصویر بھی تو نہیں ہے کیونکہ ہم تو جانتے ہو گے کہ بوزنے تصویر کشی نہیںکر سکتے۔ جیسا کہ پچھلے باب میں کہا جا چکا ہے ہماری ملاقات زمانہ تاریخ سے قبل والی جدہ سے صرف عجائب گھر میںہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ اس زمانے میںکیسی لگتی تھیں کیونکہ اب ان کی صرف چند ہڈیاں اور دانت ہی باقی رہ گئے ہیں جو افریقہ، ایشیا اور یورپ کے مختلف حصوں میں پائے گئے ہیں۔
ہمیں اپنے ہیرو کے ”چھیرے بھائی بہنوں” سے واقفیت حاصل کرنے کا زیادہ اچھا موقع ہے۔
آدمی تو مدتیں ہوئیں ماقابل تاریخ کے گرم منطقے والے جنگلات چھوڑ کر پوری طرح زمین پر آباد ہو گیا ہے۔لیکن اس کے رشتے دار گوریلا، چمپانزی، لنگور اور اور انگ اوتان اچھی تک جنگلی جانور ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کو ایسے ذلیل اور حقیر رشتے داروں کی یاد دلائی جائے۔ بعض تو اس دور کے رشتے سے بالکل ہی انکار کرتے ہیں۔ اورایسے بھی لوگ ہیں جو اس بات کی طرف اشارے کو بھی گناہ سمجھتے ہیں کہ آدمی اور چمپانزی کی جدہ ایک ہی ہے۔
لیکن حقیقت تو ضرورت سامنے آئے گی۔ ہم یہ ساری کتاب اس کے ثبوت سے پھر سکتے تھے کہ آدمی اور بوزنے میں رشتے داری ہے۔ پھر بھی اس موضوع پر طویل اورا لجھے ہوئے بحث ومباحثے کے بغیر اگر کوئی آمی چڑیا گھر میں جاکر ایک گھنٹہ بھی چمپانزی اور اورانگ اوتان کو غور سے دیکھے تو اس خاندانی مشابہت پر حیرت ہو گی جو آدمی اور ان بوزنوں میں ہے۔

 

4303 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد