کتاب:انسان بڑا کیسے بنا..............حصہ پنجم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

کتاب:انسان بڑا کیسے بنا…………..حصہ پنجم

ہمارے رشتے دار رافل اور روزا
چند سال ہوئے مشہورروسی سائنس داں ایوان پاولوف کی لیباریٹری میں جو لینن گراد کے قریب موضع کو لتوشی میں (اب یہ گائو پاولووا کہلاتا ہے) واقع ہے دو چمپانزی لائے گئے جن کے نام تھے رافائل اور روزا۔
آدمی اپنے بیچارے جنگلی رشتے داروں کے ساتھ زیادہ مہربانی کا برتائو نہیں کرتا اور عام طور پر انہیں سیدھا پنجروں میں بند کر دیتا ہے۔ لیکن اس موقع پر افریقہ کے جنگل کے مہمانوں کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔ ان کو علحدہ ایک فلیٹ رہنے کے لئے دیا گیا جس میں سونے، کھانے اور کھیلنے کے کمرے اور غسل خانہ تھا۔ ان کے لئے سونے کے کمرے میں آرام دہ بستر اور چھوٹی میزیں تھیں۔ کھانے کے کمرے میں میز سفید میز پوش سے ڈھکی ہوئی تھی۔ الماری کے خانے کھانے کی چیزوں سے بھرے تھے۔
اس آرام فلیٹ کی کسی بات سے یہ گمان نہیںہوتاتھا کہ اس کے رہنے والے بوزنے ہیں۔ کھانا ہمیشہ پلیٹوں میں دیا جاتا تھا۔ اور کھانے کے لئے چمچے ہوتے تھے۔ رات کو بستر بچھائے جاتے ہیں اور تکیوں کو نرم کر دیا جاتا تھا۔یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی مہمان بد سلیقگی کا مظاہرہ کرتے تھے اور پلیٹوں سے پھل کا رس سڑ سڑا کر پیتے تھے اور رات کو تکیوں پر سر رکھنے کی بجائے سر پر تکئے رکھ لیتے تھے۔

رافائل کھا رہا ہے

رافائل کام کر رہا ہے

رافائل ڈرائنگ بنا رہا ہے

پھر بھی اگر رافائل اورروزا کے عادات واطوار انسانوں جیسے نہ تھے تو ان سے قریب تو ضرور تھے۔
مثلاً روزا ایک گھر گرہست عورت کی طرح الماری کی کنجیوں کا گچھا استعمال کرنا جانتی تھی۔ یہ کنجیاں نگراں کی جیب میں رہتی تھیں۔ روزا چیکے چیکے پیچھے سے آتی اور اس سے گچھا چھین لے جاتی۔ وہ آنکھ جھپکا تے میں الماری کے پاس پہنچ جاتی، کرسی پرچڑھ کر قفل میں ٹھیک کنجی لگاتی۔ شیشے کے مزیدار خوبانیوں کے اوپر انگور کے خوشے دیکھتی۔ کلائی کی ہلکی سی حرکت سے قفل کو کھول دیتی اور روزا کے ہاتھ میں انگوروں کا ایک خوشہ ہوتا۔
ہمیں رافائل کے بارے میں بھی نہیں بھولناچاہئے۔ اس کے سبقوں میں کیا منظر ہوتا تھا! اس کی ٹریننگ کی چیزوں میں خوبانیوں کی ایک چھوٹی سی ٹوکری اور مختلف سائز کے سات بلاک تھے۔لیکن یہ ویسے بلاک نہ تھے جن سے بچے کھیلتے ہیں۔ رافائل کے بلاک ان سے کہیں بڑے تھے۔ سب سے بڑا معمولی اسٹول کے برابر تھا اور سب سے چھوٹا ایک نیچی تپائی جیسا۔ خوبانیوں کی ٹوکری چھت میں لٹکا دی جاتی تھی۔ اب رافائل کے سامنے یہ مسئلہ ہوتا تھا کہ وہ خوبانیوں تک کیسے پہنچے اور ان کو کھائے۔
پہلے تو رافائل اس مسئلے کو نہیں حل کر سکا۔
گھر پریعنی جنگل میں تو اس کوپھل حاصل کرنے کے لئے بہت اونچائی تک چڑھنا پڑتا تھا۔ لیکن یہاں تو پھل کسی شاخ پر نہیں تھے۔ وہ ہوا میں لٹک رہے تھے اور صرف سات بلاکوں کے ذریعے اوپر چڑھا جا سکتا تھا۔ لیکن اگر سب سے بڑے بلاک کے اوپر بھی چڑھتا تو وہ خوبانیوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
پھلوں تک پہنچنے کی کوشش کے دوران میں بلاکوں کو لڑھکاتے ہوئے رافائل نے یہ دریافت کی کہ اگر وہ ان بلاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر چڑھے تو وہ خوبانیوں سے بہت قریب پہنچ جائے گا۔ رفتہ رفتہ، وہ تین بلاکوں کا مینار بنانے میںکامیاب ہوا، پھر چار اور پانچ کا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ وہ ان کو اوپر نیچے جیسے چاہے نہیں لگا سکتا تھا۔ ان بلاکوں کا ایک مقررہ نظام تھا۔ پہلے سب سے بڑا، پھر اس سے کم بڑا اور پھر اسی طرح اورکم بڑے۔
بہت بار رافائل نے چھوٹے بلاکوں کو اوپر بلاک چنے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ڈھیر ہلنے لگا اور گرنے کے قریب ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بس پورا ڈھیر مع رافائل کے ایک لمے میں نیچے آرے گا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ بہر حال وہ بندر تھا ور چست وچالاک اور تیز بھی۔
آخر کار مسئلہ حل ہو گیا۔ رافائل نے سائز کے لحاظ سے ساتوں بلاک اوپر نیچے چن دئے جیسے کہ واقعی اس نے وہ ساتھ نمبر پڑھ لئے ہوں جو ان بلاکوں پر بنے تھے۔
جب وہ ٹوکری تک پہنچ گیا تو اس ہلتے ہوئے مینار پر بیٹھ کر اس نے مزے سے خوبانیاں کھائیں جو بڑی محنت سے حاصل کی تھیں۔
اور کون جانور ایسا انسانی طریقہ اختیار کر سکتا تھا؟ کیا کوئی کتا بلاکوں کا ایسامینار بنا سکتا تھا؟ حالانکہ کتا تو بہت سمجھدار جانور ہوتا ہے۔
وہ سب لوگ جو رافائل کو کام کرتے دیکھتے تھے انسان سے اس کی مشابہت پر حیران رہ جاتے تھے۔ وہ بلاک اٹھاتا، اس کو اپنے شانے پر رکھتا اور اس کو ایک ہاتھ سے سنبھال کر ڈھیر تک لے جاتا۔ لیکن اگر وہ غلط سائز کا بلاک ہوتا تو رافائل اس کو نیچے رکھ دیتا اور اس پر بیٹھ جاتا جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ ذرا دیر آرام کرنے کے بعد وہ اپنی غلطی دور کرنے کے لئے پھر کام کرنے لگتا۔

کیا چمپانزی آدمی بن سکتا ہے؟
لیکن اگر یہ صورت ہے توکیا چمپانزی کو آدمی کی طرح چلنا، باتیں اور کام کرنا نہیں سکھایا جا سکتا؟
برسوں پہلے جانوروں کے مشہور ٹرینر ولاد یمپر دوروف کا خیال تھا کہ ایسا ممکن ہے۔ انہوں نے اپنے پالتو چمپانزی کو تربیت دینے کی مہینوں کوشش کی۔ میمس بڑا اچھا شاگرد تھا۔ اس نے چمچے سے کھانا، تولیہ استعمال کرنا، کرسی پر بیٹھنا، میز پوش پر گرائے بغیر اپنا شوربہ کھانا، حتی کہ برف گاڑی میں بیٹھ کر پہاڑی سے نیچے پھسلنا تک سیکھ لیا۔
لیکن وہ کبھی انسان میں نہیں تبدیل ہو سکتا تھا۔
اس میں کوئی حیرت کی بات نہیںہے کیونکہ انسان اور بوزنے کے طور طریقے لاکھوں سال پہلے الگ الگ ہو گئے تھے۔ ماقابل تاریخ کے دور میں انسان کے اجداد درختوں سے زمین پراترنے اورا نہوں نے دو پیروں پر سیدھے کھڑے ہو کر چلنا سیکھا اور اس طرح انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کام آزاد کیا۔ لیکن چمپانزی کے اجداد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے درختوں ہی پر ہے اور وہ پہلے سے زیادہ درختوں پر رہنے کے عادی بنتے گئے۔
اسی لئے چمپانزی کی بناوٹ آدمی جیسی نہیں ہے۔ اس کے ہاتھ، پیر، زبان اور دماغ سب مختلف ہیں۔ کسی چمپانزی کاہاتھ غور سے دیکھو۔ وہ بالکل انسانی ہاتھ کی طرح نہیں ہوتا ہے۔ چمپانزی کا انگوٹھا اس کی چھنگلیا سے چھوٹا ہوتا ہے، ہماری طرح اس کا انگوٹھا دوسری انگلیوں کے ساتھ زوایہ نہیں بناتا۔ لیکن انگوٹھا ہماری انگلیوں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی ان پانچ مزدوروں کی ٹیم میں جس کو ہم ہاتھ کہتے ہیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے یعنی ان پانچ مزدوروں کی ٹیم میں جس کو ہم ہاتھ کہتے ہیں سب سے ضروری۔ انگوٹھا دوسری چار انگلیوں میں کسی ایک کے ساتھ یا سب کے سات مل کر کام کر سکتا ہے۔ اسی لئے انسانی ہاتھ سب سے زیادہ پیچیدہ آلات و اوزار کو بھی بڑی مہارت سے استعمال کر سکتا ہے۔
جب کوئی چمپانزی کسی درخت سے پھل توڑنا چاہتا ہے تووہ اکثر شاخ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتا ہے اور پھل کو پیر کی انگلیوں سے توڑتا ہے۔ جب چمپانزی زمین پر چلتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ کی مڑی ہوئی انگلیوں پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ ا کثر اپنے ہاتھوں کو پیروں کی طرح اور پیروں کو ہاتھوں کی طرح استعمال کرتا ہے۔
جانوروں کو سدھانے والے جو چمپانزی کو انسانی حرکات وطوار سیکھانا چاہتے ہیں اکثر بھول جاتے ہیں کہ ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ انسان اور چمپانزی میں ایک اور بھی بڑا فرق ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کے مقابلے میں چمپانزی کا دماغ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اس کی ساخت بھی اتنی پیچیدہ نہیں ہوتی جتنی انسانی کے دماغ کی۔
ایون پاولوف نے انسانی دماغ کے مطالعہ پر برسوں صرف کئے۔ ان کو روزا اور رافائل کے طور پر طریقوں سے بڑی دلچسپی تھی۔ وہ ”بندر گھر” میں گھنٹوں رہتے ہیں اور ان کا مطالعہ قریب سے کرتے تھے۔ یہ دونوں بندربالکل ناسمجھی سے کام کرتے تھے۔ وہ کچھ کرنا شروع کرتے اور پھر کسی دوسری طرف متوجہ ہو کر اس کے بارے میں بھول جاتے اور کسی دوسری بات سے دلچسپی لینے لگتے۔
مثلاً رافائل اپنا مینار بنانے میں لگ جاتا اور بہت ہی مصروف لگتا۔ اچانک وہ کوئی گیند دیکھتا اور بلاکوں کے بارے میں بارے میں بالکل بھول کر اپنے لمبے اور بالدار ہاتھ سے گیند اچھا لنے لگتا۔ ایک لمحہ بعد جب اس کو کوئی مکھی فرش پر ینگتی نظر آجاتی تو وہ گیند کو بھول جاتا۔
اس انتشار کو دیکھ کر پاولوف نے ایک بار کہا تھا:
”بدنظمی ہے، بدنظمی!”
ہاں، بوزنوں کی بد نظم حرکتیں ان دماغ کے پرانتشار فعل کی صحیح طو رپر آئینہ دار ہیں جو انسانی دماغ کے باقاعدہ اور مرکوز فعل سے بالکل مختلف ہیں۔ پھر بھی چمپانزی میں سمجھ ہوتی ہے۔ وہ جنگل کی زندگی کابخوبی عادی ہوتا ہے اوراپنی چھوٹی دنیا کی بہت سی نہ نظر آنے والی زنجیروں کا پابند۔
ایک بار ایک کیمرہ مین اس فلیٹ میں آیا جس میں روزا اور رافائل رہتے تھے۔ وہ ان کی فلم بنانا چاہتا تھا۔ فلم کی کہانی کے مطابق بندروں کو تھوڑی دیرکے لئے باہر چھوڑناتھا۔وہ باہر نکلتے ہی قریب ترین درخت پر چڑھ گئے اوران کی شاخوں میں بہت خوش خوش جھولنے لگے۔ ان کویہ درخت آرام دہ فلیٹ سے زیادہ گھریلو لگا۔
افریقہ میں چمپانزی جنگل میں سب سے ”اوپری منزل” پر رہتا ہے۔ وہ اپنی رہائش گاہ درخت پر بناتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بچنے کے لئے درخت پر چڑھ جاتا ہے اور درختوں سے وہ اخروٹ اور پھل بھی حاصل کرتا ہے جو اس کی غذا ہیں۔
وہ درخت کی زندگی کا اتنا عادی ہو چکا ہے کہ مسطح زمین پر چلنے کے مقابلے میں درخت کے تنوں پر کہیں زیادہ آسانی سے چڑھ اتر سکتا ہے۔ تم کو چمپانزی ایسی جگہوں پر کہیں نہ ملیں گے جہاں جنگل نہیں ہوتے۔
ایک بار ایک سائنس داں افریقہ میں یہ دیکھنے کے لئے کیمرون گیا کہ چمپانزی اپنے قدرتی ماحول میں کیسے رہتے ہیں۔
اس نے تقریباً ایک درجن چمپانزی پکڑ کر اپنے فارم کے قریب جنگل میں چھوڑے تاکہ وہ گھر کی طرح محسوس کریں۔ لیکن پہلے اس نے ایک نظر نہ آنے والا پنجرا بنوایا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ یہ نظر نہ آنے والا بنچرا دو معمولی اوازروں یعنی کلہاڑی اور آرے کے ذریعے بنایا گیا تھا۔
پہلے لکڑہاروں نے جنگل کے ایک چھوٹے سے رقبے کے گرد تمام درخت کاٹ دئے۔ بس میدان کے بیچ میں درختوں کا ایک جھنڈرہ گیا۔ سائنس داں نے اپنے بوزنوں کو اس جھنڈ میں آزاد چھوڑ دیا۔
اس کا منصوبہ کامیاب رہاکیونکہ بندر تو جنگل کے رہنے والے ہیں یعنی وہ اپنی مرضی سے جنگل کبھی نہیں چھوڑتے۔ بندر اپنا گھر کھلے میدانوں میں نہیں بنا سکتا جیسے کہ قطبی ریچھ اپنا گھر ریگستان میں نہیں بناتا۔
لیکن اگر چمپانزی جنگل نہیں چھوڑ سکتا تو اس کا دور کا رشتے دار آدمی جنگل کو کیسے چھوڑ سکا؟

ہمارے ہیرو نے چلنا سیکھا
ہمارے ماقابل تاریخ والے جنگلی جد کو اپنا پنجرہ توڑنے، آزادی کے ساتھ جنگل چھوڑنے اور استیپ اور بے درختوں والے میدانوں میں اپنا گھر بنانے میںلاکھوں سال لگ گئے۔
درختوں پر رہنے والے جانور کو، اگروہ ان زنجیروں کو توڑنا چاہتا تھا جو اس کو جنگل کا پابند رکھتی تھیں تو، درخت سے اتر کر زمین پر چلنا سیکھنا ہوتا تھا۔
انسان کے کسی بچے کے لئے ہمارے زمانے میں بھی چلنا سیکھنا آسان نہیں ہے۔ جو کوئی بھی کسی بالک گھر گیا ہے وہ جانتا ہے کہ وہاں ایسی چھوٹی عمر کے بچے ہوتے ہیں جو ”رینگنے والے” کہلاتے ہیں۔ یہ ایسے بچے ہوتے ہیں جو ٹھہرنا نہیں چاہتے لیکن چلنا بھی نہیں جانتے۔ ان ”رینگنے والوں” کو ”چلنے والا” بننے کے لئے کئی مہینے سخت کوشش کرنی پڑتی ہے۔ ذرا سوچو تو انہیں بلا کسی سہارے کے، ہاتھوں سے زمین کو چھوٹے بغیر، سنبھلنے کے لئے کوسیوں یا بنچوں کا سہارا لئے بغیر چلنا سیکھنا ہوتا ہے۔ اور اس طرح اپنے کو سنبھالنا سائیکل سواری سیکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔
لیکن اگر بچے کو چلنا سیکھنے میں کئی مہینے لگتے ہیں توہمارے ماقابل تاریخ کے اجداد کو یہ ہنر سیکھنے میں ہزاروں برس لگ گئے تھے۔
اس دور افتادہ زمانے میں وہ مختصر مدت کے لئے درختوں سے اترتے تھے۔ شاید وہ ہمیشہ اپنے ہاتھوں پر نہیں جھکتے تھے بلکہ اپنے پچھلے پیروں پر کھڑے ہو کر دو تین قدم دوڑتے تھے جیسا کہ چمپانزی کبھی کبھی اب بھی کرتے ہیں۔
بہر حال دو تین قدم تو پچاس یا سو قدم نہیں ہیں۔

انسان کے پیروں نے ہاتھوں کو کام کے لئے کیسے آزاد کیا
جب ہمارے ماقابل تاریخ کے اجداد درختوں پر رہتے تھے تبھی انہوں نے اپنے ہاتھوں کو رفتہ رفتہ پیروں سے مختلف کاموں کے لئے استعمال کرنا سیکھا تھا۔ وہ پھلوں اور اخروٹوں کو توڑنے اور درختوں کے دو شاخوں میں اپنے گھونسلے بنانے کے لئے ہاتھوں کو استعمال کرنے لگے۔
لیکن جو ہاتھ اخروٹ پکڑ سکتا تھا وہ کوئی ڈنڈا یا پتھر بھی پکڑ سکتا تھا۔ اور ہاتھ میں کسی ڈنڈے یا پتھر کا مطلب یہ ہوا کہ ہاتھ زیادہ لمبا اور مضبوط ہو گیا۔

ہمارے ہیرو نے اپنا پہلا اوزار اٹھایا

پتھر کسی سخت اخروٹ کو توڑ سکتا تھا اور ڈنڈے سے کوئی مزیدار جڑ زمین کے اندر سے کھود کر نکالی جا سکتی تھی۔
اس طرح ماقبل تاریخ کا آدمی ان اوزاروںکو اپنی غذا کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے لگا۔ ڈنڈے سے کھود کر وہ جڑیں اور کند اوپر کھینچ لیتا تھا بڑے بڑے پتھروں سے درختوں کے ٹھنٹھ کو ٹھونک ٹھونک کر وہ کیڑوں کے انڈے باہر نکال لیتا تھا۔ پھر بھی اس کے لئے ہاتھوں سے کام لینے کی ایک ہی صورت تھی یعنی ان کو چلنے کے کام میں استعمال سے آزاد کرے۔ اس کے ہاتھ جتنے ہی مصروف ہوتے اتنا ہی زیادہ پیروں کو چلنے کا مسئلہ حل کرنا پڑتا۔
اس طرح اس کے ہاتھ اس کے پیروں کو چلنے پر مجبور کرتے اور اس کے پیر ہاتھوں کو کام کے لئے آزاد کر دیتے۔
یوں ایک نئی مخلوق کا دنیا وجود ہوا جو اپنے پچھلے پیروں پر چلتی تھی او رہاتھوں سے کام کرتی تھی۔ صورت شکل میں یہ مخلوق ابھی تک بہت کچھ جانوروں جیسی تھی۔ لیکن اگر تم اس کو ڈنڈا یا پتھر لے کر چلتے دیکھتے تو فوراًکہتے کہ یہ جانور ابتدائی انسانی نسل کا ہے۔ دراصل صرف آدمی ہی اوزاروں کا استعمال جانتا ہے۔ جانوروں کے پاس تو آلات واوزار نہیں ہوتے۔
جب کوئی پھدکنے ولا چوھا یا چھچھو ندر اپنی بھٹ کھودتے ہیں تو ان کو صرف پنجوں سے کام لینا ہوتا ہے۔ ان کے پاس پھائوڑے تو نہیں ہوتے۔ جب کوئی چوھا کسی لکڑی کو کاٹتا اورکریدتا ہے تو وہ چاقوسے نہیں بلکہ اپنے دانتوں سے ایسا کرتا ہے۔ اور جب کوئی ہدہد درخت کی چھال کو ٹھونگیں مارتا ہے تو وہ اپنی چونچ سے کام لیتا ہے نہ کہ کسی رکھانی سے۔
ہمارے ماقبل تاریخ والے اجداد کے پاس نہ تو رکھانی جیسی چونچ تھی اور نہ پھائوڑوں جیسے پنجے اور نہ بلیڈ کی طرح تیز دانت۔
لیکن ان کے پاس ایسی چیز تھی جوا نتہائی تیز دانتوں اور بہت مضبوط چونچوں سے کہیں بہتر تھی۔ ان کے پاس ہاتھ تھے جن کو وہ زمین سے کاٹنے والے پتھر اور لمبے چوبی پنجوں کو اٹھانے کے لئے استعمال کرسکتے تھے۔

ہمارا ہیرو زمین پر اترتا ہے
جب یہ واقعات ہو رہے تھے تو آب وہوا بھی رفتہ رفتہ بدل رہی تھی۔ ہمارے زمانہ تاریخ سے قبل والے اجداد کے جنگلوں میں راتیں زیادہ ٹھنڈی ہوتی جاتی تھیں اور جاڑوں میں بہت زیادہ سردی پڑنے لگی تھی۔ حالانکہ آب وہوا اب بھی گرم تھی لیکن اس کو خوب گرم نہیں کہا جا سکتا ہے۔
پہاڑیوں اورپہاڑوں کی شمالی ڈھلانوں پر رفتہ رفتہ سدا بہار پام، مینگولیا اور لارل کی جگہ بلوط اور لینڈن لے رہے تھے۔
دریائوں کے کنارے گہری پرتوں میں لوگوںکو اکثر بلوط یالائم کی پتھرائی ہوئی پتیاں ملتی ہیں جو لاکھوں سال پہلے کسی سیلاب میں دریا کے ذریعے یہاں پہنچی تھیں۔
جنوبی ڈھلانوں اور نشیبوں میں انجیر کے درخت اور انگور کی بیلیں ٹھنڈی ہوائوں سے محفوظ رہیں۔ گرم خطوں کے جنگلوں کی سرحدیں اور جنوب کی طرف پیچھے ہٹتی گئیں۔ اور ان جنگلی جھاڑ جھنکار کے باسی ہاتھی اور خنجر جیسے تیز دانتوں والے چیتے بھی جو اب بہت نایاب ہوتے جاتے تھے، جنوب کی طرف پیچھے ہٹ رہے تھے۔
جہاں پہلے جنگلی جھاڑ جھنکار تھے وہاں درختوں نے الگ ہو کر ایسے روشن میدان بنا دئے جہاں دیوقد ہرن اور گینڈے چرتے تھے۔ کچھ بندر بھی جنگل کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹے اور دوسری قسمیں ختم ہو گئیں۔
جنگل میں انگور کی بیلوں کی تعداد گھٹتی گئی، انجیر کے درختوں کو پانا مشکل ہو گیا۔ جنگلوں سے گذرنا اور زیادہ دشوار ہو گیا کیونکہ اب وہ چھدرے ہو گئے تھے اور ان کے باسیوں کو درختوں کے ایک جھنڈ سے دوسرے جھنڈ تک پہنچنے کے لئے زمین پر چلنا پڑتا تھا۔ درخت پررہنے والوں کے لئے یہ آسان کام نہ تھاکیونکہ اس طرح درندوں کا شکار بننے کا زیادہ امکان تھا۔
لیکن وہ مجبور تھے۔ بھوک پیاس ان کو درختوں سے نیچے لاتی تھی۔ ہمارے ماقبل تاریخ کے اجداد غذا کی تلاش میں زمین پر اکثر آنے کے لئے مجبور ہوئے۔
جب انہوں نے اپنا مانوس پنجرہ یعنی جنگل کی دنیا چھوڑی جس کے وہ عادی تھے تو کیا ہوا؟
انہوںنے جنگل کے قوانین کو توڑ دیا۔ انہوں نے وہ زنجیریں توڑ دیں جن سے ہر جانور نظام قدرت میں ایک جگہ کا پابند ہوتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ جانور اور پرندے بدلتے رہتے ہیں۔ قدرت میںکوئی بھی چیز یکساں نہیںرہتی۔ لیکن یہ تبدیلی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایک چھوٹے جنگلی جانور کو جس کے تیز پنجے تھے آج کا گھوڑا بننے میں لاکھوں سال لگ گئے۔ ہر جانور بچپن میں اپنے والدین سے بہت مشابہ ہوتا ہے۔ بلکہ کوئی فرق مشکل سے ہوتا ہے۔ جانور کی کسی نئی قسم کے ارتقا میں ہزاروں نسلیں گذر گئیں، ایسی قسم میں تبدیلی کے لئے جو اپنے اجداد سے بالکل مختلف تھی۔
اورہمارے ماقبل تاریخ کے اجداد کا کیا حال ہوا؟
اگر وہ اپنی عادات اوطوار نہ بدل سکتے تو ان کو بھی بندر کے ساتھ جنوب کی طرف ہٹنا پڑتا۔ لیکن وہ بندروں سے مختلف تھے کیونکہ اب وہ جان گئے تھے کہ پتھروں او لکڑی کے دانتوں اور پنجوں سے کس طرح غذا حاصل کی جا سکتی ہے انہوں نے یہ سیکھ لیا تھا کہ رس دار جنوبی پھلوں کے بغیر، جو جنگلوں میں کمیاب ہوتے جاتے تھے، کیسے رہا جائے۔ ان کو اس بات سے پریشانی نہ تھی کہ جنگل چھدرے ہوتے جا رہے تھے کیونکہ انہوں نے زمین پر چلنا سیکھ لیا تھا اورکھلی اور بے درخت جگہوں سے ڈرتے نہیں تھے۔ اور اگر کوئی دشمن ان کے راستے میں آتا تھا تو بندر مانس کا سارا غول ڈنڈوں اور پتھروں سے اپنی حفاظت کرتاتھا۔
جب سخت دور آیاتو اس نے بندر مانس کو نہ تو ختم کیا اور نہ ان کو جنوبی جنگلوں کے ساتھ پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکا۔ صرف اس نے بندر مانس کے آدمی بننے کی رفتار تیز کر دی۔
اورہمارے دور کے رشتے دار بندروں کا کیا حشر ہوا؟
وہ جنوبی جنگلوں کے ساتھ پیچھے ہٹے او رسدا کے لئے جنگل کے باسی بنے رہے۔دراصل ان کے سامنے کوئی دوسرا ہی نہ تھا۔ وہ ہمارے اجداد سے ارتقائی مدارج میں پیچھے رہ گئے تھے اور نہوں نے اوزاروں کا استعمال ہی نہیں سیکھا تھا۔اس کی بجائے انتہائی چست وچالاک بندروں نے درختوں پر چڑھنا اور شاخوں سے جھولنا پہلے سے بہتر سیکھا لیا تھا۔
جو بندر درختوں پر چڑھنے میںکم مہارت رکھتے تھے اور درختوں کی زندگی کے عادی نہیں بن سکے تھے ان میں سے صرف سب سے بڑے اور طاقتور بندر بچ گئے۔مگر بندر جتنا ہی زیادہ بھاری اور بڑا ہوتا اتنا ہی زیادہ اس کو درخت پر کی زندگی مشکل معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے ان بڑے بڑے بندروں کومجبوراً درختوں سے اترنا پڑا۔گوریلا اب بھی جنگل میں زمین والی منزل پر رہتے ہیں۔ ان کے ہتھیار نہ تو ڈنڈے ہیں اورنہ پتھر بلکہ وہ بڑے دانت ہیں جو ان کے طاقتور جبڑوں سے باہر نکلے ہوتے ہیں ۔
اس طرح آدمی اور اس کے دور کے رشتے داروں میں ہمیشہ کے لئے جدائی ہو گئی۔

گم شدہ کڑی
آدمی نے دونوں پیروں پر چلنا یک دم نہیں سیکھ لیا۔ پہلے تو وہ لڑکھڑا کر چلتا تھا۔
پہلا آدمی یایہ کہنا زیادہ ٹھیک ہو گا کہ بندر مانس کیسا لگتا تھا؟
کرہ ارض پر بندر مانس کہیں نہیں رہ گیا ہے۔ لیکن کیا اس کی ہڈیاں بھی کہیں نہیں ملتی ہیں؟
اگریہ ہڈیاں مل جائیں تو یہ اس کا حتمی ثبوت ہو گا کہ انسان بندر کی اولاد ہے۔ کیونکہ بندر مانس قدیم ترین آدمی تھا، اس زنجیر کی اہم کڑی جو بندروں سے شروع ہوتی ہے اور جدید انسان پر ختم ہوتی ہے۔ بہر حال یہ اہم کڑی کہیں دریا کے کناروں کی پرتوں میں، مٹی اور ریت کی تہوں میں لاپتہ ہو گئی ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ زمین کی کھدائی میںماہر ہوتے ہیں۔ لیکن کھدائی شروع کرنے سے پہلے ان کو وہ جگہ طے کرنا چاہئے جہاں اہم کڑی کی تلاش کرنی ہے۔ کسی چیز کی کھوج ساری دنیا میںکرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور قدیم آدمی کی ہڈیاں زمین میں اس طرح چھپی ہیںجیسے بھوسے کے ڈھیر میںسوئی۔
انیسویں صدی کے آخر میں ایک جرمن ماہر حیاتیات ایرنسٹ ہیکل نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ بندر مانس (جیسا کہ سائنس داں اس کو کہتے ہیں)کی ہڈیاں کہیں جنوبی ایشیا میںمل سکتی ہیں۔اس نے دراصل وہ ٹھیک ٹھیک جگہ بھی بتا دی جہاں اس کے خیال میں یہ ہڈیاں محفوظ ہیں۔ یہ سنڈا کے جزیرے تھے۔
بہت سے لوگ اس سے متفق نہیں تھے۔لیکن اس کے نظریے کو بھلایا نہیں گیا۔خاص طور سے ایک آدمی تو اس سے اتنا متاثر تھاکہ وہ اپنا سارا کام کاج ترک کرکے جزائر سنڈا کو روانہ ہو گیا تاکہ وہ مفروضہ کی مفروضہ باقیات تلاش کرے۔
یہ آدمی آمسٹرڈام یونیورسٹی میںتشریح اعضا کے علم کا لکچرر تھا اور اس کا نام ڈاکٹر ایوگینی ڈیوبوا تھا۔
ان کے بہت سے ساتھ اور پروفیسر حیرت سے سر ہلاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی معقول آدمی اس بے مقصد تگ و دو میں نہیں پڑ سکتا۔ ان انتہائی معزز ہستیوں کا آنا جانا صرف آمسٹرڈام کی خاموش سڑکوں سے یونیورسٹی تک محدود تھا۔
اپنے جرأت آمیز منصوبے کے لئے کام کرنے کی غرض سے ڈاکٹر ڈیوبوا کو یونیورسٹی کی ملازمت ترک کرنی پڑی۔ وہ فوج میں بھرتی ہو کر سماترا روانہ ہو گئے جہاں ان کو ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنا تھا۔
جزیرہ سماترا میں قیام کے دوران میں انہوں نے اپنا سارا وقت اس تلاش کے لئے وقف کر دیا۔ ان کی زیر نگرانی مزدوروں نے کھدائی کرکے مٹی کے پہاڑ بنا دئے ایک، دو اور تین مہینے گذر گئے لیکن کی ہڈیوں سے مشابہ کوئی چیز نہ ملی۔
اگر آدمی کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش کرتا ہے تو وہ کم از کم یہ جانتا ہے کہ وہ وہیں کہیں ہے اوراگر وہ اس کی تلاش توجہ سے کرے تو مل جائے گی۔لیکن ڈیوبواکی صورت حال اس سے کہیں بری تھی۔یہ محض قیاس تھا۔ اور وہ قطعی طور پر یہ نہیںکہہ سکتے تھے کہ ایسی باقیات کا واقعی وجود ہے۔ پھر بھی انہوں نے استقلال کے ساتھ تلاش جاری رکھی۔ ایک، دو، تین سال گذر گئے لیکن ”گم شدہ کڑی” کہیں نہ ملی۔
ان کی جگہ پر کوئی اور ہوتا تو سارے خیال کو حماقت جان کر ترک کر دیتا لیکن ڈاکٹر ڈیوبوا کسی چیز کوادھورا چھوڑنے والے نہیں تھے۔
جب ان کو یقین ہو گیا کہ بندر مانس کی باقیات ان کو سماترا میں نہیں مل سکتیں توانہوں نے جزیرہ جاوا میں ان کو کھوجنے کا فیصلہ کیا۔ اور یہاں ان کوآخر کار کامیابی ہوئی۔
ڈیوبوا کو یہاں دریائے سولو کے کنارے ترینیل گائوں کے قریب کی ہڈیاں ملیں۔ ان میں ایک ران کی ہڈی، کھوپڑی کااوپری حصہ اورکئی دانت تھے بعد کو ران کی ہڈیوںکے کئی اور ٹکڑے بھی یہیں قریب ملے۔
ڈبوئوا نے اپنے ماقبل تاریخ کے جد کی کھوپڑی کو غور سے دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنے کی کوشش کی کہ وہ کیسا ہو گا۔ بندر مانس کی پیشانی نیچی اور چیٹی تھی جس میں آنکھوں کے اوپر ایک موٹی ہڈی ابھری تھی۔ چہرہ انسان سے زیادہ بندر سے مشابہ تھا۔ لیکن کھوپڑی کے گہرے مطالعہ نے ڈیوبوا کو یہ یقین دلا دیا کہ بندر سے کہیں زیادہ ذہین تھاکیونکہ اس کا دماغ بندر سے کہیں بڑا تھا۔
دراصل کھوپڑی حصہ، دانت اورایک ران کی ہڈی ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے آگے بڑھا جا سکے۔ پھر بھی گہرے مطالعہ کے ذریعے ڈیوبوا نے بندر مانس کی زندگی کے بہت سے واقعات کاجوڑ توڑ کر لیا۔ اس طرح ران کی ہڈی نے یہ دکھایا کہ وہ اپنے خمیدہ پیروں سے گھسیٹ کر چل لیتا تھا۔
ڈیوبوا نے تصور کیا کہ جیسے وہ بندر مانس کو جنگل کی ایک کھلی جگہ سے گذرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اس کا بدن جھک کر دوہرا ہو رہا ہے، اس کے شانے بھی جھکے ہیں اور اس کے لمبے ہاتھ زمین کو چھو رہے ہیں۔ بھوئوں کی بھاری ابھری ہڈی کی نیچے آنکھیں زمین پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ کہ اس کی نگاہ سے کوئی کھانے والی چیز چوک جائے۔
وہ اب بندر نہیں تھا لیکن فی الحال آدمی بھی نہیں ہوا تھا۔ ڈیوبوا نے اس بندر مانس کا نام رکھا کیونکہ دوسرے بندروں کے مقابلے میں وہ زیادہ سیدھا چلتا تھا۔
تم شاید یہ سمجھ لو کہ ڈیوبوا اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے؟ آخرکار پراسرار کو دریافت کر لیا گیا! لیکن اس کے بعد ڈیوبوا کی زندگی کے انتہائی سخت دن اور سال آئے انہوں نے دیکھا کہ زمین کی موٹی تہوں کو کھودنا انسانی تعصبات کی گہرائیوں کوچاک کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
ایوگینی ڈیوبوا کی دریافت پر ہر طرف سے غصے اور مضحکے کا اظہار کیا گیا کیونکہ بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنا نہیںچاہتے تھے کہ انسان اور بندر میں ماقبل تاریخ کے اجداد مشترک ہیں ۔ کلیسا اور اس کے پیروئوں کا کہنا تھاکہ ڈیوبوا نے جو کھوپڑی پائی ہے وہ کسی گیبون لنگور کی ہے اور ران کی ہڈی آدمی کی ہے۔ ڈیوبوا کے دشمنوں نے اسی پر اکتفا نہیں کہ وہ جاوا کے بندر مانس کو بندر اور آدمی کا مرکب ثابت کرتے بلکہ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ڈھانچے کی جو ہڈیاں ڈیوبوا کو ملی ہیں وہ حال کی ہیںاور صرف چند سال ہوئے زمین میں دفن ہوئی تھیں اور ڈیوبوا کے اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ ہزار ہا سال پرانی ہیں۔ انہوں نے کو پھر دفن کرنے، اس کو مٹی میں پھر دبانے اور اس کو بھلانے کی کوشش کی۔

علم انسان کے ماہروں نے ایک پتھرائی ہوئی کھوپڑی سے کی شکل وصورت بحال کی
ڈیوبوا نے اپنی دریافت کی ہمت کے ساتھ تصدیق کی اور وہ سب لوگ جو سائنس کے لئے اس کی اہمیت کو سمجھتے تھے ان کی طرف تھے۔
اپنے مخالفین سے بحث میں ڈیوبوا نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ کھوپڑی کسی طرح بھی گیبون لنگور کی نہیں ہو سکتی اس کی پیشانی نہیں سکتی کیونہ اس کے پیشانی نہیں ہوتی اور Pithcanthropusکے ہوتی ہے۔
زمانہ گذر گیا لیکن Pithecanthropus پھر بھی انسانی خاندان سے الگ ہی رکھ گیا۔
اچانک سائنس دانوں نے ایک نیا بندر مانس دریافت کیا جو Pithecanthropus سے بہت مشابہ تھا۔
بیسویںصدی کی ابتدا میں ایک یورپی سائنس داں چین کے شہر پیکنگ میں ایک دیسی دواخانے میں پہنچ گیا۔ وہاں جو انوکھی چیزیں رکھی تھیں ان میں ژین شین کی شفابخش جڑ، مختلف تعویذ، جانوروں کی ہڈیاں اور دانت تھے ۔ جانوروں کے دانتوں میں اس نے ایک دانت ایسا بھی دیکھا جو وہاں بالکل بے جوڑ تھا کیونکہ وہ کسی معروف جانور کا نہیں معلوم ہوتا تھا۔ پھر بھی اس میں انسانی دانت کا شائبہ تھا۔
سائنس داں نے یہ دانت خرید کر یورپ کے ایک میوزیم کو بھیج دیا۔ اس کو وہاں ”چینی دانت” کا عام سا نام دے دیا گیا۔
اس کو 25 سال سے زیادہ گذر گئے۔ پھر پیکنگ کے قریب چوکوتیان کے غار میں اسی طرح کے دو دانت اور پائے گئے اور پھر وہ بھی جس کے یہ دانت تھے۔ سائنس دانوں نے اس کو Sinanthropus کا نام دیا۔
اس کا مکمل ڈھانچہ کبھی نہیں ملا۔ نئی دریافتوں میں تقریباً پچاس دانت، تین کھوپڑیاں، گیارہ جبڑوں کے ٹکڑے، ران کی ہڈی کا ایک حصہ ایک ریڑھ کی ہڈی، ایک ہنسلی، ایک کلائی اور پیر کا ایک ٹکڑا پائے گئے۔
اس کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ چوکوتیان کے غار میں بندر نما آدمیوں کاایک بڑا گروہ رہتا تھا۔ لاکھوں سال کے دوران میں بہت سی ہڈیاں غائب ہو گئی ہیں۔ لیکن جو ٹکڑے ملے ہیں وہ ان غار کے رہنے والوں کی تشکیل کے لئے کافی ہیں۔ سائنس داں کو اگر ایک انگلی مل جائے تو وہ پورے جسم کو دریافت کرلے گا۔
ہمارا یہ دوردراز زمانے کا ہیرو دیکھنے میں کیسا تھا؟
سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ذرا بھی خوبصورت نہ تھا۔ اگر تم اس کو اچانک دیکھ لیتے تو سہم جاتے کیونکہ اس آدمی کی چپٹی پیشانی، باہر کی طرف نکلا ہوا لمبوترا چہرہ اور بالدار بازو تھے اوروہ اب بھی بہت کچھ بندر کی طرح تھا۔ دوسری طرف ایک منٹ یہ تصور کرنے کے بعدکہ وہ بندر تھا تم فوراً اپنا خیال بدل دیتے کیونکہ کوئی بندر آدمی کی طرح سیدھا نہیں چلتا اور کسی بندر کا چہرہ آدمی سے اتنا مشابہ نہیں ہے۔
اگر تم بندر نما آدمی کا تعاقب اس کے غار تک کرو تو سارے شبہات دور ہو جائیں گے۔
وہ اپنے مڑے ہوئے پیروں پر لڑکھڑاتا دریا کے کنارے جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اچانک وہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کو ایک بڑے پتھر سے دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کو اٹھاتا ہے، غور سے دیکھتا ہے اور دوسرے پتھر پر زور سے مارتا ہے۔ اب وہ اٹھ کر اپنی نئی دریافت کے ساتھ پھرلڑکھڑاتا ہوا روانہ ہو جاتا ہے۔ آخر کار وہ دریا کے کنارے ایک ڈھلوان اونچائی پر پہنچتا ہے۔ وہاں ایک غار کے دھانے پر اس قبیلہ جمع ہے۔ وہ سب ایک جھبرے، داڑھی والے بڈھے کے چاروں طرف جمع ہیں جو اپنے پتھر کے اوزار سے ایک ہرن کو کاٹ رہا ہے۔ عورتیں کچے گوشت کو اپنے ہاتھوں سے پھاڑ رہی ہیں۔ بچے دوڑ دوڑ کر گوشت کے ٹکڑے مانگ رہے ہیں۔ غار کی گہرائیوں سے جلتی ہوئی آگ کی روشنی آرہی ہے۔
آخری شبہات بھی دور ہو جاتے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا بھی بندر ہے جوآگ جلا سکے اورپتھروں سے اوزار تیار کر سکے۔ لیکن تم پوچھ سکتے ہو کہ ہمیں کیسے معلوم ہوا کہ بندر نما آدمی پتھروں سے اوزار بناتا تھا اور آگ کا استعمال جانتا تھا؟
چوکوتیان کے غار نے اس سوال کا جواب دیا ہے۔ ان قدیم آدمیوں کی باقیات کا جو ذخیرہ برآمد ہوا ہے اس میں دو ہزار سے زیادہ پتھر کے اوزار اور مٹی میں ملی راکھ کی کوئی ساتھ میٹر دبیز پرت بھی پائی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ بندر نما آدمی اس غار میں سالہا سال تک رہے اور وہاں آگ دن رات جلتی تھی۔ وہ آگ بنانانہیں جانتے تھے لیکن وہ اس کو بھی اسی طرح ”اکٹھا” کر لیتے تھے۔ جیسے کھانے کے لئے جڑی بوٹیاں اور اوزاروں کے لئے پتھر جمع کرتے تھے۔
کسی جنگل میں آگ لگنے کے بعد آگ مل جاتی تھی۔ تاریخ سے قبل کا انسان کوئی جلتا یہاں کوئلہ اٹھا لیتا اور اس کو بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی جائے رہائش تک لے جاتا۔ یہاں غار میں بارش اور ہوا سے محفوظ وہ اس آگ کی حفاظت ایک بیش بہا خزانے کی طرح کرتا۔

3013 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد