پھول کس طرح ارتقاء پذیر ہوے؟ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

پھول کس طرح ارتقاء پذیر ہوے؟

puzzle_cook_big

پھول کس طرح ارتقاء پذیر ہوے؟

سائنسدانوں نے وہ وہ ارتقائئ مرحلہ دریافت کر لیا جس کی وجہ سے پھولوں والے پودے زمین پر ماحولیاتی طور کامیاب اور سب سے زیادہ پاے جانے والے پودوں کے گروہ بن گئے۔

چارلس ڈارون کے لیے یہ ایک “قابل نفرت” معمہ ” تھا،اور یہ وہ سوال تھا جو اب تک سائنسدانوں کو تنگ کرتا چلا آیا تھا۔کہ آخر کس طرح پھولوں والے پودے ارتقاء پذیر ہوے اور کس طرح وہ زمین پر سب سے زیادہ پاے جانے والے پودوں میں شامل ہو گئے؟ایکولوجی لیٹرز میں شایع ہونے والی ایک نئئ تحقیق نے اس ارتقائئ ٹرگر کا انکشاف کیا ہے جس نے ابتدائئ پھولوں والے پودوں کو دیگر مدمقابل پودوں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچایا،جو کہ بعد میں ان کی تعداد میں ایک واضح اکثریت کا باعث بنا۔

ڈاکٹر ٹم براڈرب اور ڈاکٹر ٹیلر فیلڈ جن کا تعلق یونی ورسٹی آف تیسمانیا اور یقنی ورسٹی آف تینیسی سے ہے۔نے پودوں کی فیزیولوجی کا مطالعہ کیا اور یہ انکشاف کیا کہ کس طرح پھولوں والے پودے جن میں کراپس بھی شامل ہیں اس قابل ہونے کہ زمین پر غلبہ حاصل کر لیں،ان کے اندر پراثر ہاےڈراولس ( لیف پمپنگ) کا ارتقاء ہوا جس سے ان کے اندر فوٹو سینتھیسز کی شرح میں اضافہ ہو گیا۔
پھولوں والے پودے پوری زمین پر سب سے زیادہ پاے جانے والے پودے ہیں،،یہ کہنا تھا بروڈرب کا۔اس کامیابی کی ایک وجہ تقابلی طور پر ان کے پتوں کی وافر فوٹوسانتھٹک وسعت بھی ہے۔مگر کب اور کیسے ان کی فوٹوسائنتھٹک وسعت میں اضافہ ہوا یہ ابھی تک ایک معمہ ہے۔
پتوں کی رگوں کی کثافت کی پیمایشاورمربوط ہاڈرااولگ فوٹوسئنتھٹک ماڈل استمعال کر کے بروڈرب اور فیلڈ نے بیج والے پودوں میں پتوں کی ہائڈرالک وسعت کو دوبارہ بیان کیا۔اس کے نتیجے نے یہ انکشاف کیا کہ انگیوسپر پتوں کے جوڑ توڑ کے عمل میں ہونے والی ارتقائئ تبدیلیوں نے فوٹوسئنتھٹک وسعت کو ایک نئئ بلندیوں پر دھکیل دیا۔

اس ارتقائئ مرحلے کی کامیابی کی وجہ یہ کہ ہے کہ تقابلی طور پر کم فضائئ (Co2) حالات میں جیسے کہ حال میں موجود ہے،پانی کی نقل و حمل کی لیاقت اور فوٹوسئنتھٹک کی تعمیل ایک دوسرے سے شدت سے جڑے ہوے ہیں۔
اس لیے ایسی تبدیلیاں جن کی بدولت پانی کی ترسیل زیادہ ہو سکے فوٹوسینتھیسس کے عمل کو تقویت دیں گی اور یوں دوسرے سپیشیز کی نسبت جانور کو زیادہ تیزی سے ارتقاء کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ کوئی دس سے چودہ کروڑ برس پہلے کی بات ہے کہ پھولدار پودوں میں وریدونباتات کی گھنی ترتیب (یعنی نظامِ عروقی) کا رو رنما ہونا ان پودوں کے مسلسل ارتقاء کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سانحہ ٹھہرا۔ اس مرحلے سے چاکی دور کی ایک ایسی پیداواری تحریک نے جنم لیا جس کی بازگشت پورے کے پورے کرہ حیات (یعنی زمیں) پر پھیلتی چلی گئی اور ان پودوں کے لیے راہیں ہموار ہوتی گئیں جوکہ زمیں کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی عمل میں کلیدی کردار نبھا رہےہیں۔
ہائڈولک نظام کے بغیر ہم یہ پیشنگوئئ کرتے ہیں کہ یہ فوٹوسیتھسز دو گنا کم ہوتی جتنی کہ آج ہے،یہ نتیجا نکالنا تھا براڈرب کا۔سو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس ارتقائئ مرحلے کے بغیر زمین پر موجود پودوں کے اندر وہ مادی قابلیت نا ہوتی جو کہ ان کی ثؐمر آوری کی وجہ بنتی جو کہ ارضی حیاتیات اور انسانی معاشروں کو سہارا دیتی ہے ۔

ریفرینس

http://www.sciencedaily.com/releases/2009/…/091201100221.htm

5747 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada