ہمیں چھینکیں کیوں آتی ہیں؟ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

ہمیں چھینکیں کیوں آتی ہیں؟

puzzle_cook_big

ہمیں چھینکیں کیوں آتی ہیں؟

اگر آپ کو ابھی چھینک آیی ہے تو یہ اس وجہ سے ہوا کیوں کہ کویی چیز آپ کی ناک کو تنگ کر رہی تھی یا گدگدا ریی تھی.چھینکنا وہ عمل ہے جس میں ناک کو تنگ کرنے والے عوامل کا خاتمہ ہوتا ہے.جب آپ کی ناک کے اندر والے حصے میں گدگدی ہوتی ہے،آپ کے دماغ کے ایک خاص حصے میں ایک پیغام جاتا ہے،اس حصے کو سنیز سنٹر کہا جاتا ہے.یہ سنیز سنٹر پھر ایک پیغام ان تمام پٹھوں کو بھیجتا ہے جن کو ایک حیران کن پیچیدہ عمل کو پیدا کرنا ہوتا ہے،جسے ہم چھینک کہتے ہیں.
بیٹ کے پٹھے بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں.ڈایافرام جو کہ ایک بڑا پٹھا ہے جو کہ آپ کے پھیپڑوں کے نیچے ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے آپ سانس لے سکتے ہیں.اس کے علاوہ وہ پٹھے جو آپ کی آواز کے تار کو قابو میں رکھتے ہیں اور آپ کے حلق کے پیچھے کے پٹھے.
اس کے علاوہ آنکھوں کے پیوٹے کے پٹھے.کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ ہر بار چھینکتے ہوے آنکھ بند کیوں کرتے ہیں.؟
یہ سنیز سنٹر کا کام ہے کہ وہ ان تمام پٹھوں کو ایک ساتھ اور درست ترتیب کے ساتھ کام کرواے تاکہ وہ آپ کی ناک میں سے تنگ کرنے والے عوامل کو نکال باہر کرے.
چھینک سے آپ کی ناک میِں موجود ننھے زرات سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے باہر کی اوڑ آتے ہیں.
میساچسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم ایی ٹی) کی محقق لاےڈیا بوروآییبا اور اس کے ساتھی اس کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ آخر حقیقتاً کیا ہوتا ہے جب ایک انسان چھینکتا ہے.وہ تیز رفتار امیجنگ استمعال کر رہے ہیں تاکہ ان قطروں کے بادلوں کی تصویر لے سکیں جو چھینکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.تب بوروبیا ریسیرچ گروپ نے ریاضی کا استمعال کیا یہ پرکھنے کے لیے کہ آخر ان قطروں کے ساتھ ہوتا کیا ہے.وہ یہ جاننے کی بھی امید رکھتے ہیں کہ بیماریاں کہسے پھیلتی ہیں.
کویی بھی چیز جو کہ آپ کی ناک کو تنگ کرے آپ کو چھینکنے پر مجبور کر سکتی ہے.عام طور پر گرد غبار،ٹھنڈی ہوا اور سیاہ مرچ اس کی وجہ بنتے ہیں.جب آپ کو زکام ہوتا ہے.ایک طرح کا وایرس وہاں پر اپنا عارضی طور پر گھر بنا لیتا ہے اور جو کہ بہت زیادہ سوجن اور ہیجان پیدا کرتا ہے.کچھ لوگوں کو الرجی ہوتی ہے.اور وہ چھینکتے ہیں جب ان کے سامنے کچھ چیزیں آتی ہیں مثلا جیسے کہ جانوروں کے فر وغیرہ جو کہ بہت سے پالتو جانوروں کے ساتھ آتے ہیں اور زرگل جو کہ کچھ پودوں میں ہوتا ہے.
کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی میں آ کر کون چھینکتا ہے؟.ہر تین میِں سے ایک شخص چھینکتا ہے جب وہ تیز روشنی کا سامنا کرتا ہے.اسے فوٹک سنیز کہا جاتا ہے.فوٹک کا مطلب ہے روشنی.یہ آپ کو آپ کے والدین کی طرف سے ملتا ہے کیوں کہ یہ وراثتی خصوصیت ہے.آپ کہ سکتے ہیں کہ یہ آپ کے خاندان میں دوڑنے والا مرض ہے.کچھ لوگوں میں روشنی کے لیے حساسیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں چھینکیں آتی ہیں.
کیا آپ کو کبھی ایسا احساس یوا کہ آپ کو چھینک آ رہی تھی مگر پھر رک گیی؟ اگلی بار اگر ایسا ہوا تو کوشش کریں کہ تیز روشنی میں غور سے دیکھیں (اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سورج کو دیکھیں) اور پھر دیکھیں کہ رکی ہویی چھینک آتی ہے کہ نہیں.
Reference
http://kidshealth.org/kid/talk/qa/sneeze.html

8147 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada