قدیم مصر اور بلیوں کی حیثیت - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

قدیم مصر اور بلیوں کی حیثیت

puzzle_cook_big

قدیم مصر اور بلیوں کی حیثیت

قدیم مصری لوگ جانوروں کا بہت احترام کرتے تھے جو کہ ان کی زندگی میں حصہ دار ہوتے تھے اور ان میں سے بہت سے جانوروں کو الواہیت اور مثبت انسانی کردار کے ساتھ مربوط کرتے تھے.تاہم کویی بھی جانور ان میں سے بلیوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھا.بلیاں بہت سے خداوں اور دیویوں کے ساتھ قریب سے منسلک تھیں اور اس بات کے ثبوت بھی ملے ہیں کہ انہیں آدھا خدا مانا جاتا تھا.
ویلی آف دی کنگ سٹیٹ کی ایک کندہ کاری میں یہ الفاظ پڑھنے کو ملے ہیں.
“تم ایک عظیم بلی ہو،تم خدا کی ممتقم ہو اور الفاظ کی منصف ہو اور اقتدار اعلی کی سربراہ ہو اور پاک دایرے کی گورنر ہو،تم یقینا ایک عظیم بلی ہو.”
بلخصوص زرعی معاشرے میں قدیم مصری باشندوں کو چوہوں،گھونس اور سانپوں اور وہ جانور جو کہ گلے کے گوداموں کے لیے خطرے کا باعث تھے سے شدید مسئلہ ہوتا تھا.یہ کہا جاتا ہے کہ قدیم مصریوں نے یہ سیکھ لیا تھا کہ جنگلی بلیاں ان جاروب کش جانوروں کا شکار کرتی ہیں اس لیے وہ ان کے لیے کھانا جیسے کہ مچھلیوں کے سر چھوڑ جاتے تاکہ وہ ان کے پاس روزانہ آیا کریں.یہ چیز بلیوں کے لیے بہت موزوں ثابت ہویی کیوں کہ انسانوں کے پاس رہنے سے انہیں مفت کھانا بھی ملتا تھا اور اس طرح وہ دیگر بڑے گوشت خور جانداروں سے بھی محفوظ رہتی تھیں.جیسے یہ ہم زیستانہ رشتہ بڑھتا گیا بلیاں گھروں کے اندر بھی رہنے لگیں اور آخر کار اپنے انسانی دوستوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہو گییں اور اپنے بچے بھی ان کے گھروں کے عقب میں رکھنے لگیں جہاں پر وہ انہیں محفوظ تصور کرنے لگیں.
ان کی خوراک بدل گیی کیوں کہ اب انہیں شکرگزار انسانوں سے کھانا ملتا تھا.اور افزایش نسل کے کاموں نے ان جنگلی جانوروں میں مخصوص کردار کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا.قدیم مصری ان بلیوں کے ساتھ مل کر شکار بھی کرتے تھے.یہ ایک بظاہر کمال کا کارنامہ تھاایک ایسے جانور کے ساتھ مل کر جو کہ اپنی خودسر شخصیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے.زیادہ اہم طور پر وہ اپنی بلیوں سے پیار اور ان کی قدر کرتے تھے کیوں کہ جہاں وہ بہت چنچل اور بامحبت تھیں وہیں پر وہ کمال کی زہین شکاری بھی تھیں.
بلیاں خوابوں کی تشریحات کے لیے بھی کافی ضروری سمجھی جاتی تھیں.ظاہری طور پر بلی کو اپنے خواب میں دیکھنا اس بات کو ثابت کرتا تھا کہ ان کی فصلوں کی پیدا وار اچھی ہو گی.
مصری باشندے جنگلی بلیوں اور گھریلو بلیوں کے درمیان فرق نہیں جانتے تھے.تمام طرح کی بلیوں کو “میاِوں” کے نام سے جانا جاتا تھا
.
تاریخ
مصر میں بلیوِں کی دو طرح کی نسلیں پایی جاتی تھیں.ایک جنگلی بلی Felis chaus اور دوسری افریقی جنگلی بلی Felis silver lybica.آخرالذکر کافی ٹھنڈے مزاج کی بلی تھی اس لیے اسے عام طور پر پالا گیا بنسبت اس کے جنگلی رشتےداروِِں کے.ان دو طرح کی نسلوِں کے ملاپ سے ایک نیی نسل وجود میں آیی جو کہ جدید مصری بلیوں سے کافی حد تک مشابہت رکھتی تھی.جیسے ہی بلیوں کو پالا جانے لگا ان کے رویوِں اور ظاہری خدوخال میں بھی نمایاں تبدیلیاِں دیکھی جانے لگیں.بلیاں کافی رنگین ہو گیں.ان کے جسم چھوٹے ہو گیے اور پٹھے بھی کم ہوگیے یہ ان کی خوارک میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا اور جس کی وجہ سے ان کے دماغ بھی چھوٹے ہوے اور اس طرح ان کے اندر انسانوں کے لیے برداشت کا عنصر بڑھ گیا.
ایسا لگتا ہے جیسے بلی درحقیقت مصر کی مقامی ہو.اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ دنیا بھر میں بلیوں کی اکثریت کے اجداد کا سراغ مصر میں لگایا جا سکتا ہے.یہ کیی بار کہاـجاتا ہے کہ مصر میں بلیاں ۲۰۰۰ قبل مسیح پیرشیا سے لایی گییں یاـپھر نیوبیا سے نیو کنگڈم کے دوران مگر یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں کیوں کہ بلیاں مصر میں ان تاریخوں سے پہلے بھی موجود تھیں.درحقیقت ماہرین آثار قدیمہ نے یہ سراغ لگایا ہے کہ ایک آدمی کو اس کی بلی کے ساتھ ہی اہک تابوت میں دفنا دیا گیا تھا موسٹایڈا میں آسیوٹ کے نذدیک چھ ہزار سال قبل.بلی غالباَ گھریلو نہیں تھی مگر مرنے والے کے لیے کافی قیمتی لگتی تھی.یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بلیوں کو مصر میں دو ہزار قبل مسیح گھریلو بنایا گیا.
نیو کنگڈم میں بلیاں اکثر اوقات مزاروں کے اوپر تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں ان کے انسانی خاندان کی تصاویر بھی شامل ہوتی ہیں.ان تصاویر میں لوگوں کو اپنی بلیوں کے ہمراہ شکار پر جاتے ہوے بھی دیکھا جا سکتا ہے.جو کہ اپنے انسانی ساتھیوں کے لیے پرندے اور مچھلیاں پکڑنے کا کام سرانجام دے رہی ہوتی ہیں.تاہم ایک بہت عام اور پیاری تصویر میں یہ دیکھایا گیا ہے کہ ایک بلی ایک گھر کی مالکہ کی کرسی کے نیچے یا ساتھ بیٹھی ہے اور اسے ًپناہ اور دوستی کی پیشکش کر رہی ہے.یہ بلیاں ہمیشہ سے مقبول رہی ہیں اور بہت طاقتور خداوں کی شریک رہی ہیں.
بہت سے جانوروں کو خداوں کے شریک کے طور پر مانا جاتا رہا ہے جن میں مگرمچھ،عقاب اور گاے) شامل ہیں.مگر جانوروں کو از خود کبھی خدا نہیں
سمجھا گیا.تاہم ،اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ہر بلی کو آدھا خدا سمجھا جاتا تھا اگر چہ کچھ مصری ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے.ایک نظریے کہ مطابق بلی آدھی خدا اس لیے عام لوگ اسے نہیں رکھ سکتے تھے.صرف ایک فرعون کے پاس یہ رتبہ ہوتا تھا کہ وہ بلی رکھ سکے.پس تمام بلیاں فرعون کی نگرانی میں ہوتی تھیں اور بلیوِں کو نقصان پہچانے پر قید کی سزا ہوتی تھی.بلیوں کی تجارت کرنے پر پابندی عاید تھی.کورٹ کے رکاڈ سے یہ بات کنفرم ہوتی ہے کہ اغوہ شدہ بلیوں کو بچانے کے لیےایک فوج تعینات تھی جو کہ انہیں واپس مصر لاتی تھی.
ایک روایت کے مطابق پرشین مصریوں کے بلیوں کے پیار کو ان کے خلاف استمال کرتے تھے.وہ بڑی تعداد میں بلیوں کو میدان جنگ میں پیلوسیم کے باہر چھوڑ دیتے.جب مصری جنگجو ایک بڑی تعداد میں سہمی ہوہی بلیاں میدان جنگ میں بھاگتے ہوے دیکھتے تو ہتھیار ڈال دیتے وہ اپنے ان پیارے دوستوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے.
منحوط کاری اور تدفین
جب ایک بلی مر جاتی تھی اس کے انسانی ورثاء سخت صدمے کی حالت میں آ جاتے تھے اور اپنی بھوییں منڈوا لیتے تھے.اس کے بعد اس بلی کو محنوط کیا جاتا اور ساتھ میں دودھ ،چوہے اور گھونس رکھ کر اسے دفنا دیا جاتا تھا.بلیوں کو کیی بار بباسٹس لے جا کر دفنایا جاتا تھا مگر غزہ،ابےڈوس،دینڈیرہ اور بنی حسن میں ایسے مقبرے بھی ملے ہیں،مثال کہ طور پر ایک مقبرہ ۱۸۸۸ بنی حسن میں ایسا ملا جس میں تقریبا ۸۰۰۰۰ بلیوں کو دفن کیا گیا تھا.
مردہ بلی کو لینن میں لپیٹا جاتا اور حنوط کرنے بھیج دیا جاتا.مردہ بلی کو دیار کا تیل لگایا جاتا اس کو خوشبو لگایی جاتی تاکہ وہ جسم زیادہ عرصے تک محفوظ رہے.
Reference
http://www.ancientegyptonline.co.uk/cat.html
Visit our Page
https://www.facebook.com/sciencekiduniyaa

5008 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada