سفید جلد یورپ میں صرف ۸۰۰۰ سال پہلے ارتقاء پذیر ہویی - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

سفید جلد یورپ میں صرف ۸۰۰۰ سال پہلے ارتقاء پذیر ہویی

puzzle_cook_big

.سفید جلد یورپ میں صرف ۸۰۰۰ سال پہلے ارتقاء پذیر ہویی

جلد کا رنگ اور آنکھوں کی رنگت جو تمام دنیا کے انسانوں
میں ظاہر ہوتی ہیں،اپنی تنوع میںً بہت دلچسب اور حیرت انگیز ہیں.تحقیق جاری ہے کہ آخر کس طرح انسان نے یہ خصلت حاصل کی اور کب کی،اس گتھی کو سلجھانے کے لیے ایک حالیہ ماہر بشریات نے یہ تجوہز کیا ہے کہ ہلکی رنگت اور لمبایی جو یورپین جینیات میں شامل ہے یہ متعلقہ طور پر ایک جدید خصلت ہے جو کہ اس براعظم پر آیی.
ایک انٹرنیشل ٹیم کے محققین جن کی سربراہی ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر لین میتھسن کر رہے تھے،نے امریکی انجمن براے طبعی ماہر بشریات کی ۷۴ویں سالانہ مجلس میں ایک تحقیق پیش کی.

ہولوکین یورپ سے انسانوں کے ۸۳ نمونے لیے گیے اور جن کا ۱۰۰۰ جینومز پروجیک کے تحت مطالعہ کیا گیا.اب یہ معلوم ہوا کہ یورپ میں رہنے والے زیادہ تر
انسانوں کی رنگت ماضی میًں سیاہ مایل تھی اور ہلکی رنگت صرف ۸۰۰۰ سال پہلے ظہور پذیر ہویی.اس حالیہ متعلقہ طور پر تیز فطری انتخاب کے عمل نے محققین کو یہ تجویز کیا کہ وہ خصوصیات جو کہ تیزی سے بڑھیں وہ ماحول کے لیے فایدہ مند تھیں،بمطابق، امریکی انجمن براے ساینسی فروغ.اےاےاےایس.
یہ ڈرامایی ثبوت بتاتا ہے کہ یورپین باشندوں کے اجداد ویسے نہیں دکھتے تھے جیسے کہ وہ آج ہیں.

جینیاتی پھیلاو

یہ نمونے بڑے پیمانے پر قدیم آبادیوں سے لیے گیے ہیں بنسب چند افراد کے.اور یہ محقیقین کو پانچ مخصوص جینز کے بارے میں بتاتے ہیں جو کہ جلد کی رنگت اور غذا سے متعلق ہیں.

اے اے اے ایس نے رپورٹ کیا کہ وہ جدید انسان جو کہ افریقا کہ باہر آے ابتداء میں یورپ میں تقریباً ۴۰۰۰۰ سال پہلے رہایش پذیر ہوے جن کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ سیاہ رنگت کےتھے اور جو کہ آفتابی عرض البلد میں فایدہ مند ہوتی ہے.اور نیے حقایق یہ تصدیق کرتے ہیں کہ ۸۵۰۰ سال پہلے قدیم شکاری جو سپین،لکسامبرگ اور ہنگری میں جمع ہوے ان کی جلد بھی سیاہ مایل تھی.ان کے اندر دو طرح کے جینز کی کمی ہو گیی تھی،SLC24A5اور SLC45A2 جو کہ رنگت میں کمی کا باعث بنی اور یہی وجہ ہے کہ یورپین لوگوں کی رنگت آج سفیدی مایل ہے.
اس کے بعد پہلے کسان یورپ میں قریب مشرق سے داخل ہوے.ان کے اندر بھی ہلکی رنگت والے دونوں جینز شامل تھے.ان کا ملاپ جب علاقایی شکاریوں سے ہوا تو ان کی ہلکی رنگت والے جینز میں سے ایک جینز پورے یورپ میں پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی مرکزی اور مشرقی یورپین بھی ہلکی رنگت کے مالک ہوتے چلے گیے.دوسرا جین SLC45A2تغیر پذیر ہوتا گیا،یہ ۵۸۰۰ سال پہلے کم.درجے کا تھا اور پھر اس کا ارتعاش زور پکڑتا گیا.
یہ صورتحال بعید شمال سے محتلف تھی.۷۷۰۰ سال قدیم مشرقی سویڈن کی باقیات دریافت کی گییں جن سے یہ معلوم.ہوا کہ ان میں بھی ہلکی رنگت،سنہرے بال اور دیگر جینز HERC2/OCA2شامل تھے جو کہ آنکھوں کی نیلی رنگت کا باعث بنے.یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ قدیم جنوبی یورپ کے شکاری پہلے سے ہلکی رنگت اور نیلی آنکھوں کے مالک تھے.
یہ ہلکی رنگت کی خصلت ہلکی آفتابی روشنیوں میں فایدہ مند ثابت ہوتی تھی.

فطری انتخاب

میتھیسن اور اس کے ساتھیوں نے تحقیق میں یہ واضح نہیں کیا کہ کہ جینز نے ساتھ کس طرح دیا اور وہ اتنی تیزی سے کس طرح پھیلے.مگر یہ
تجویز کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی تحلیل نے غالباً کویی کردار ادا ضرور کیا.قدیم شکاری یورپ میں ۸۰۰۰ قبل دودھ ہضم نہیں کر سکتے تھے.ان کے اندر یہ قابلیت ۴۳۰۰ سال قبل رونما ہویی.
ماپر زکازیات،قدیم حیاتیات کی ماہر نینا جبلونسکی جن کا تعلق پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی سے ہے نے یہ نوٹ کیا کہ لوگوں کو کم آفتابی فضا میں مختلف جلد کا رنگ چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ وٹامن ڈی کو جذب کر سکے اور کلیہ بنا سکے.یہ ہلکی رنگت ایسے علاقے میں فایدہ مند ثابت ہویی اور اس سے دودھ کو ہضم کرنے کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا.
فطری انتخاب اس خرابی کی صورت میں دو جینیاتی حل.پیش کرتا ہے…ہلکی رنگت جو کہ UV کو مذید بہتر طریقے سے جذب کر سکتی ہے اور کھانڈ کو برداشت کرنے کی طاقت جو شکر اور وٹامن ڈی کو ہضم کرنے کی طاقت دیتی ہے.

ایک ۷۰۰۰ ہزار سال پرانے انسان جس کی باقیات سپین سے ۲۰۰۶ میں ملیں،جس کے دانتوں کا ڈی این اے لیس گیا جس نے یورپین شکاریوں میں ہلکی رنگت کی مشہور تصور کو درہم برہم کر دیا.اس تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ ہر ایک فرد کے بال گہرے اور گہری چمڑی والے افریکی کے جینز ان میں شامل تھے.تاہم،ان کی آنکھیں نیلی ضرور تھیں جو کہ محققین کے لیے غیر متوقع بات تھی.یہ شکاری گروہ یورپ سے ملنے والے سب سے پرانے جانے والے افراد تھے جن کی آنکھیں نیلی تھیں.
پرانی تحقیق جو ۲۰۰۸ میں پبلش ہویی تھی میں یہ بتایا گیا تھا کہ آنکھوں کے رنگ والے جینز میں ابتدایی میوٹیشن جو کہ آنکھوں کی نیلی رنگت کے ارتقاء کا باعث بنیں شاید ۱۰۰۰۰سال پہلے ان افراد کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہو گیا جو کہ بلیک سی کے اردگرد رہتے تھے.
ان تحقیقات کا چونکا دینے والا پہلو یہ تھا کہ جیسے کہ یہ فطری انتخاب
کے لیے بنیادی بات ہے کہ مفید جینیاتی خصوصیات مذید پھیلیں.یہ اکثر اوقات ایک تیز عمل نہیں ہوتا.تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان جینیاتی ہلکی جلد والی خصوصیات یورپ میں تیزی سے پھیلتی چلی گیں.اور یہ مظہر محققین کے لیے حاصا دلچسبی کا باعث ہے.

Reference
http://www.ancient-origins.net/news-evolution-human-origins/white-skin-developed-europe-only-recently-8000-years-020287?mini=2015-12

6223 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada