میملز نے ارتقایی سفر میں ریپٹائیلز کو ہرا دیا ہے۔ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

میملز نے ارتقایی سفر میں ریپٹائیلز کو ہرا دیا ہے۔

images (1)

میملز نے ارتقایی سفر میں ریپٹائیلز کو ہرا دیا ہے۔

مترجم۔۔ مزمل پیرزادہ
مددگار۔۔ جنید حمید

میملزپرندوں اور مچھلیوں نے ارتقاء کے سفر میں ریپٹایلز کو ہرا دیا ہے،مثال کہ طور پر مگرمچھ اور دیگر ریپٹایلز۔
ہماری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ میملز بہت خاص ہیں،یہ کہناتھا تحقیق کے سربراہ مائیکل الفرو کا جن کا تعلق یو سی ایل اے سے ہے۔

اس تحقیق نے سائنسانوں کو پہلی بار یہ جاننے کا موقع دیا کہ کس جانور کے خاندان میں کامیابی کی شرع کامیاب رہی۔ان جیتنے والوں کے خاندان میں بہت سے انواع شامل ہیں جس کامطلب یہ ہوا کہ وہ کامیابی سے ارتقاء پذیر ہوے اور بہت سے مختلف طرح کے ماحول میں تقسیم ہو گئے۔ہارنے والے کم تقسیم ہوے حالانکہ وہ اربوں سالوں کا عرصہ گذار چکے تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ہارنے والے معدوم ہونے کے قریب ہیں،تاہم متقسم خاندان ایسے ہیں جن کو معدومیت کا خطرہ ہے۔

ثبوت

جیتنےوالوں کو ہارنے والوں سے علیحدہ کرنے کے لیے سائنسدانوں کے ایک گروہ نے 47 طرح کے خاص ورٹیبریٹس گروہ کے ڈی این اے کے تسلسل اور فاسز کا مطالعہ کیا،اور ایک کیمیوٹیشنل اپروچ استمعال کی یہ حساب لگانے کے لیے کہ ان انواع کی دلفریبی (ایک طریقہ جس سے بائیوڈاییورسٹی کو جانچا جاتا ہے) ان 47 گروہ میں سے غیر معمولی طورپر کم ہے یا زیادہ ہے۔

جیتنے والوں میں زیادہ تر جدید پرندے،جن میں سانگ برڈ ،طوطے۔فاختہ ،عقاب،ہمنگ برڈ،اور کبوتر؛ کچھ میملز ایک مچھلیوں کا گروہ، زیادہ تر مچھلیاں جو کہ کورل چٹانوں کے پاس رہتی ہیں شامل تھیں۔

ہارنے والوں میں مگر چھ ،گھڑیال،اور ریپٹایلز کے رشتے دار چھپکلیاں اور سانپ شامل ہیں جنہیں ٹواٹرا کہتے ہیں۔

جیتنے والوں نے شاندار انواہی کثرت کا مظارہ کیا۔خاص طور پر ان گروپس نے جن کو اس زمین پر آے ہوے بہت ہی کم وقت ہوا تھا۔

جیتنے والے بمقابلہ ہارنے والے

میملز کے بہت سے گروہ جن کا سائنسی نام۔بوریوایوتھیریا ہے سات گنا تیزی سے ارتقاء پذیر ہوے یہ اس سے زیادہ تھا جو کہ سائنسدانوں توقع کیا تھا۔انہوں نے اپنے ارتقاء کا آغاز 110 ارب سال پہلے کیا،اس کا حساب الفرو اور اس کے ساتھیوں نے لگایا،اس گروہ میں پرایمیٹس اور گوشت خور جاندار شامل تھے،اس کے علاوہ چمگاڈراور راڈنٹس بھی اس کا حصہ تھے۔

جدید پرندے توقع سے نو گنا تیزی سے ارتقاء پذیر ہوے،اور انہوں نے اپنے ارتقائئ سفر کا آغاز آج سے 103 ملین سال پہلے کیا،اسی طرح ایک مچھلیوں کا گروہ جو کہ کورل چٹانوں کے پاس رہتا تھا آتھ گنا تیزی سے تقسیم ہوا جتنا کہ توقع کی گئئ تھی۔یہ کہنا تھا آلفرو کا۔

ہارنے والے دوسرے طرف بہت کم تبدیل ہوے حالانکہ وہ زمین پر بہت پہلے سے موجود تھے۔

مگرمچھ اور گھڑیال تقریباً 250 ملین سال پرانے ہیں،کہنا تھا الفرو کا،اور وہ اب تک صرف 23 طرح کی انواع میں تبدیل ہوے ہیں۔وہ 1000 گنا آہستہ تقسیم ہوے اس سے جتنا کہ سائنسانوں نے توقع کی تھی۔

ان کے انواع کی دلفریبی ان کی زمین پرمقیم رہنے کی عمر کے حساب سے بہت کم ہے،یہ کہنا تھا آلؒفرو کا۔

ٹواٹرا جو کہ نئوزی لینڈ میں رہتی ہے اور جو کہ چھپکلی سے مشابہت رکھتی ہے،وہ صرف دو انواع میں تقسیم ہوئئ۔

یہ سائنس دانوں کے لیے ایک اصلی معمہ ہے کہ کس طرح ٹواٹرا نے بہت کم شرع میں انواع پذیری دیکھائئ۔کچھ چیزیں ان کے لیے کام کر رہی تھیں جن کی وجہ سے وہ اپنی موجودہ حالت میں قائم رہے۔انواع کی دلفریبی میں وہ ہار گئے مگر دوسرے لفظوں میں اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر خاص ہیں۔

اس کی شرح میں اضافہ کے وقت اور کچھ اہم خصوصیات کے نمودار ہونے کے وقت میں ہم اہنگی نہیں ہے جنہیں ان گروپس کی ارتقائی عمل میں کامیابی کی وضاحت کے طور پر پیش کیا گیا مثال کے طور پر ممالیہ جانوروں میں بالوں اور مربوط چبانے کی صلاحیت کا ظہور اور پرندوں میں پروں کا نمودار ہونا. الفارو کا کہنا ہے کہ ہمارے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کوئی حالیہ چیز ہی زندگی میں تنوع کی وجہ ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی مبہم وجہ ہو جو ہمیں مچھلیوں ، پرندوں اور ممالیہ جانوروں کی ارتقائی عمل میں کامیابی کو سمجھنے میں مددگار ہو ہمیں نئی توجیحات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ریفرینس
http://www.livescience.com/7845-mammals-beat-reptiles-battle-evolution.html

5580 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by Muzammil Pirzada