کیا ارتقا کی تھیوری غلط ہے؟ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

کیا ارتقا کی تھیوری غلط ہے؟

جب کوئی پوچھتا ہے کہ بتاؤ بندر سے انسان بننے کی کیا دلیل ہے؟

تو صرف ایک نصیحت سوجھتی ہے۔

ایک بار پڑھ آؤ کہ سائنس کا اصل نظریہ کیا ہے۔

فیس بک پر نظریۂ ارتقا کے جتنے مخالفین نظر آتے ہیں، ان سب میں یہ بات مشترک ہے کہ انہوں نے اس نظریے کو اس کے اصل ماخذات سے نہیں پڑھا۔

جو کچھ پڑھا ہے وہ ہارون یحیی اور خورشید ندوی وغیرہ جیسے لوگوں کی کتابوں میں پڑھا اور پھر اعتراض شروع کردیا۔ یہ “ہم سب” نامی ویب سائٹ پر چھپنے والا مضمون “ڈارون کی ارتقا کی تھیوری غلط ہے” بھی اسی طرح کا مضمون ہے۔

یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ذاکر نائک پر اعتراض کرنے کے لیے مولوی الیاس گھمن جیسے کسی مولوی صاحب کی کتاب “ذاکر نائک کی حقیقت” کو پڑھ لیا جائے اور بھر منہ گالیاں دی جائیں۔

میرے بھائی یہ ارتقا کوئی اکیلے ڈارون یا انگریز کی “ایجاد” یا سازش نہیں ہے۔ یہ تو مسلمان حکما اور صوفیا میں بھی متعدد لوگوں نے قبول کیا ہے کہ انسان کوئی اللہ میاں کے ہاتھوں گوندھی گئی مٹی سے بنائے گئے پتلے کا نتیجہ نہیں ہے۔ جانداروں کا وجود اللہ تعالی کی حکمتِ کاملہ کے باعث وجود میں آنے والے مادی قوانین کے تسلسل سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔

اس پر بھی بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ارتقا کی لائیو شہادت دکھاؤ؟

ہم کیسے مانیں کہ لاکھوں سال پہلے ہونے والا مظہر یہی تھا؟

ایسے تمام معترضین سے گزارش ہے کہ ارتقا کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانوں کے لیے اجنبی ہو۔ علم، لٹریچر، سائنس، معاشرت، سیاست، معیشت، شاعری، نثر، زبان اور محاورے تلک ہر چیز مستقل بڑے استقلال کے ساتھ ارتقا سے گزر رہی ہے۔ ارتقا کائنات میں ہونے والے مظاہر کا ایک ایسا مجموعی مظہر ہے جس کا انکار ممکن ہی نہیں ہے۔ پھر حیات میں ارتقا کا ہونا کونسے اچھنبے کی بات ہوئی؟

پھرمیٹھا پان منہ میں رکھ کر پڑیا سے ہاتھ پوچھ کر ارشاد فرماتے ہیں کہ میاں یہ تھیوری ہے۔ اور تھیوری تو تھیوری ہوتی ہے۔ حقیقت اور تھیوری میں فرق ہوتا ہے۔

عرض ہے سرکار، پہلے سائنس میں تھیوری کا مطلب سمجھ لیتے تو اچھا نہ ہوتا؟ سیدھی سیدھی سی بات یہ ہے کہ سائنس میں تھیوری تقریباً حقیقت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور نظریۂ ارتقا جتنی مضبوط تھیوری سائنس کی تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ ہمارے یہاں نویں، دسویں، گیارھویں اور بارھویں جماعتوں میں پچھلے تیس سالوں سے مستقل یہی پڑھایا جارہا ہے کہ پہلے تھیوری ہوتی ہے۔ اور جب تھیوری پکی ہو جائے تو لا بن جاتی ہے۔ جب کہ اس اعتراض کو دل و دماغ سے نکال دینا چاہیے۔ کیونکہ تھیوری ہمیشہ تھیوری رہتی ہے۔ اور لا ہمیشہ لا ہی رہتا ہے۔ سائنس کی تاریخ میں آج تک کوئی تھیوری کبھی لا نہیں بنی۔ نہ ہی کوئی لا کبھی تھیوری تھا۔

مستزاد یہ اعتراض کہ لیبارٹری میں خورد حیاتیاتی جرثوموں کا ایک سے دوسرے میں بدلنا (microevolution) ممکن ہے، لیکن مچھلی کا بھینس بننا (macroevolution) ممکن نہیں۔

کیوں بھائی؟

ایسا کیا امرِ مانع ہے کہ مچھلی سے بھینس نہیں بن سکتی؟

یہ تو وہی بات ہو گئی کہ 2 جمع 2 چار ممکن ہے۔ لیکن پچاس کروڑ جمع پچاس کروڑ کا ایک ارب ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس میں بچاس کروڑ کا فرق آرہا ہے۔ ہے کوئی لاجک؟

آگے چلیے۔

یہ اعتراض یہ کرتے ہیں کہ کوئی بھی درمیان والی نوع نظر نہیں آتی۔ یہ زنجیر درمیان سے منقطع ہے اس لیے ارتقا جھوٹا ہے!! اورمسلکِ سائنس مخالفت زندہ باد!!!

کمال کی بات یہ ہے کہ انہیں خود بھی یہ نہیں معلوم کہ یہ کس درمیان والی نوع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سائنس دان چاہے جتنی بھی درمیان در درمیان کی انواع نکال کر انکے بنیادی ڈھانچوں کے تناسب کا حساب کر لیں، یہ پھر بھی یہ اعتراض لاتے رہیں گے کہ پہلے ایپس کی داڑھی دو گز کی تھی۔ اور انسان کی تین انچ کی ہے۔ اس لیے اب دو گز اور تین انج کی داڑھی کے درمیان کی دس انواع لاؤ تو ارتقا کو مانیں گے۔ ورنہ تسی نا ای سمجھو!!

ان بھونڈے اعتراضات سے بہتر یہ نہیں کہ ارتقا کو باقاعدہ کسی سائنسی کتاب سے پڑھ لیا جائے؟

میری تو درخواست ہے کہ براہِ کرم کسی مستند سائنسی کتاب یا کسی استاد سے سبقاً سبقاً نظریۂ ارتقا کو پڑھ لیں، اس کی میکانیت کو سمجھ لیں کہ سائنس کس طرح اپنا نظامِ فکر ترتیب دیتی ہے۔ سائنس کے موضوعات کیا ہیں، اس کے سوالات کے جوابات کی حدود کیا ہیں۔ تصدیق و تردید کے کیا معیارات ہیں۔ ایسے ہی بندر اور انسان کی رٹ لگانے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ہاں البتہ سائنس کو اکیڈیمک سطح پر پڑھ کر اگر آپ ارتقا کے مقابلے میں کوئی دوسری اور بہتر “سائنسی تھیوری” پیش کرتے ہیں تو آپ رات و رات اربوں ڈالر سے مالا مال ہو جائیں گے۔ کیونکہ ابھی تک نظریۂ ارتقا کو رد کرنا تو دور، اس کو کمزور کرنے والا بھی کوئی ثبوت کسی کو نہیں مل سکا۔ اور یقین مانیے کہ جو کچھ اعتراض کی صورت میں ہارون یحیی جیسے لوگ سائنس کے نام پر اپنی کتابیں بیچنے کے لیے پیش کرتے ہیں، وہ سب سوائے فریب اور منطقی مغالطوں کے اور کچھ نہیں ہے۔

مزمل شیخ بسملؔ

 

6134 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 9 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by مزمل شیخ بسمل

  • Khalil-Ur Rehman

    مزمل شیخ بسملؔ صاحب،

    سوائے چلی کٹی سنانے کے آپنے بھی کوئی اکیڈیمک میٹر تو نہیں پیش کیا۔

    ہمیں نہیں لگا کہ آپ خود ارتقا کی تھیوری کی شد بد رکھتے ہیں۔

  • Muhammad Ahmad

    abi kal hi hmaray gaon k pass aik bndr ko insan bnty hoy dekha gya h , irtaka abi b ho rha h na sir ? 😀