تحریر صادقه خان............وہ کون تھی - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

تحریر صادقه خان…………وہ کون تھی

نومبر کی ایک سرد سی رات تھی، مگر خلافِ توقع مطلع بلکل صاف تھا ۔ گزشتہ ایک ہفتے کی مسلسل بارشوں کی بعد اُس روز کھل کر دھوپ نکلی ، تو ٹھنڈ کی شدت میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی۔ سٹیوو ایریزونا میں اپنے چھوٹے سے کاٹیج کے باہر سیڑھیوں پر کھڑا بہت دیر سے آسمان کو تک رہا تھا ۔ یکدم کسی خیال کے زیر ِ اثر وہ تیزی سے اندر بھاگا اور اوپر اپنے کمرے میں جا کر الماری سے ٹیلی سکوپ نکال کر اوپر ٹیرس پر چلا آیا ، یہ ٹیلی سکوپ کچھ عرصے پہلے ہی اس کے ڈیڈ نے برتھ ڈےپر اسے گفٹ کی
تھی۔وہ سپر مون کی رات تھی اور ہر طرف دودھیا چاندنی بکھری ہوئی تھی ، نومبر میں آنے والے سپر مونز عموماََ بے انتہا روشن ہوتے ہیں جن میں چاند کچھ زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سٹیوو کو ایسٹرانومی میں اس وقت سے دلچسپی تھی ، جب وہ صرف پانچ برس کا تھا۔ عمر کے ساتھ شوق اب بڑھتا ہی جا رہا تھا اور ذہین بیٹے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کے ڈیڈ اپنی بساط کے مطابق سہولیات اسے فراہم کر رہے تھے۔
سٹیوو کافی دیر تک سپر مون کا ٹیلی سکوپ سے مشاہدہ کرنے کے بعد واپس نیچے جانےکا سوچ ہی رہا تھا کہ یکدم سپر مون کی قدرے بڑے نظر آتی چاند کی سطح پر اسے کوئی شے حرکت کرتی محسوس ہوئی، اور وہ شے لمحہ لمحہ اس کے قریب آتی گئی، اتنی نزدیک کے وہ باآسانی اسے دیکھ سکتا تھا ، وہ کوئی بہت بڑے سائز کا پرندہ تھا ،” بڑی بڑی سرخ کٹورا آنکھیں ، پتلی سبز رنگ کے پروں سے ڈھکی گردن، جس کے نیچے کہیں کہیں سرخ رنگ کے دھبے کافی نمایاں تھے۔جب کے اس کی عام پرندوں کی نسبت بہت سے بڑی دم سبز، نارنجی، زرد اور سرخ رنگوں کا ایک خوبصورت امتزاج تھی “۔ مگر اس بھاری بھرکم جسامت کے ساتھ اتنی بڑی دم بدن پر تھرتھری طاری کر دینے کے لیئے کافی تھی ۔ سٹیوو بارہ برس کا ایک نڈر اور بہادر لڑکا تھا ، جو ایسے ایڈونچرزکی تاک میں رہتے ہیں ، سو وہ بنا کسی خوف کے اپنی ٹیلی سکوپ سے اس انوکھے پرندے کا جائزہ لیتا رہا جو پہلی نظر میں طوطے سے مشابہہ دکھائی دیتا تھا ۔پھر جس طرح وہ اچانک نمودار ہوا تھا ، اسی طرح لمحوں میں غائب بھی ہو گیا ، سٹیوو
زاویہ تبدیل کر کے بہت دیر تک اسے ڈھنڈتا رہا ، مگر وہ پھر دکھائی نہ دیا۔
سٹیوو کھویا کھویا سا نیچے آیا تو اسکی ماما میری ڈنر سرو کر چکی تھیں ، وہ بھی اپنی مخصوص چیئر سنبھال کر قدرے بد دلی کے ساتھ بوائلڈ پوٹاٹو اور مشروم سوپ زہر مار کرنے لگا جو سردی میں اسکی ماما ہر روز بنایا کرتی تھی ۔ کھانے سے ہاتھ کھینچ کر سٹیوو فوراََ
اپنے روم میں چلا آیا ، اسکی سوچوں کا محور اس وقت وہی پرندہ تھا ، تیزی کے ساتھ اپنے سکیچ بک نکال کر سٹیوو اس کا خاکہ بنانے لگا جو ابھی ذہن میں بہت واضح تھا، ایک گھنٹے بعد وہ اپنا کام ختم کر کے اس نے ایک نظر سکیچ پر ڈالی ، ” پرفیکٹ” وہ بلکل
ایسا ہی تو تھا ، سٹیوو نے خود کو داد دی اور سکیچ اپنے سکول بیگ میں رکھ کر بستر میں گھس گیا ، ساری رات خواب میں اسے وہی پرندہ اڑتا ، اپنی طرف بڑھتا نظر آتا رہا ۔
اگلے روز سکول میں سٹیوو نے سب سے پہلے اپنے بیسٹ فرینڈ پیٹر کو وہ سکیچ دکھا کر پورا واقع سنایا، پیٹر چند لمحوں تک اپنی موٹی موٹی آنکھیں پٹ پٹا کر سکیچ کو دیکھتا رہا ، پھر یکدم قہقہے لگاتے ہوئے اسے جیمز کی طرف بڑھایا ۔
لگتا ہے سپر مون نے تیرے دماغ پر برا اثر ڈالا ہے، کچھ دیر بے ہنگم قہقہے لگانے کے بعد پیٹر کا تبصرہ آیا ۔
سٹیوو نے برا سا منہ بنا کر پیٹر کو کوسا ۔Damn it
ارے نہیں یار، مجھے لگتا ہے کہ سٹیوو سپر مون پر کوئی فکشن سٹوری لکھنا چاہ رہا ہے، ویسے آئیڈیا اچھا ہے سویٹ ہارٹ ، جیمز نے سٹیوو کو آنکھ مار کر دانت نکالے۔
تم لوگوں سے تو بات ہی کرنا فضول ہے، سٹیوو نے جیمز کے ہاتھ سے سکیچ چھینا اور کلاس رروم سے باہر آیا جہاں کچھ اور کلاس فیلوز خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
Hay! Steve what’s the matter?
اس کا تپا ہوا چہرہ دیکھ کر ان کا رشین کلاس فیلو گوباٹو اس کے پیچھے لپکا ۔
نتھنگ! سٹیوو کورا جواب دیکر آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ گوباٹو نے سکیچ اس کے ہاتھ سے جھپٹا ۔ اوہ واؤ۔ ونڈرفل ، ایکسیلینٹ۔ پرفیکٹ ۔ بٹ اسکی آنکھیں بہت زیادہ بڑی اور سرخ ہیں ، لیکن پھر بھی یہ سائنس فکشن کے لیئے ایک اٹریکٹو آئیڈیا
ہے ، تم ایسے اچھوتے سکیچز بنا کر جلد ہی مشہور ہو سکتے ہو ۔ گوباٹو نے اپنی دانست میں نیک مشورہ دیا تھا ، مگر سٹیوو کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس کا گلا ہی دبا دے ۔
سارا دن سٹیوو دوستوں کے مذاق کا نشانہ بنتا رہا ، یہاں تک کہ اس کے جینئس ٹیچر کولن نے بھی سکیچ دیکھ کر، اور پوری کہانی سن کر یوں مشکوک نظروں سے اسے دیکھا جیسے انہیں سٹیوو کی دماغی حالت پر شبہ ہو ۔
گھر واپسی پر سٹیوو نے وہ سکیچ بہت غصے سے اپنے بیگ سے نکالا ، وہ اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہتا تھا ، مگر کسی ماورائی قوت نے جیسے اس کے ہاتھ تھام لیئے، کچھ سوچتے ہوئے اس نے سکیچ کو اپنی ایسٹرانومی کی کولیکشن بک میں ” نا معلوم مخلوق” کے ٹیگ
کے ساتھ سیو کر دیا ، اس بک میں وہ پانچ برس کی عمر سے فلکیات پر تصاویر اور سکیچز جمع کرتا رہا تھا ۔
برس ہا برس گزرتے گئے، سٹیوو سکول کو خیر باد کہہ کر یونیورسٹی تک پہنچا ، پھر ایک روز وہ بھی آیا جب اس نے تھیوریٹیکل فزکس میں گریجویشن مکمل کرکےعملی زندگی کا آغاز اسی یونیورسٹی میں پڑھانے سے کیا ، مگر ایسٹرانامی میں اسکی دلچسپی
آج بھی کم نہ ہوئی تھی ، ایسٹراناٹ بننے کا خواب اب بھی اندر کہیں انگرائیاں لیتا تھا ۔ اسکی لگن واقع سچی تھی، کچھ عرصے بعد اسے ناسا کے ایسٹراناٹ ٹیسٹ دینے کا موقع ملا اور خلافِ توقع با آسانی اسکی سلیکشن بھی ہو گئی۔
دو برس کی کھٹن ترین اور جان لیوا ٹریننگ کے بعد اسے ناسا کے مشن” اے جرنی ٹو مارس” کے لیئے منتخب کر لیا گیا ۔ سٹیوو کو چھ ماہ سرخ سیارے کے ہیبت ناک ماحول میں اکیلے گزار کر ڈیٹا جمع کر کے اس پر ریسرچ کرنی تھی۔
میں اپنے ساتھ تنہائی کا کوئی ساتھی رکھ سکتا ہو ں کیا ۔؟ کچھ دنوں کی سوچ بچار کے بعد سٹیوو نے اپنا مدعا ناسا پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوناتھن سے بیان کیا ۔
ہاں تم چاہو تو اپنے ساتھ کوئی روبوٹ ساتھ رکھ سکتے ہو۔
بٹ واٹ اباؤٹ ا ے پیٹ ؟؟
ہاں یہ بھی ایک اچھا آئیڈیا ہے اور اس سے پراجیکٹ کو مزید بوسٹ ملے گا ، کہ کوئی جانور مارس پر کس طرح اور کتنے عرصے سروائیو کر سکتا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی پالتو جانور ہے ، میرا خیال ہے کی کیٹ بہترین ساتھی ثابت ہوگی۔
نہیں میرے پاس تو نہیں مگر اس کا انتظام کیا جا سکتا ہے ۔ سٹیوو نے پر سوچ انداز میں جواب دیا
نو پرابلم۔ جوناتھن نے چٹکی بجائی میرے ایک دوست کی گرینڈ مام نے تنہائی سے بچنے کے لیئے بہت سے پیٹ پال رکھے ہیں ، میرا خیال ہے کہ تم کل ہی ان سے مل لو ، جانی نے ایک چٹ پر ایڈریس لکھ کر سٹیوو کو تھمایا ۔
اگلے روز شام کو سٹیوو نے مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ کر ڈور بیل دی۔ تو ایک ادھیڑ عمر خاتون نے دروازہ کھولا ، وہ یقیناََ جینی ہی تھی۔
ہیلو گرینی! سٹیوو نے مصافحہ کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا بوکے ان کی جانب بڑھایا ۔ ادھیڑ عمر جینی اس سے کافی خوش دلی سے ملیں اور اپنے پالتو جانور دکھاتی رہیں ، مگر سٹیوو کی نگاہوں کا مرکز پنجرے میں جھولتا سبز و سرخ طوطا تھا ، وہ کافی دیر تک
کھوئے کھوئے سے انداز میں اسے دیکھتا رہا اور پھر گرینی سے اسے مانگ لیا ۔
ہلیپ ، ہیلپ۔ پلیز سیو می گرینی ۔۔ جینی کے کچھ بولنے سے پہلی ہی طوطا چلا اٹھا ۔
سٹیوو نے اچھنبے سے پہلے اس طوطے اور مڑ کر گرینی کو دیکھا ۔
جینی کے پوپلے منہ پر ایک کھسیانی سی ہنسی آئی، یہ یونہی بولتا رہتا ہے ۔ سٹیوو تم فکر مت کرو ، تم اسے بہت جلد سپیس مشن کے لیئے ٹرینڈ کر لوگے اور مجھے پوری امید ہے کہ اگر یہ وہاں سروائیو کر گیا تو تمہارا بہت اچھا ساتھی ثابت ہوگا ۔
بڑی بی کو ڈر تھا کہ سٹیوو کہیں خالی ہاتھ ہی واپس نہ چلا جائے ، ان کے پالتو جانوروں میں سے کوئی سپیس میں جائے یہ تو کبھی انہوں نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا ۔
اگلے روز اپنے اپارٹمنٹ میں ناشتہ کرتے ہوئے سٹیوو نے “کیک ” نامی اس طوطے کو پنجرے سے نکال کر بریڈ کرمبز دیئے تو وہ کچھ دیر تک اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے اسے غصے سے گھورتا رہا ۔
تمہیں گرینی سے میرے مینو کے بارے میں معلومات لینی چاہیے ۔ کیک نے کرمبز کی طرف ایک نظر بھی نہ ڈالی تھی
اوہ شٹ۔ سٹیوو نے بے اختیار سر پیٹا ۔ چند ہی روز میں سٹیوو کو کیک کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا تھا ، وہ خاصہ اڑیل اور نخریلہ طوطا تھا جسے سپیس سے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی
یہ بھی خوب رہے گی کیک ۔ مجھے ایگو او ر “ایٹیٹیوڈ “والے ذہین لوگ پسند ہیں ، میں پر امید ہوں کہ مارس پر ہمارا اچھا وقت گزرے گا ۔
بلا آخر وہ دن بھی آیا جب طویل سفر کے بعد انکی سپیس شپ نے سرخ سیارے کی پتھریلی اور نا ہموار زمین کا چھوا۔ ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں اس وقت جشن کا سماں تھا ، اور خود سٹیوو بھی حد سے زیادہ ایکسائیٹڈ تھا ، مگر کیک ان سب ہنگاموں سے لا تعلق
بد دل سا منہ پھلائے بیٹھا تھا ۔
کیا تمہیں یقین ہے کہ ہم واقعی ایک نئی تا ریخ رقم کرنے جا رہے ہیں ؟؟ کیک اپنی پتلی سی آواز میں بڑ بڑایا۔
ہم تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں کیک ، جلد ہی تم بھی مارس پر قدم رکھنے والے پہلے پیٹ کی حیثیت سے دنیا بھر میں خبروں کا مرکز ہوگے ۔
پلیز سٹیوو تم اپنی تصحیح کر لو ، میں ایک پرندہ ہوں اور میں چلنے سے زیادہ اڑنا پسند کرتا ہوں ، ہونہہ
نو مائی ڈیئر کیک ! تم اس بھاری بھرکم ایسٹراناٹ کاسٹیوم کے ساتھ کسی صورت بھی نہیں اڑ سکتے اور مارس کی جو آب و ہوا ہے اس میں تو بلکل ممکن نہیں ۔
تو پھر تم اکیلے جا سکتے ہو ، مجھے تمہارے ساتھ چلنے کا کوئی شوق نہیں ، پلیز مجھے لیپ ٹاپ پر کوئی انڈین مووی لگا دو ۔
سٹیوو نے نظر بھر کر کیک کو دیکھا ۔ تیرا تو باپ بھی جائےگا بیٹا ، ہم اتنی دور سے تجھے انڈین موویز دکھانے کے لیئے لائے ہیں کیا ۔
بہت زور زبردستی کے بعدسٹیوو کیک کو کاسٹیوم پہنا کر شٹل سے باہر لانے میں کامیاب ہوا ، تاکہ اسکی کچھ تصویریں بنا کر ناسا کو ریفر کر سکے ، مگر وہ بھی پورا اڑیل ٹٹو تھا ، ہل کر ہی نہ دیتا تھا، چارو نا چار سٹیوو ، کیک کو اس کے حال پر چھوڑ کر
پتھروں کے سیمپلز جمع کرنے لگا ۔
کچھ دیر بعد اس نے مڑ کر دیکھا ، کیک وہاں موجود نہیں تھا ، وہ کافی فاصلے پر ایک پتھریلی چٹان کی اوٹ میں کھڑا ایک جانب بہت غور سے تک رہا تھا ۔ سٹیوو نے اسکی نگاہوں کا تعاقب کیا تو چند لمحوں کے لیئے اس کا ذہن ماؤف اور خون خشک
ہو گیا ۔ کیک سے کچھ فاصلے پر نیم اندھیرے میں بڑی بڑی سرخ آنکھوں والی ایک مخلوق کھڑی تھی۔ یکدم سٹیوو کی نگاہوں کے سامنے جھماکا سا ہوا ، یہ ہو بہ ہو وہی مخلوق تھی جو برسوں پہلے اس نے سپر مون کی رات دیکھی تھی ۔
سٹیوو نے پھرتی کے ساتھ چٹان کی آڑ لیکر اپنے جدید ترین ڈیجیٹل کیمرے کو متحرک کرتے ہوئے اس مخلوق کی چند تصاویر لیں جو ، اب کیک کے مزید قریب آچکی تھی اور دور سے دیکھنے میں یوں لگتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں محوِ گفتگو تھے۔
پھر یہ روز کا معمول بن گیا وہ طوطا نما مخلوق روز ہی آنے لگی اور کیک صاحب بھی اب کشاں کشاں باہر جایا کرتے تھے، سٹیوو سامنے جانے کے بجائے پہلے روز کی طرح چھپ کر انکی ویڈیوز اور پکچرز بناتا رہا ، مگر ناسا کو ریفر کرنے کے بجائے
وہ اپنے پاس سیو کرتا گیا ۔
چھ ماہ بعد مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد جب وہ زمین پر واپس لوٹے تو انکا پرتپاک استقبال کیا گیا ، کیک ،سب کی توجہ کا مرکز تھا ، جو زندہ سلامت مارس سے واپس آگیا تھا ، مگر وہ کافی بجھا بجھا سا تھا ۔ شاید ایلین دوست سے بچھڑنے کا غم ستا رہا تھا۔
پھر دو روز بعدمکمل تنہائی میں سٹیوو نے جوناتھن کو ایلین پیروٹ کی ساری کہانی سناتے ہوئے ، اسکی تصاویر اور ویڈیوز کی فائل کھولی ، اس سے کہیں زیادہ پر تجسس جونی تھا ۔
مگر یہ کیا وہاں تو صرف کیک تھا ، وہ پوری فائل کھنگالتا گیا ، مگر یوں لگتا تھا کہ ایلین پیروٹ کا ایک ایک نقش اس سے مٹا دیا گیا تھا ۔ جوناتھن نے اچھنبے سے سٹیوو کو دیکھا ، وہ ناسا کا ایک بے انتہاء قابل اور ذہین ایسٹراناٹ تھا ، وہ اس سے کسی مذاق یا
حماقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
میں کیک سے پوچھنا چاہونگا ، بلاآخر جوناتھن نے فیصلہ صادر کیا ۔
ہاں ۔ کیک تم جونی کو اس ایلین پیروٹ کے بارے میں بتاؤ جس سے مارس پر تم روز ملنے جاتے تھے ، سٹیوو کی آواز بہت پر جوش تھی ۔
کیک چند لمحوں تک اپنے مخصوص غصیلے انداز سے سٹیوو کو گھورتا رہا ۔
میں کسی ایلین کو نہیں جانتا ۔ میں تمہیں سیو ( قانونی چارہ جوئی) کرنے کا حق رکھتا ہوں ، تم ایک بے انتہاء شریف طوطے پر آوارہ گردی کا الزام لگا رہے ہو وہ بھی مارس جیسے بکواس سیارے اور کسی سڑی ہوئی ایلین پیروٹ کے ساتھ ڈیٹنگ کا ۔
جوناتھن نے ایک نظر سٹیوو پر ڈال کر بے اختیار اونچا قہقہہ لگایا ، مارے خفت کے سٹیوو کا چہرہ لال بھبوکاہو گیا تھا ۔
خیر جو بھی رہا ہو، جو بھی ہوا ہو ، مجھے یقین ہے کہ مارس پر کیک کے ساتھ تمہارا وقت بہت اچھا گزرا ہوگا ، میں چاہونگا کہ اگلے مشن پر بھی یہی تمہارا ہم سفر ہو ۔!

دوسرا حصہ
سٹیوو نے پلیٹ میں پڑے بوائلڈ پٹاٹوز کو ٹکڑوں میں کاٹتے ہوئے ایک نظر کیک پر ڈالی جو سامنے سکرینز پر نظریں جمائے نہ جانے کن خیالوں میں گم تھا ، یہ مارس پر ان کا مشن ٹو تھا ۔ انہیں یہاں دو ماہ ہونے کو آئے تھے مگر کیک مستقل گم صم تھا ۔
نہ وہ پہلے کی طرح سٹیوو پر غصہ کیا کرتا تھا نہ ہی اس کے وہ زبردست کمنٹس اب سننے کو ملتے تھے جن پر سٹیوو پہروں ہنسا کرتا تھا۔ دال میں کچھ کالا تھا یا پوری دال ہی کالی تھی ، سٹیوو اب تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا تھا ۔
کیک۔ اس نے آہستہ سے پکارا
کیا تم مارس کے یہ آلو ٹیسٹ کرنا پسند کرو گے، مجھے تو یہ بلکل زمین کے آلوؤں جیسے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ مزیدار لگ رہے ہیں ، میرا خیال ہے کہ اب ہمیں یہاں آلو کے علاوہ مزید سبزیاں اگانے کا تجربہ بھی کرنا چاہیئے ۔
ہاں ۔ بلکل۔ اب تمہیں یہاں ہری مرچ اگانی چاہیئے ۔ بہت دنوں بعد کیک کا طنز سننے کو ملا تھا ، سٹیوو ہنسا ۔
اچھا تو تم مارس کی ہری مرچ کھانا چاہتے ہو ؟
نہیں میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں کی ہری مرچیں زمین پر لیکر جاؤ اور وہاں طوطوں کو کھلاؤ، تاکہ اگلے مشن پر ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ آجائے اور میری جان چھوٹ جائے ۔
ہا۔ہا۔ہا ۔اوہ تو تم مجھ سے اتنے بیزار ہو چکے ہو؟
ہاں تمہارے اندازوں سے کہیں زیادہ۔ ہونہہ۔ کیک اس روز کافی غصے میں لگتا تھا
ٹھیک ہے۔ اگلے مشن پر میں کسی اور کو ساتھ لے آؤنگا، پھر ہو سکتا ہے کہ وہ ایلین پیروٹ اس سے ملنے آجائے اور میں کوئی ثبوت حاصل کرلوں ، تم سے ملنے تو وہ آتی نہیں ۔ سٹیوو نے کچھ سوچتے ہوئے پتا پھینکا
کیک کچھ دیر اسے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے گھورتا رہا ، یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ تم اس کے متعلق کوئی ثبوت حاصل کر سکوگے۔
کس کے وجود سے متعلق ؟؟ تم جونی کے سامنے کئی دفعہ اعتراف کر چکے ہو کہ تم کسی ایلین کو نہیں جانتے۔
میں جھوٹ بولتا رہا ہوں اور یہ بات تم بھی اچھی طرح جانتے ہو ۔کیک کی باریک آواز سٹیوو کو اپنے کانوں میں چبھتی ہوئی سی محسوس ہوئی۔
تم نے ایسا کیوں کیا ؟؟
اس لیئے سٹیوو، کہ وہ میری دوست تھی میں نہیں چاہتا تھا کہ تم انسان اسکی زندگی اجیرن کردو۔
کیا مطلب۔؟؟
سٹیوو۔ کیا تم جانتے ہو تم انسانوں نے اپنے سیارے زمین کا کیا حشر کیا ہے ؟ تم خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی جہنم بنا لی ہے ، تم ایلینز کا پتا نہیں کیا حال کروگے۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے کیک۔ میں مانتا ہوں کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث زمین پر بے شمار ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی کسی طور انکار ممکن نہیں ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے زندگی کو بہت سہل اور سویلائزڈ
بھی بنایا ہے۔
سٹیوو۔ ہیومنولوجی بھی ایک سائنس ہے ، انسان چاہے اس میں پی ایچ ڈی بھی کرلے وہ پھر بھی خود کو پوری طرح دریافت نہیں کر پاتا ، یہ دراصل ہم جانوروں اور پرندوں کی سائنس ہے، ہم تمہیں دن رات سٹڈی کر کے اپنے اپنے تھیسز لکھتے
رہتے ہیں ، ہم انسان کو اسکی فطرت اور خصلت کے مطابق سمجھتے اور پرکھتے ہیں ۔
ہم ۔۔ ساؤنڈ انٹرسٹنگ ۔سٹیوو نے پلیٹ خالی کرکے ایک طرف دھری اور پوری طرح کیک کی طرف متوجہ ہوا ، تو مائی ڈیئر کیک ، کیا میں جان سکتا ہوں کہ تم نے اپنا تھیسز مکمل کرلیا ہے یا ابھی لکھ رہے ہو ؟
میں نے اپنا ہیومنولوجی تھیسز تمہارے ساتھ اپنے مارس مشن ون میں ہی لکھ لیا تھا اور شاید تمہیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس کے لیئے مجھے میری دوست ایلین پیروٹ سپر وائز کرتی رہی ۔ جسے تم اپنی محدود سوچ کے مطابق ڈیٹنگ سمجھا کرتے تھے۔ کیک کا طنز لا جواب تھا۔
اچھا تو پھر تم دونوں نے ملکر کون سا معرکتہ الاآراء تھیسز تیار کیا ہے ؟ کچھ شیئر کرنا پسند کروگے۔
یقینا ََ ۔ تم ہی سے شیئر کرونگا ، مگر اس وقت مجھے سخت نیند آرہی ہے ، میں سونا چاہتا ہوں ۔ کیک کے نخرے عروج پر تھے ۔
مجھے پتا ہے کہ تم اس طرح میرا تجسس بڑھانا چاہتے ہو ، خیر مجھے انتظار رہے گا ۔
مسٹر سٹیوو ۔ بہتر ہوگا کہ تم اپنی تصحیح کرلو ، تمہارا تجسس بڑھانے کے لیئے مجھے سونے کا ڈرامہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی میں ایسی احمقانہ حرکتیں کرنا پسند کرتا ہوں ۔میں ایک ایٹیٹیوڈ والا “کلاسی برڈ “ہوں ۔ ایسے کام تم انسان خود ہی کرتے ہو ، ایک دوسرے کو آز مانے اور امتحان لینے کے لیئے ۔ یہ تمہارا حد سے بڑھا ہوا تجسس ہی ہے کہ تم اپنے اچھے بھلے سیارے کو چھوڑ کر اس بکواس مارس کی خاک چھان رہے ہو اور اپنے ساتھ مجھے بھی خوار کیا ہوا ہے ۔ ہونہہ
کیک نے اپنی بڑھاس نکال کر اپنا سر پروں میں گھسایا اور آنکھیں موند لیں ۔ جبکہ سٹیوو اُس کی اس لمبی چوڑی تقریر پر دم بخود تھا ، یہ کیک تو پورا فلاسفر بنتا جا رہا ہے۔ گہری سوچوں کے سمندر میں غوطے لگا کر سٹیوو نے اپنی تھوڑی کجھائی اور آلوؤں
کے ذخیرے کے طرف بڑھ گیا ۔وہ زمین پر لے جانے کے لیئے کافی سٹاک جمع کرچکا تھا ۔ خیر ہری مرچ بھی اگائی جاسکتی ہے ، طوطے ہوں نہ ہوں مشرقی خواتین مارس کی مرچوں کی دیوانی ضرور ہو جائیں گی۔ کیک اکثر انڈین فلمیں دیکھتا رہتا تھا
جس سے سٹیوو اکو اندازہ ہوا تھا کہ پاکستانی اور بھارتی خواتین کی زبان کی تیزی کی ایک بڑی وجہ کھانے میں تیز لال اور ہری مرچ کا استعمال ہے۔
پھر یونہی کافی دن گزر گئے ، سٹیوو منتظر ہی رہا ، مگر کیک بھی ایک ہی نمونہ تھا، اس روز کے بعد سے وہ مہاتما بدھ کی طرح سمادھی باندھ کر بیٹھا ہوا تھا اب وہ شٹل سے باہر بھی شاذو نادر ہی جایا کرتا تھا ۔
دن بھر کا تکھا ہارا، مارس کی دھول سے اٹا سٹیوو جب سپیس شپ واپس لوٹتا تو کیک اِدھر اُدھرکمپیوٹرز یا مشینوں پر غور و فکر کرتا ہوا ملتا ، اس دفعہ یہ شاید مکینکس یا آرٹی فیشل انٹیلی جینس پر تھیسز لکھنے والا ہے، ایک روز یونہی کیک کو سوچوں میں غرق
دیکھ کر سٹیوو بڑبڑایا ، اسے شدت سے بوریت کا احساس ہونے لگا تھا ۔
تم میرے بارے میں ہمیشہ غلط اندازہ ہی کیوں لگاتے ہو ؟ خلافِ توقع کیک اڑ کر اُس کے پاس آبیٹھا ۔
اس لیئے مائی ڈیئر کیک ۔ کہ شاید میں ابھی تک تمہیں اچھی طرح سمجھ ہی نہیں سکا ۔ سٹیوو نے سر کجھایا ، کبھی کبھی بہت جینئس لوگوں کو بھی بڑی خفت اٹھانا پڑتی ہے۔
تم انسان آج تک خود کو تو صحیح طرح سمجھ نہیں سکے تم دیگر مخلوقات کو کس طرح سمجھو گے، میں تو ویسے بھی ایک ذہین پرندہ ہوں ۔
اوہ آئی سی۔ تو مسٹر جینئس برڈ ، آج آپ بتا ہی دیجئے کہ آپ ہم انسانوں کو اصل میں سمجھتے کیا ہیں اور وہ جو آپ کا تھیسز تھا وہ بات بھی ادھوری رہ گئی تھی ، سو آج بتا ہی ڈالو ۔
میں ویسے تو تمہاری بات کبھی مر کر بھی نا مانوں ، مگر ابھی چونکہ میں تمہارے پاس آیا ہی اس لیئے تھا سو آج اس قصے کو بھی مکا ہی ڈالتے ہیں ، کیک نے ایک سٹائل سے اپنے پر پھڑپھرائے اور سٹیوو کے عین سامنے جا بیٹھا ۔
تم جس ایلین پیروٹ کو میرے ساتھ دیکھتے رہے ہو وہ دراصل وہی پرندہ تھی جسے تم نے سپر مون کی رات چاند کی سطح پر دیکھا تھا ، کیک نے اپنی دانست میں دھماکا کیا ۔
خیر یہ بات تو تمہیں جوناتھن اور میری بات چیت سے معلوم ہوگئی ہوگی ، آگے بولو ۔ سٹیوو نے اکڑ دکھائی ۔
نہیں ڈیئر سٹیوو، مجھے یہ بات موزیل نامی اس ایلین پیروٹ نے بتائی تھی ، اس نے جب تمہیں پہلی دفعہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ٹیلی سکوپ تھامے سپر مون کا نظارہ کرتے دیکھا تھاوہ تب سے تمہیں پسند کرنے لگی تھی ، وہ جانتی تھی تم ایک دن بڑے ایسٹراناٹ بنو گے۔ ہم جانور اور پرندے بڑوں کی نسبت بچوں سے اس لیئے زیادہ مانوس ہیں کہ وہ معصوم اور بے لوث ہوتے ہیں ، مگر پھر جوان ہوتے ہی تمہارے اندر کا بغض، حسد اور کینہ باہر آکر تمہیں فرشتے سے شیطان بنا ڈالتاہے۔
میں تم سے پوری طرح متفق ہوں کیک، مگر اب تو میں شیطان بن چکا ہوں نا تو پھر موزیل یہاں مجھ سے ملنے کیوں آئی تھی؟؟
نہیں سٹیوو، تم شیطان نہیں بنےہو تم اب بھی ایک اچھے انسان ہو ، وہ اس لیئے مارس تک آئی تھی کہ یہاں وہ انسان نما درندے نہیں تھے جن کی وجہ سے وہ زمین پر نہیں جاتی ۔
تو پھر وہ مجھ سے ملی کیوں نہیں ؟؟ وہ حیرت ذدہ تھا
اسے میں نے روکا تھا سٹیوو۔!
لیکن آخر کیوں؟ سٹیوو کا تجسس عروج پر تھا
اس لیئے کہ میں جانتا ہوں تم ایک اچھے انسان ہی نہیں ایک ایماندار ایسٹراناٹ بھی ہو ، ناسا نے اربوں ڈالر خرچ کرکے تمہیں جس مشن پر بھیجا ، تم یہاں جو کچھ دیکھتے ریسرچ کرتے وہ لازمی تم نے وہاں شیئر کرنا تھا ۔اور جیسا کہ تم نے جاتے ہی کیا بھی، کیک نے اسے اپنی چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھوں سے گھورا۔
تو اس میں برائی کیا ہے؟ سٹیوو کو تاؤ آیا
اس میں کوئی برائی نہیں ہے ، برائی ان میں ہے جو ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے مشنز کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں ، ایک ایلین کے بارے میں درست معلومات مل جانے پر ان کی پوری مشینری نے اسکی تلاش میں سرگرداں ہوجانا تھا ۔ وہ اس مقصد کے
لیئے تمہیں اور مجھے بھی بے دریغ استعمال کرتے اور شاید ہماری محبت سے مجبور ہوکر موزیل ان کے دام میں آبھی جاتی۔
مگر کیک یہ بھی تو سوچو کہ موزیل کا زمین پر کس طرح استقبال کیا جاتا ؟ وہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی، یہ سائنس اور انسانیت کے لیئے ایک بریک تھرو ہوتا کہ ہم نے زمین سے باہر کسی اور سیارے پر زندہ حیات دریافت کرلی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ موزیل کو وہاں کسی طرح کا نقصان پہنچایا جاتا اور نہ ہی میں ایسا ہونے دیتا ۔ تمہیں اسے مجھ سے ملنے دینا چاہیئے تھا ، سٹیوو نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں۔
سٹیوو۔ کیک چلایا ۔میں تمہیں اتنا خود غرض ہرگز نہیں سمجھتا تھا ۔
اس میں خود غرضی کی کیا بات ہے ؟ موزیل جیسے تمہیں عزیز تھی ویسے ہی وہ میرے لیئے بھی قابلِ احترام ہوتی اور میں اس کی ہر طرح کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا۔
معذرت کے ساتھ سٹیوو تم اسکی حفاظت تو کیا کرتے تم نے الٹا خود پھنس جانا تھا ۔ ہونہہ
کیوں؟ کیا میں نے تمہاری حفاظت نہیں کی ؟؟ تم گذشتہ دو سال سے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہو، کیا کوئی آج تک تمہارا ایک پر بھی توڑ پایا ہے؟؟ سٹیوو نے غصے سےمیز پر مکا مارا ۔
یہ مت بھولو کہ میں زمین کا رہائشی ہی ہو ، صرف یہ کہ میں نے مارس پر سروائیو کرلیا ہے بس یہی میرا کارنامہ ہے ، مگر موزیل ایک ایلین تھی ، اس نے ہر کسی کا اپیریٹس بن جانا تھا ، جس سے تمہاری اپنی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
ہم مہینوں ساتھ بیٹھ کر تم انسانوں کی خصلت پر غور کرتے اور ہمارے تھیسز کا نچوڑ یہ ہے کہ “تم انسانوں سے بڑا درندہ اس کائنات میں کوئی اور نہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اشرف المخلوقات بنایا تھا مگر اب اسکی ہر مخلوق تم سے دور بھاگتی ہے
زمین تم سے ناراض ہے ، دریاؤں نے روٹھ کر تمہیں اپنا صاف پانی دینا بند کر دیا ہے، سمندروں نے تمہاری بد اعمالیوں پر طیش میں آکر تمہیں طوفانوں اور سونامی کے ذریعے سزا دی ، مگر تمہیں ہوش نہ آیا ۔تم نے بے دریغ جنگلات اجاڑے تو پودوں
نے مزید اگنے سے انکار کر دیا ، جس کا خمیازہ تمہیں گلوبل وارمنگ کی صورت میں بھگتنا پڑا ، مگر تمہاری آنکھوں پر بندی حرس کی پٹی پھر بھی نہ اتری ، تم نے بے زبان جانوروں کو اپنے شوق کی تسکین کے لیئے اندھا دھند شکار کیا تو ان کی نسلیں صفحۂ ہستی سے مٹتی گئیں ،تم انہیں اپنی تاریخ میں رقم کرتے گئے، اور بھول گئے۔ تمہاری انہی حرکتوں کے باعث ایلینز جیسی بے ضرر اور محبت کرنے والی مخلوق بھی تمہارے سائے سے دور بھاگتی ہے ۔”
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب موزیل مارس پر موجود نہیں ہے،سٹیوو نے سر جھٹک کر سوال کیا ، کیک کا ایک ایک لفظ سچ اور بر حق تھا ۔ آج کا انسان ایسا ہی تو ہے۔
ہاں وہ ہمارے مشن ون کی تکمیل سے پہلی ہی جیوپیٹر کی جانب روانہ ہو گئی تھی ، تم اب اس تک کسی صورت بھی نہیں پہنچ سکتے۔ کیک نےاسے کورا جواب دیا اور اپنے سونے کی جگہ پر اڑان بھری ۔
” چھ ماہ بعد ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں دنیا کے جینئس ترین افراد سر جوڑے بیٹھے ” جیوپیٹر جونو مشن ” کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ، انہیں جیوپیٹر پر ایلینز کی موجودگی کا واضح سراغ مل چکا تھا ۔

تیسرا حصہ
انہیں مارس مشن سے لوٹے ہوئے تقریباََ ایک برس ہو چکا تھا ۔ سٹیوو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ” جیو پیٹر جونو مشن” کے لیئے اس قدر سر گرم اور پر جوش تھا کہ اسے کھانے پینے، سونے جاگنے تک کا ہوش نہ تھا ۔ کافی عرصے بعد اس نے ایک ویک اینڈ اپنے پر تعیش فلیٹ پر گزارنے کا پروگرام بنایا تھا ورنہ اس کے شب و روز جونسن سپیس سینٹر میں ہی گزرا کرتے تھے۔ صبح بھاری ناشتہ کرتے ہوئے اس کے نظر سامنے دیوار پر لگی کیک کی تصاویر پر پڑیں جو اس نے کبھی ضد کرکے لگوائی تھیں ۔ مگر اب وہ گذشتہ کئی ماہ سے گرینی کے پاس تھا ۔
یکدم سٹیوو کا سیل تھرتھرایا ، گرینی کالنگ ۔ اوہ مسٹر کیک بڑی عمر ہے تمہاری ، اس نے زیر ِ لب بڑبڑاتے ہوئے کال ریسیو کی
مگر خلافِ توقع دوسری طرف سے گرینی کے بجائے ایک نو خیز خاتون کی آواز سنائ دی جو اسے مطلع کر رہی تھی کہ ٹھیک پانچ دن پہلے جینی کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کی وصیت کے مطابق کیک کو اس کے گھر بھیج دیا گیا ہے
کچھ دیر بعد ڈور بیل ہوئی اور کیک صاحب ایک نوکر کے ساتھ وارد ہوئے ۔
ہائے سٹیوو، امید ہے کہ تم ابھی بھی ویسے ہی ہوگے پہلے کی طرح ڈفر اور سڑیل، اس لیئے تم سے ایک دفعہ پھر مل کر مجھے کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔
میرے خیالات بھی تم سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں ڈیئر کیک، سٹیوو نے اکتا کر ایک میگزین اٹھایا ۔
اوہو ، تو تم نے بھی یہ ادائے دلبری سیکھ لی ہیں ، کیک نے کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک آنکھ میچ کر ڈائیلاگ مارا ۔
کیک، میرا خیال ہے کہ تم انڈین فلمیں دیکھنا کچھ کم کردو ، کیونکہ ایک کلاسی برڈ سے تم روز بروز تھرڈ کلاس لوفر بنتے جا رہے ہو ۔ سٹیوو کا موڈ سخت خراب تھا ۔
تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ میں نے یہاں سے جانے کے بعد ایک مووی بھی نہیں دیکھی ، وہاں مجھے اپنے جیسے اچھے، مخلص اور محبت کرنے والے جانوروں کا ساتھ میسر تھا تو مجھے کیا ضرورت پڑی تھی تم انسانوں کی تھرڈ کلاس موویز دیکھنے کی
جن پر تم انٹر ٹینمینٹ کے لیئے اربوں روپے اڑا دیتے ہو اور تمہیں اپنے ارد گرد بھوک ، افلاس اور غربت مرتے کروڑوں انسان نظر نہیں آتے۔ کیک نے برابر کی چوٹ کی۔
پلیز ، اس وقت میں کسی بحث کے موڈ میں ہر گز نہیں ہوں ، کئی ماہ بعد مجھے سکون سے ایک ویک اینڈ گھر پر گزارنے کا موقع ملا ہے ، اسے میرا موڈ خراب کرکے بر باد مت کرو ۔ سٹیوو جھلایا
اوکے ، جیسی تمہاری مرضی ، میں تو صرف تمہیں آئینہ دکھا رہا تھا ، اگر اسے دیکھ کر تمہارا موڈ خراب یا دن برباد ہوتا ہے تو بہتر ہوگا کہ تم کاسمیٹک سرجری کروا لو مگر یاد رکھنا کہ یہ سرجریز بھی صرف تمہارا ظاہر بدل سکتی ہیں باطن نہیں ۔
اچھا ۔ پھر اگر باطن بدلنے کی بھی کوئی سرجری تمہاری نظر میں ہو تو ضرور بتانا ۔ ہونہہ
مائی ڈیئر سٹیوو، باطن بدلنے کے لیئے انسان کو کسی سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی ، بس آگہی کا ایک لمحہ اچانک زندگی میں یوں وارد ہوتا ہے کہ گزری زندگی کارِ فضول معلوم پڑتی ہے، اور پھر ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔ باطن کی تبدیلی کوئی ریموٹ کنٹرولڈ عمل نہیں ہوتا کہ ادھر آپ نے بٹن دبایا اور ادھر آپ سدھرے، نکھرے اور شریف انسان بن جائیں ، دیرپا تبدیلیاں ہمیشہ آہستہ آہستہ زندگی کا حصہ بنتی ہیں ۔
مگر کیک میری زندگی میں تو ابھی تک کوئی ایسا لمحہ نہیں آیا اس لیئے میں تبدیل ہونے سے قاصر ہوں ۔
کوئی بات نہیں سٹیوو مجھے ایک سو دو فیصد یقین ہے کہ یہ نادر لمحہ بہت جلد آنے والا ہے ۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ؟ سٹیوو کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔ یہ کلاسی برڈ تو اب سینٹ اور پامسٹ بھی بنتا جا رہا تھا ۔
اس لیئے کہ مجھے یہ بات موزیل نے بتائی تھی ، کیک نے ایک سٹائل سے اڑان بھری اور کچن کاؤنٹر پر جا بیٹھا کیا مجھے کچھ کھانے کے لیئے مل سکتا ہے ؟
سٹیوو نے اسے دل ہی دل میں مغلظات سے نوازا ، وہ جانتا تھا کہ اس کا تجسس بڑھا کر اب یہ ڈفر کیک ہفتوں بات ٹالتا رہیگا ، اور پھر اسکی توقع کے عین مطابق اگلے دو ہفتے تک کیک کچھ پھوٹ کر نہ دیا ۔
ویک اینڈ سٹیوو اب اپنے فلیٹ پر ہی گزارنے لگا تھا ، اس روز بھی وہ ناشتے سے فارغ ہوکر بیٹھا تھا کہ ڈور بیل ہوئی ، آنے والا ڈاکٹر جوناتھن تھا ۔
ہیلو کیک ، کیا حال ہیں ڈارلنگ برڈ ؟ اس نے دور ہی سے کیک کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر دوستانہ انداز میں پوچھا
ایکسکیوزمی ، میں نے آپ کو پہچانا نہیں ؟؟
اوہ کیک کیا ہوگیا ہے تمہیں یہ جونی ہیں ہمارے مارس مشن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ۔
صرف مارس مشن کے ؟؟ تو کیا جیوپیٹر مشن کا ڈائریکٹر کوئی اور ہے ؟ کیک نے ابرو اچکائے
ہاں جونو مشن کو ڈاکٹر البرٹو ہیڈ کر رہے ہیں ، اب کہ جونی نے جواب دیا
اچھا تو پھر وہ کوئی تم سے بھی بڑا نمونہ ہوگا !
جسٹ شٹ اپ کیک ، یہ کیا بد تمیزی ہے ۔ جونی ہمارے مہمان ہیں ۔ سٹیوو طیش میں آکر کیک کی طرف لپکا تو وہ پھر سے اڑ کر اوپر کارنس پر جا بیٹھا ، جبکہ جونی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ سارے منظر سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔
کول ڈاؤن سٹیوو۔ کول ڈاؤن یہ صرف ہمیں چڑا رہا ہے، جونی نے سٹیوو کو ٹھنڈا کرکے بٹھایا۔
اس کا دماغ کچھ زیادہ ہی خراب ہوگیا ہے ۔ ہونہہ
اس میں بھی تم لوگوں کا ہی قصور ہے نہ تم مجھے مارس پر لیکر جاتے نہ میرا دماغ یوں آسمان پر پہنچتا ، کیک بھی کم نہیں تھا۔
ڈونٹ وری ڈیئر کیک اب ہم تمہیں جیوپیٹر مشن پر بھی ساتھ لیکر جائیں گے تاکہ تمہارا دماغ واپس زمین پر آسکے، جونی نے ایک ایک کرکے اپنے کارڈز استعمال کرنا شروع کیئے۔
سوچ لو ، یہ نہ ہو تم خود ہی زمین پر واپس نہ لوٹ سکو ، تمہارے پورے مشن کی اساس میرے طرف سے دی گئی معلومات پر ہیں ، مگر تمہیں یقیناََ یہ جان کر زیادہ خوشی نہیں ہوگی کہ اصل باتیں تو میں نے ابھی تمہیں بتائی ہی نہیں ہیں ۔ کیک ایک سٹائل سے اڑتا ہوا دوبارہ جوناتھن کے سامنے آبیٹھا ۔
مائی ڈیئر کیک، مشن ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور یو نو واٹ کہ فائنل لانچ سے پہلے ہم ہمیشہ ایک چھوٹا تجربہ کرتے ہیں تاکہ ابتدائی سٹیج پر زیادہ مالی نقصان سے بچا جا سکے سو ممکن ہےمشن کو مکمل ہونے میں برسوں لگ جائیں ، اور بعض اوقات ہم آخری وقت میں بھی سب کچھ کینسل کر دیا کرتے ہیں یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ۔ جونی بھی گھاگ کھلا ڑی تھا سو اپنے پتے بہت دیکھ کے کھیل رہا تھا
اگر تمہارے پاس بتانے کے لیئے مزید کچھ ہے تو پلیز ہم سے شیئر کرو تاکہ ہم بروقت صحیح فیصلہ کر سکیں ۔ اور مجھے یقین ہے کہ موزیل نے تمہیں اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا ہوگا ۔
تمہارا اندازہ بلکل ٹھیک ہے جونی ، بٹ تم اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں تمہیں وہ سب کچھ بتا دونگا ، کیک بھی کائیاں تھا
دیکھو کیک ، جوناتھن مصالحانہ انداز میں اس کی طرف جھکا ۔ ہماری موزیل اور اسکی ایلین کمیونٹی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ، ہمارا مشن صرف یہ ہے کہ ہم زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر زندہ حیات دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔
اچھا ، اگر تم یہ دریافت کر بھی لو تو اس کا کیا فائدہ ہوگا ؟؟
اس کے بہت سے فائدے ہونگے جو فی الوقت تم نہیں سمجھ سکتے ۔
معذرت کے ساتھ جونی تمہاری با تیں نہ میں سمجھ سکتا ہوں اور نہ ہی موزیل، شاید اس لیئے کہ تم انسان صرف اپنے مفاد کے لیئے سوچتے اور اسی کے حصول کےلیئے سرگرداں رہتے ہو ۔ تم نے کبھی دیکھا ہے کہ یہ سورج ، چاند ، ستارے۔ یہ بلند و بالا
پہاڑ، یہ دریا ، سمندر جھیلیں ۔ یہ گھنے جنگلات اور اس میں بسنے والے مختلف النوع حیوانات کس طرح اس زندگی کو سہل بنانے میں تمہارے ساتھ دیتے آئے ہیں اور آتے رہیں گے ، مگر اس کے بدلے میں تم نے ہمیں کیا دیا ہے ، کبھی اپنے لیونر، مارس اور جیوپیٹر مشنز سے کچھ فرصت ملے تو اس پر ضرور غور کرنا ۔ بہت غصے سے اپنی بات مکمل کرکے کیک اڑان بھرنے کو تھا کہ جوناتھن نے اسے ہاتھ اٹھا کر روکا ۔
ڈیئر کیک ، تم صرف یہی کیوں سوچ رہے ہو کہ ہم ایلینز کو نقصان پہنچائیں گے ۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ ہم سے بڑے شیطان ہوں اور خود ہمیں ہی لینے کے دینے پڑ جائیں ۔
کیک نے جونی کی بات سن کر دھم سے ٹیبل پر الٹا گر کر قہقہہ لگانے کی اداکاری کی ۔ جوناتھن ڈئیرسٹ ، ابھی جو تھوڑی دیر پہلے میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ تم اپنے خیر مناؤ یہ نہ ہو کہ تم خود یہ زمین پر واپس نہ لوٹ سکو تو اسی لیئے کہا تھا کہ جس طرح
انسانوں میں اچھے اور برے ، نیک و بد دونوں طرح کے لوگ ہیں اسی طرح ایلینز بھی صرف معصوم نہیں ہیں ، تم لوگ سوچے سمجھے بغیر خود کو ایک حولناک جنگ میں جھو نکنے چلے ہو ۔
اوکے ، ہم پوری طرح غور و غوض کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے ، تم ہمیں تفصیل سے وہ سب کچھ بتاؤ جو تم ایلینز اور انکی کمیونٹی کے بارے میں جانتے ہو ۔
گڈ، یہ ہوئی نہ عقل مندوں والی بات ، کیک نے خوش ہوکر باقاعدہ اپنے پروں سے تالیاں بجائیں ۔
اچھا پھر اب تو میں تمہیں نمونہ نہیں لگ رہا نہ تو شاباش ابتدا سے شروع ہو جاؤ۔ جونی آج قصہ پاک کرنے کی ٹھان کر آیا تھا
ضرور ، مگر یہ ایک طویل کہانی ہے اور مجھے تو ابھی سے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے ، سٹیوو کیا تم مجھے گرما گرم پورج بنا دوگے ؟ کیک سٹیوو کی طرف مڑا، تو اس نے غصے سے صوفے پر مکا مارا ،
اس خبیث کیک کو ہمیشہ ایسے وقت ہی کیوں بھوک لگتی ہے ؟؟
آل رائٹ کیک ، مگر ایک بات یاد رکھنا ، جونی آج تم سے ساری داستان سن کر ہی جائیگا ۔ اسے تم میری طرح ہفتوں نہیں ٹال سکتے۔ سمجھے
ہاں بلکل سمجھ گیا ، میں جانتا ہوں کہ جوناتھن ایک انتہائی ڈفر آدمی ہے ، یہ تمہاری طرح سویٹ اور کیوٹ نہیں ہے جسے تنگ کر کےاور تپا کر مجھے مزا آئے۔ کیک نے شرارت سے ایک آنکھ میچ کر جواب دیا تو جانی نے قہقہہ لگایا ۔
پھر پورے دو گھنٹے بعد کیک نے شکم سیر ہو کر موزیل کی داستان کا آغاز کیا ۔
یہ میری موزیل سے تیسری یا شاید چوتھی ملاقات تھی ، ہم وہاں ایک اونچی بھربھری سی چٹان کی اوٹ میں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے اور سٹیو و چھپ چھپ کر ہماری ویڈیوز بنایا کرتا تھا ۔ کیک نے ایک ترچھی نظر سٹیو پر ڈالی جو کھڑکی سے باہر ڈھلتے سورج کی کرنوں پر غور و غوض کرنے میں مصروف تھا ۔
موزیل کا تعلق ہمارے نظام ِ شمسی سے نہیں ہے وہ ” اینڈرو میڈا گلیکسی ” کے ایک زمین ہی جیسے سیارے سے تعلق رکھتی ہے ، جسے تم لوگوں نے سپر ارتھ کا نام دیا ہوا ہے۔وہاں نا صرف ایلینز کی پوری کمیونٹی آباد تھی ،بلکہ تمہاری ہی طرح انکی ایک معاشرتی زندگی تھی ، انہیں بھی ہوا، پانی ، آگ ، خوراک کی ضرورت ہوتی تھی ، اس سیارے کے باشندے بھی تم لوگوں ہی طرح گھر بار اور خاندان بنا کر رہتے تھے، مگر شاید تمہیں یہ جان کر حیرت ہو کہ اب وہ سیارہ اینڈرو میڈا گلیکسی میں کسی کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیگا ۔ ایک روز وہاں بگ بینگ جیسا حولناک دھماکہ ہوا اور پھر وہاں زندگی کا کوئی نام و نشان نہ رہا ، موزیل اور چند دیگر حیوانات معجزاتی طور پر بچ گئے تھے جو اب اس وسیع کائنات میں گم کردہ بھٹکے ہوئے مسافروں کی طرح ہیں ، آج یہاں تو کل وہاں ۔جن کی کوئی منزل نہیں ۔
جاری ہے

آخری حصہ

مگر کیک سوال یہ ہے کہ ایسا کیونکر ہوا ، میری مطلب ہے کہ وہ کس قسم کا دھماکہ تھا ؟؟ اس کا سبب ماحولیاتی تبدیلیاں تھیں یا پھر یہ کسی حولناک جنگ کا شاخسانہ تھا ؟؟
شاباش جونی ، مجھے پورا یقین تھا کہ تمہارا جینئس مائنڈمنٹوں میں ساری گھتیاں سلجھا لیگا ۔ کیک نے حسبِ عادت طنز کے تیر چھوڑے
ایسا ہے ڈیئر کیک ۔ کہ ہماری پاس تمہاری طرح کا اعلیٰ دماغ نہیں ہے ، ہم اپنی ناقص عقل سے کچھ اور اندازے بھی لگا سکتے ہیں مگر کیا کیجئے کہ آپ خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں ، سٹیوو نے جو کافی دیر سے تپا بیٹھا تھا اپنا حساب برابر کیا ۔
ویل سیڈ سٹیوو ۔ آج پتا لگا کہ تم بھی اچھا طنز کر لیتے ہو ، چلو تم نے مجھ سے کچھ تو سیکھا ۔ کیک جوابی چوٹ سے بلکل بھی متاثر نہیں تھا ۔
مائی ڈیئر فرینڈز ، ایسا ہے کہ نہ تو میں خود کو عقل ِ کل سمجھتا ہوں اور نہ ہی تمہاری عقل ناقص ہے، ان فیکٹ کہ تم اشرف الخلوقات ہو اور میں حیوانات کی نسل سے تعلق رکھتا ہوں ، میرا تمہارا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں اور نا ہی ایلینز اور انسان
کا کوئی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ نا صرف ذہانت اور سوچنےسمجھنے کی صلاحیت میں تم سے کم ہیں بلکہ محبت، نفرت اور عزت جیسے جذبات سے بھی عاری ہیں ۔اس کے باوجود تم اندھا دھند اپنا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہو تاکہ کائنات میں کہیں اور تمہیں
زندگی کے آثار مل جائیں ۔ اپنی اہمیت کو تو تم نے خود ہی گھٹا دیا ہے۔
نہیں کیک۔ ایسا بلکل نہیں ہے ۔ ہماری پہلی ترجیح آج بھی انسان ہی ہیں ، ہم جو زمین جیسا سیارہ تلاشنے میں دن رات ایک کیئے ہوئے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے بلکہ ہمارے سامنے اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ہے ۔
ڈاکٹر جوناتھن، کیا تم اپنی بات کی مزید وضاحت کرنا پسند کروگے، کیک قدرے چونکا تھا
بلکل مائی ڈیئر کیک۔ یہی تو میں سمجھانے اور تمہاری غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہم انسانیت کی فلاح کے لیئے ہی خلا کو تسخیر کرنے نکلے تھے اور سات آٹھ عشروں کے اس سفر میں ہماری ترجیحات ہر گز تبدیل نہیں ہوئی ہیں ۔
تم دیکھ رہے ہو کہ زمین پر آبادی کس قدر تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے، ایک وسیع علاقے پر آباد باشندوں کو اب تک بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں ہیں ، اینڈ یو نو واٹ کہ ہم عشروں پہلے منصوبہ بندی کرنے والے لوگ ہیں ۔
ڈاکٹر جوناتھن ، میری ناقص معلومات کے مطابق تم گذشتہ آٹھ ، نو برس سے ناسا کے ساتھ وابسطہ ہو اور اس سے پہلے بھی ایسٹرانامی میں خاصی مغز ماری کر چکے ہو ، تم یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ سائنس کہتی ہے”اس کائنات کا
نظام خود کار ہے اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا توازن ہے” جسے برقرار رکھنے کے لیئے انسان کو از خود کوئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ، ہاں وہ اس کو غیر متوازن کرنے کے لیئے سر دھڑ کی بازی ضرور لگائے ہوئے ہے۔ تمہیں اس
کی بڑھتی ہوئی آبادی کے فکر کیوں کھائے جا رہی ہے ؟کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک برس میں جتنے لوگ پیدا ہوتے ہیں اتنے مر بھی تو جاتے ہیں ۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث گلوبل وارمنگ آخری حد کو پہنچ چکی ہے اور ہرخطے میں طرح طرح کے
امراض جنم لیکر بستیوں پر بستیاں اجاڑ رہے ہیں ، اور پھر بھی تمہیں بڑھتی ہوئی آبادی کی کِھل رہی ہے اور تم انہیں کسی نئے سیارے پر شفٹ کرنے کے لیئے سرگرداں ہو ۔
ٹہرو ۔ جوناتھن نے ہاتھ اٹھا کر نان سٹاپ بولتے کیک کو روکا ۔
یہ گفتگو طویل تو ہوتی جارہی ہے، کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم آج ٹو دی ٹاپک بات کر لیں ۔
ہم ۔۔ ہاں ٹھیک ہے تم لوگوں کے ساتھ سر کھپا کر میرے بھی سر میں درد ہوجاتا ہے، اور پلے تم لوگوں کے کچھ پڑتا بھی نہیں کیونکہ تم نے کرنا وہی ہے جو تم نے سوچ رکھا ہے۔ سو آج اس قصے کو ختم ہی کیئے دیتے ہیں ، کیک نے نرم کشن پر
پر ایک سٹائل سے پر پھیلائے۔
بڑی نوازش ہوگی تمہاری ۔ سٹیوو نے منہ بنایا ۔
ڈیئر سٹیوو۔ یو نو واٹ کہ تم منہ پھلا کر بہت کیوٹ لگتے ہواور تمہاری اس ادا پر میری جان جاتی ہے، کیک نے ایک آنکھ دبا کر سٹیوو کو مزید تپایا
مائی پلیژر کیک ۔ ہونہہ
ویلکم ۔ ویلکم ۔ مینشن ناٹ مائی ڈیئر۔ خیر میں اور تم ایک دوسرے سے بعد میں نمٹتے رہیں گے کیونکہ گرینی کی وصیت کے مطابق اب میں نے مر کر ہی تمہاری جان چھوڑنی ہے ۔
ہاں تو ہم بات کر ہے تھے موزیل کی ایلینز کمیونٹی کے بارے میں ۔۔ تو ڈاکٹر جوناتھن تم اپنے اندازوں میں کافی حد تک درست تھے ، موزیل کے سیارے “زوگ” کی تباہی میں ماحولیاتی اثرات کے ساتھ اس حولناک جنگ کا برابر کا حصہ تھا، جو دو
ایلینزسپر پاورز کے درمیان لڑی گئی اور دونوں جانب سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے بجائے خاص سا ئنسی تکنیکس استعمال کی گئیں جسے تم “آرٹیفیشل انٹیلی جنس ” کہتے ہو ۔ مگر تمہارا لیول ایلینز کی نسبت ابھی بہت کم ہے، زوگ کے سائنسدان سپر انٹیلی جنٹ تھے۔
“حد سے بڑھی ہوئی ذہانت کسی ٹھاٹے مارتے ہوئے دریا کی طرح ہوتی ہے، اسکی شوریدہ سر موجوں کو اگر نکاس کا راستہ نہ ملے تو وہ ہر رکاوٹ کو تہس نہس کرتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر ذہین دماغ منفی رخ پر ہی سوچتا
ہے، بہت سے جینئس افراد نے اپنی تمامتر صلاحیتیں ہی نہیں پوری زندگی انسانیت کی فلاح کے لیئے وقف کی اور تاریخ میں امر ہوگئے۔ ۔ مگر تم بھی یقینا ََ مجھ سے اختلاف نہیں کروگے کہ اس دنیا کو تباہی کےدہانے پر نہ تو سیاست دانوں نے پہنچایا
ہے ، نہ ہی مفکرین یا مذہب کے علم برداروں نے، یہ سب کارستانی سپر پاورز کے تھنک ٹینکس اور سپر جینئس سائنسدانوں کی ہے۔”
کیک ہمیں اس سب پر بہت افسوس ہے اور یقین کرو ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ زمین پر بھی وہی کچھ رونما ہو جو ” زوگ” پر ہوا ۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ موزیل سمیت اور کتنے ایلینز بچنے میں کامیاب رہے تھے ؟
جوناتھن کا سوال سن کر کیک قہقہے لگاتا ہوا صوفے پر لوٹ پوٹ ہونے لگا ۔ سٹیوو نے حیرت سے اسے اور پھر جوناتھن کو دیکھا ۔ شاید کیک کے دماغ پر کچھ برا اثر پڑا ہے۔
ڈاکٹر جوناتھن ۔ تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ زوگ کی تباہی کے بعد وہاں کچھ بھی نہیں بچا تھا ، اور اب تک تو اس کے ٹکڑے بھی ٹھنڈے ہوکر “ڈوارف” بن چکے ہوں گے ۔
تو پھر موزیل کس طرح بچ گئی تھی ؟؟ سٹیوو کو حیرت ہوئی
وہ اس طرح سٹیو وکہ زوگ کے سائنسدانوں کی ٹیم حولناک جنگ چھیڑ کر متوقع تباہی سے پہلے ہی سیارے سے روانہ ہوگئی تھی ، اور موزیل ڈاکٹر زواگو کے پاس برسوں سے مقیم تھی جیسے میری جان تم نے عذاب کی ہوئی ہے ۔
اوہ ۔ ونڈرفل ۔ اصل کام کی بات تو تم نے اب بتائی ہے ، لیکن وہ ایلینز سائنسدانوں کی ٹیم اب کس سیارے پر ہے ؟؟
ہونا کہاں ہے ، وہیں جیوپیٹر پر ہے سٹیوو پیارے ۔کیک نے حسبِ عادت آنکھ دبائی
مگر شاید تمہیں یہ جان کر حیرت ہو کہ وہ اب سائنسدانوں کی ایک چھوٹی سی ٹیم نہیں رہی ، بایو میڈیکل کی تکنیک سے انکی جیوپیٹر پر آبادی وائرس کی طرح بڑھتی گئی تھی اور اب وہ پورے سیارے پر پھیل چکے ہیں ۔ موزیل کچھ عرصے پہلے
ڈاکٹر زواگو کے پاس سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی ، وہ بہت مشکلوں سے زمین تک اور پھر ہمارا تعاقب کرتی ہوئی مارس تک آئی تھی ، تاکہ وہ سٹیوو کے ذریعے ہم انسانوں کو خبردار کر سکے کہ جیوپیٹر پر مقیم ایلینز کمیونٹی زمین پر آبادی
کا سراغ لگا چکی ہے، اور اس سیارے پر انہیں کچھ ایسی نادر اشیاء کا پتا لگا ہے کہ وہ کافی عرصے سے اس پر قبضہ کرنے کی سٹرٹیجی بنا رہے ہیں ۔
واٹ؟؟ جوناتھن حیرت کے مارے چلایا
یس مائی ڈیئر جونی ، اسی لیئے تو میں تمہیں کہہ رہا تھا کہ جونو مشن بچوں کا کھیل نہیں ، تم اپنی خیر مناؤ ۔
وہ تو ہم منا لیں گے، ڈونٹ یو وری ، چوڑیاں ہم نے بھی نہیں پہنی ہوئیں ۔ ہونہہ ۔ تم یہ بتاؤ کہ ایلینز سائنسدانوں کو ہماری سرگرمیوں کے بارے میں کتنا معلوم ہے ، میرا مطلب ہے کہ ہمارے جیوپیٹر مشن ۔۔
تقریبا ََ سب کچھ ، اور جو نہیں معلوم تھا وہ میں نے موزیل کو بتا دیا تھا ۔کیک نے اپنی چونچ بجا کر دانت نکالنے کی اداکاری کی ۔
ہم مہینوں تک آنے والے حالات کے بارے میں بحث کرتے رہے ، موزیل ایلینز سائنسدانوں کو اپنی سرگرمیوں سے نہیں روک سکتی ، میں بھی تمہارے ساتھ کتنا ہی سر کھپا لوں تم نے کرنی اپنے من کی ہے ۔سو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ۔
کیک ایک لمحے کو رکا اور اپنے سامنے بیٹھے دنیا کہ دو جینئس سائنسدانوں کے متجسس چہروں کو ٹٹولا ۔
” انسان اور ایلینز کا تصادم ہمیں ناگزیر نظر آرہا ہے، جب تباہی کی گھڑی قریب ہوگی ، اور وہ یقینا ََ جلد یا بدیر آکر رہے گی ۔تو میں اور موزیل اس سے پہلے فرار ہوجائیں گے ، کس طرح یہ ہمارا کام ۔ اور اس کے بعد ہم ایک سیارے پر اپنی
جانوروں اور پرندوں کی کمیونٹی آباد کریں گے ، جہاں انسان اور انسان نما ایلینز کا کوئی وجود نہیں ہوگا ۔”
ختم شد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭tital

6027 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد