بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

’’بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

(یہ پوسٹ سائنس کی دنیا گروپ میں ہونےوالے سوال اور اس کے کمنٹس کو لیکر بنائی گئی ہے)
’’بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟‘ ایک بے معنی اورنا معقو ل سوال ہے۔۔۔ سائنس کچھ اس طرح کے سوالکے بارے میں نہیں ہے۔۔۔۔بے معنی سوالات کا جواب نہیں دیا جاتا۔۔۔۔۔۔یہ سوال صرف ایک ایسا شخص پوچھ سکتا ہے جو ’بگ بینگ‘ کے بارے میں کوئی سمجھ نہیں رکھتا۔۔۔۔’بگ بینگ‘ فضا اور وقت ’میں‘ کوئی دھماکہ نہیں تھا۔۔۔واقعہ یہ ہے کہ فضا، وقت، مادّہ اور توانائی (یہ سب) ’بگ بینگ‘کے ساتھ ہی وجود میں آئے۔۔۔۔’پہلے‘،’ہمیشہ‘ اور ’بعد میں‘کے الفاظ صرف وقت کے دائرے میں معنی رکھتے ہیں۔ اگر وقت ہی نا ہو تو ’پہلے‘، ’ہمیشہ‘ اور ’بعد میں‘ بے معنی الفاظ ہو جاتے ہیں۔ ۔چوں کہ وقت ’بگ بینگ‘ کے ساتھ ہی شروع ہوا اس لئے یہ سوال کہ ’’بگ بینگ‘ سے پہلے کیا تھا؟‘ایک بے معنی سوال ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ بنا ریاضی(سے اچھی واقفیت کے) یہ سمجھنا کہ ’بگ بینگ‘ دراصل کیا ہےممکن نہیں ہے۔۔۔۔’بگ بینگ‘پر بحث کرنے کے لئے آپ کو جنرل ریلیٹیویٹی، کوانٹم میکانیکس، ڈیفرینشیئل ٹو پو لوجی، ڈیفرینژیئل جیومیٹری، ڈیفرینشیئل ایکویشنز، الجبرا، گروپ تھیوری، الجبرائی ٹوپولوجی، الجبرئی جیو میٹری، کوانٹم فیلڈ تھیوری،
ری مان کی جیومیٹری، میتھیمیٹیکل فزکس اور اور بھی بہت کچھ سے واقفیت ضروری ہے۔۔۔‘
بہ الفاظ دیگر جن لوگوں کے پاس ان اہم مضامین کا کوئی احترام ہے نا کبھی اُن کا نام سنا ہے تو اُن کے

آگے ’بگ بینگ‘ پر وضاحتین دینا ایسا ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا!یہ پوسٹ اُن لوگوں کو آینہ دکھاتی ہے جو مسلسل سائنس پرنشانہ سادھ کر اُس کی دوسروں کی نظروں میں وقعت کم کرنے کے گھناونے فعل میں لگے رہتے ہیں!بگ بینگ سے پہلے کیا تھا 1458416_1383405815289235_4780546184959345075_n 10620349_1383405585289258_2144564805199261480_o 10834945_1383405698622580_6281899578533153247_o 10861119_1383405735289243_8665541037637144158_o

سایئنس میں ’’رد’’ و قبول’’ اور ’’اثبات’’ بلترتیب ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ اور علم ریاضی کے مطابق کی جاتی ہیں۔
اور مشاہداتی سایئنس میں علم ریاضی کے اصولوں پر پورا اترنے والی تھیوری سے ماڈلینگ کی جاتی ھے اور اس ماڈل کو بطور ھاپوتھیسس پیش کیا جاتا ھے کہ جس بعد میں ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ سے قبول کی جاتی ھے۔ یا علم ریاضی سے اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ھے، کہ اس قسم کی صورتحال میں علم ریاضی کے علوم صورتحال کی وضاحت میں کیا کردار ادا کریں گے۔

اسی مد میں ’’رد و اثبات’’ کی مد میں کسی ھاپوتھیسس ویلیڈٰٹ کرنے کیلیے ھمیشہ ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ سے گزرنا پڑتا ھے۔ اور اگر ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ نہ کی جائے تو، ایسی صورتحال رد و قبولیت کے مابین موجود ھوتی حتی کہ ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ کر دی جائے یا علم ریاضی سے ہی ثابت کر دیا جائے کہ ویسا ھو گا کہ جیسا کہا گیا۔

ایڈورڈ نے اسی مد میں عبد السلام اور دیگر شہرہ آفاق سایئنسدانوں کے مابین ایک گفتگو کی کہ جسکو یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ھے۔ اس گفتگو کا نام کنورسیشن ھے۔ وھاں ایڈورڈ ویٹن یہی کہتا ھے، کہ طبیعاتی پیشن گوئی یا سمجھنے کی صورتحال اس بات پر انخصار کرتی ھے، کہ کونسے علم ریاضی کے کونسے ماڈل کو ریسرچ میں استعمال کیا گیا ھے۔ علم ریاضی کے ماڈل سٹرکچر کو بدلنے سے اسی ماڈل کی پیشن گوئی اور وضاحت کی صورتحال دونوں ہی بدل جاتی ہیں۔

اسی مد میں یہ اہم ھو جاتا ھے، کہ جو بھی کچھ علم ریاضی سے ثابت کی اجا رھا ھے، وھاں یہ جانا جائے کہ اسی علم ریاضی کے پروف میں کن اگزیئم کی بنیاد پر بات آگے بڑ رہی ھے۔ یا کن طبیعاتی تعریفوں اور فرسٹ پرینسیپل کو فرض کر کے بات آگے بڑھ رہی ھے۔ جب علم ریاضی کے اگزیئم مختلف تعریف کیئے جایئں تو پروف کے زاوئے بھی بدلتے ہیں۔

لہذا ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ، فرسٹ پرینسیپل کے مشاہدے سے پہلے کسی سایئنسی بحث کو سختی نہ رد و قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وھاں یہی کہا جاتا ھے، کہ اس پر کام ھو رھا ھے۔ ھمارا خیال ھے، کہ ایسا ھو گا۔ میرے خیال میں ایسا نہ ھو گا۔ یا یہ کہ جو علم ریاضی کے ستریکچر کو بطور ماڈل کے استعمال کیا ھے، اسکی رو سے یہ صورتحال ممکن نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی ماڈل کو مطلق قرار دینے بارے، اور ھاپوتھیسس ٹیسٹ سے پہلے رد و قبول پابرے سٹیٹمینٹ نہیں دی جا سکتی۔

جیسا کہ اسی مد میں جب ویڈورڈ وٹن نے بات کی تو اسکے لفظوں میں یہی احتیاط واضح تھی، مثلا اس نے کہا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ’’ممکنہ’’ طور پر ’’گمان’’ کروں گا کہ بیگ بینگ کے پاس وقت کی وضاحت اپنا وجود نہ رکھ سکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(ایڈورڈ وٹن کی جانب منسوب ایک کومینٹ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہذا سایئنسدانوں کے جملوں میں بھی ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ سے پیشتر ’’ممکنات’’ و ’’گمان’’ بابت بات ھوتی ھے۔ جب ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ ھو جائے تب ہی مشاہداتی طور پر وثوق مہیا ھوتا ھے۔ یا پھر علم ریاضی اگر کچھ ثابت کر دے تو پھر ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ اور مشاہدے کے بغیر بھی کوئی ایسی صورتحال نہیں ھوسکے گی کہ جسکو کبھی بھی مشاہداہ کاٹ سکے۔

یہ بات اہم ھو جائے گی کہ وقت کی کیا تعریف کی گئی ھے۔ یعنی کہ وقت کی کوسنی تعریف بطور فرسٹ پرینسیپل کے استعمال ھو رہی ھے۔ اور پھر دوسرے نمبر پر اسی تعریف کی ھاپوتھیسس ٹیسٹینگ کے بغیر یہ بات یونہی کہی جا سکے گی کہ ’’فلاں تعریف کی دنیا میں رہتے ھوئے یہ اخز کیا جائے کہ کیا نتیجہ نکلے گا’’

سائنس داں ہاکنگ کے نظریہ کوانٹم گریویٹی میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ وقت کی دو ریاضیاتی قسمیں بتائی گئی ہیں : حقیقی وقت (جو ہم اور آپ عملی طور پر جانتے اور استعمال مین لاتے ہیں) اور غیر حقیقی (imaginary) وقت۔ بگ بینگ ایک ایسی کیفیت کا اظہار بتایا جاتا ہے جس میں فضا اور وقت ایسے مڑ جاتے ہین کہ غیر حقیقی وقت تو با معنی بنا رہتا ہے مگر حقیقی وقت بگ بینگ سے آگےوجود نہیں رکھتا۔ یہاں محض ہاکنگ کی اسی تھیوری کی نشاندہی کرنا مقصود تھا
بیگ بینگ چونکہ ایک واقعہ کے طور پر ھاپوتھیسایئز کیا جاتا ھے۔ ھاپوتھسایئز اس لیئے کہ رھا ھوں، کہ بیگ بینگ کی مشاہداتی یا تصدیقی ویلیڈٰشن ابھی ھونی ھے۔ اور جب کوئی بھی ایسا واقعہ کہ جو مطابقت کی دنیا میں تعریف کیا جائے تو ایسا واقعہ ھونے کیلیے اسکو واقعہ کو کچھ اصولوں پر حرکیاتی (ڈائینیمیکس، زیادہ ایکوریٹ کہیں تو نان لینیئر ڈائینمیکس) طور پر چل کر ہی ھو گا،

 

 

5021 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by منیب احمد