اس سال کا کیمسٹری نوبل انعام

اس سال کا کیمسٹری نوبل انعام

chemistry
chemistry

2019 کا کیمسٹری کا نوبل انعام لیتھیم آئیون بیٹری کے موجد کو دے دیا گیا

نوبل کمیٹی نے 2019 کے کیمسٹری کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا ہے اور یہ انعام لیتھیئم آئیون کے موجدوں کو دیا گیا ہے- انعام جیتنے والوں میں یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن کے جون گوڈنف، برمنگھم یونیورسٹی کے سٹینلی ویٹینگھم، اور جاپان کے اکیرا یوشینو شامل ہیں- اکیرا کسی یونیورسٹی سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اساہی کارپوریشن کے لیے کام کرتے ہیں- لیتھیئم آئیون بیٹری آج کل موبائل ڈیوائسز میں عام استعمال ہوتی ہے اور یہ لیتھیئم آئیون بیٹری کی ایجاد سے ہی ممکن ہو پایا کہ محض بیس سال پہلے جو کمپیوٹنگ پاور سپر کمپیوٹرز میں ہوتی تھی اب ایک سمارٹ فون کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے

لیتھیئم بیٹری پر کام 1970 کی دہائی میں شروع ہوا جس میں سٹینلی ویٹینگھم نے لیتھیم بیٹری کے کیتھوڈ کو ڈیزائن کیا جسے آسانی سے چارج کیا جا سکے- شروع میں اسے میٹل سلفائیڈ سے بنایا گیا تھا- جون گوڈنف نے میٹل سلفائیڈ کی جگہ میٹل آکسائیڈ کے کیتھوڈ کو استعمال کیا جس سے بیٹری کی کارکردگی بہت بہتر ہو گئی- اس ریسرچ کو استعمال کرتے ہوئے اکیرا یوشینو نے 1985 میں پہلی مکمل لیتھیئم آئیون بیٹری بنائی جسے کمرشلی بیچنا شروع کیا گیا- یہ بیٹری ماضی کی بیٹریوں کی نسبت انتہائی چھوٹی تھی لیکن اس میں باقی بیٹریوں کی نسبت زیادہ پاور جنریٹ کرنے کی صلاحیت تھی- اس کے علاوہ اس میں جو کیمیائی تعاملات ہوتے ہیں ان میں الیکٹروڈز کمزور نہیں ہوتے اس لیے اسے ہزاروں بار چارج کیا جا سکتا ہے

یہ اس بیٹری ٹیکنالوجی کا ہی کمال ہے کہ دنیا میں سات ارب سے زیادہ سیل فون اور ایک ارب سے زیادہ ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز استعمال ہو رہے ہیں

https://www.nobelprize.org/prizes/chemistry/2019/press-release/?fbclid=IwAR1ru-wtispTwJBun7U51Ytv6_Ir94EZlZifepWwLNJRaurbLRMVWD09HPA

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: