دنیا بھر سے پولیو وائرس کی ایک قسم کا خاتمہ کر دیا گیا

دنیا بھر سے پولیو وائرس کی ایک قسم کا خاتمہ کر دیا گیا

polio
polio پولیو

اب سے چند دہائیاں پہلے تک پولیو کا وائرس دنیا بھر میں موجود تھا- اس وائرس کی تین قسمیں تھیں جو ہر سال ہزاروں لوگوں کی جان لیتی تھیں اور لاکھوں لوگوں کو معذور کرتی تھیں- 1950 کی دہائی میں پولیو کی ویکسین کی ایجاد کے بعد پولیو کا مرض کم ہونے لگا اور پچھلی صدی کی نوے کی دہائی تک یہ مرض قریب قریب تمام ترقی یافتہ ممالک سے ختم کر دیا گیا- البتہ کئی ترقی پذیر ممالک میں پولیو کے نئے کیسز بدستور دیکھنے کو ملتے رہے-

1988 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے دنیا بھر میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز کیا تاکہ چیچک کی طرح پولیو کی بیماری کو بھی دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے- اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا 1994 تک یہ بیماری امریکہ سے ختم ہو چکی تھی اور سنہ 2000 تک 36 ملک اس بیماری سے آزاد ہو چکے تھے جن میں چین اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں- سنہ 2002 میں پورے یورپ کو پولیو سے آزاد قرار دے دیا گیا- 2012 میں بھارت کو بھی پولیو سے آزاد ملک قرار دے دیا گیا- اس کے بعد یہ بیماری صرف پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا میں ہی محدود رہ گئی

سنہ 2015 میں اعلان کیا گیا کہ پولیو کی تین قسموں میں سے ایک قسم کا دنیا بھر میں مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس وائرس کا نام WPV2 تھا اور یہ قسم نائیجیریا میں پائی

جاتی تھی جس کا آخری کیس 2012 میں رپورٹ کیا گیا تھا- لیکن چونکہ پولیو کا وائرس لوگوں کے جسم میں dormant بھی رہ سکتا ہے اس لیے نائیجیریا میں پولیو کے خلاف مہم مسلسل چلتی رہی اور بالاخر 2015 میں اس قسم کے وائرس کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا گیا-

اب پولیو وائرس کی دوسری قسم کے مکمل خاتمے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے جس کا نام WPV3 ہے- اب صرف پولیو کے وائرس کی ایک قسم باقی ہے جو صرف پاکستان اور افغانستان میں پائی جاتی ہے جسے WPV1 کہا جاتا ہے- بدقمستی سے 2019 پاکستان میں پولیو کے حوالے سے بہت برا سال ثابت ہوا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال پولیو کے کہیں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- اب تک پاکستان میں پولیو کے 94 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جو تمام کے تمام WPV1 وائرس کے ہیں-

اگر پاکستان اور افغانستان کے عوام حکام کا ساتھ دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگلے چند سالوں میں WPV1 کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے جس کے بعد پولیو کی لعنت دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی



شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: