دماغ پڑھنے والی مشین

دماغ پڑھنے والی مشین

انسان اس امر کو لے کر ہمیشہ سے متجسس رہا ہے کہ وہ کس طرح دوسرے لوگوں کے دماغ کو پڑھ سکے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے نجومیوں اور جادوگروں کے نام آتے ہیں جن سے مختلف کہانیاں منسوب کی جاتی ہیں کہ کس طرح وہ انسانی دماغ میں پائی جانے والی سوچوں، تصورات اور خیالات کو جان لیا کرتے تھے۔ یہ سب کو خیر سوڈوسائنس سے متعلق باتیں ہیں تاہم سائنس سے اگر اس امر کو مربوط کیا جائے تو ہمارے پاس سائی فائی فلموں کی ایک بھرمار موجود ہے جس کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح مختلف مشینوں اور نفسیات کے علم کے استعمال کے ساتھ انسانی دماغ کو پڑھا جا رہا ہے بلکہ یہی نہیں انسانی سوچوں کو کاپی کر کے کسی ھارڈ ڈرائیو پر محفوظ بھی کیا جانا سائی فائی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ سب ایک انسانی خواہش اور دیرینہ خواب کی طرح ہے۔

اب ہم بات کرتے ھیں اٹھتیس سالہ نیورل انجنیئر مریم شنیچی کی، جنہیں انسانی دماغوں کو پڑھنے کے لیے کسی جادو ٹونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے ایک کمپیوٹر الگوردم لکھا ہے جس کے ذریعے دماغ سے سیلز سے نکلنے والی الیکٹرک شعائوں کو ایسی مشینی کمانڈز میں تبدیل کیا جاتا ہے جو کہ کمپیوٹر سمجھ سکے۔ مریم شنیچی نے اس الگوردم کو ڈویلپ کرنے کے بعد مختلف طرح کے تجربات سے اسے گزارا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

اس مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزر جانے کے بعد اب مریم ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے کوشاں ہے جو کہ انسانی دماغ کو کنٹرول کرنے سے متعلق ہے۔ اسے مائنڈ کنٹرول میکانزم کہا جاتا ہے۔ وہ اس کوشش میں لگی ہیں کہ کسی طرح مشینی کمانڈز کو اس ڈیٹا فارم میں تبدیل کر سکیں جو دماغ سمجھ سکے۔ یعنی پہلے سے اپنے کیے گئے کام کا

الٹ کام ایجاد کرنا۔ وہ دماغی مشینی انٹرفیس بنانے کے لیے کوشاں ہیں جو نہ صرف دماغ کو پڑھ سکے بلکہ لوگوں کے موڈ وغیرہ کو تبدیل کرنے کے افعال بھی انجام دے پائے۔ اس تجربہ کی کامابی کے بعد نفسیات کے میدان میں نئی راہیں کھل جائیں گی۔ نفسیاتی بیماریوں کا شکار افراد کی بہت آسانی کے ساتھ مینٹل مینی پولیشن کر کے ان کی بیماریوں کو دور کیا جا سکے گا۔ جو تھیراپیز سے ٹھیک نہیں ہو رہے ان کی ڈپریشن اور انزائٹی وغیرہ کو اس طریقہ کار سے دور کیا جانا ممکن ہوسکے گا۔

اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے اور مریم شنیچی کے سائٹفک ورک کو جاننے کے لیے قارئین “سائنس نیوز” وزٹ کر کے مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: