خوبصورتی کی سائنس

خوبصورتی کی سائنس

خوبصورتی کے سائنسی تعریف کیا ہے اور مخالف جنس میں خوبصورتی دیکھ کر اس کے طرف کشش کیوں محسوس ہوتا ہے جب کہ مخالف جنس زیادھ خوبصورت نا ہو تو اس کے طرف اتنا کشش محسوس نہیں ہوتا سائنسی وجوہات کیا ہیں

مخالف جنس میں کشش محسوس کرنا نسل کی بقاء کے لیئے ضروری ہے۔ ارتقاء کی بنیاد پہ کوئی بھی چیز جو ہمارے جسم کی بقا کے لیئے ضروری ہے وہ باعث لطف بھی ہے۔ کھانا کھانا، پانی پینا، نہانا، گرمی میں ٹھنڈک کا احساس اور شدید ٹھنڈ میں گرمی کا احساس لطف دیتا ہے ان سب ضرورریات میں سے لطف کا عنصر نکال دیں تو ہم کسی بھی چیز کو ضرورت کے تحت بھی استعمال نہیں کریں گے یہ ہمارے دماغ کا قدرتی ریوارڈ سسٹم ہے۔

خوبصورتی کا تصور بھی مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ویسٹ انڈیز میں خوبصورتی کا تصور نہیں ہے؟ یہ ممکن ہے کہ وہاں خوبصورتی کا تصور آپ کے یا میرے خوبصورتی کے تصور سے مختلف ہو لیکن خوبصورتی کا تصور ہر کلچر میں موجود ہے۔ لہذا خوبصورتی کی کوئی معروضی ڈیفینیشن نہیں ہے- جسے ویسٹ انڈیز کے لوگ خوبصورتی کہتے ہیں وہ شاید ہمارے ہاں نہیں ہے

دوسری جانب دیکھا جائے تو خوبصورت خدو خال کا مطلب ہے بہتر جینز۔ ہم جب مخالف جنس کے ساتھ پیار محبت کرتے ہیں تو ایک طرف سے نیچرل سیلکیکشن میں خوبصورتی کی اہم بن جاتی ہے۔ ایک کمزور اور بد صورت شخص کبھی بھی پر کشش نہیں ہوتا کیونکہ ہم ان کے ساتھ شادی یا پیار کر کے اپنی نئی نسل میں ان خصوصیات کو ٹرانسفر نہیں کرنا چاہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام جانداروں میں یہ جبلت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو اپنے سے زیادہ مضبوط رکھیں۔ زیادہ تر پرندوں اور کچھ چوپایوں میں مادہ اپنی اولاد کے لیے بہترین سے بہترین نر تلاش کرتی ہیں بلکہ نروں کو کڑے امتحانوں سے گزر کر مادہ کا دل جیتنا ہوتا ہے۔ پہلے وقتوں میں عورت کے لیئے جسمانی طور پر مضبوط مرد اس کی نسل کی بقاء کا معیار تھا۔ اسی طرح مرد بھی کمانڈو عورتوں پر جان وارتے تھے۔ آجکل چھوئی موئی، معصوم اور ذہین عورت مرد کے دماغ کا محور ہوتی ہے اور خواتین بھی لگ بھگ ذہانت پر مر مٹتی ہیں۔ جسمانی خوبصورتی پہلی کشش پیدا کرتی ہے تب ہی بات آگے چلتی ہے۔ ہر خطہ پہ خوبصورتی اور چہرے کے خدو خال اور نقوش کے معیار مختلف رہے ہیں۔

فائ ریشو یعنی 0.61 کو پرنسپل آف بیوٹی کہا جاتا ہے. مثلاً چہرے کی لمبائی اور چوڑائی کی نسبت اگر فائ کے برابر ہو تو خوبصورت ہوگا ہونٹوں اور آنکھوں میں بھی یہی اصول کارفرما ہے ناک میں بھی. اسی طرح بالائی اور زیریں دھڑ میں بھی.

ہم اسے اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں کہ حسن ہمارے دماغ کا construct ہے۔ منظر کا حسن، خوشبو، کھانے کی لذت، آواز اور موسیقی کا حسن، یہ سب چیزیں جمالیات کے تحت آتی ہیں۔ ہم کسی حد یہ بتا سکتے ہیں کہ جمالیات کا تعلق ہماری بقا سے متعلق ہے۔ لیکن پھر

بھی ہم جمالیات کی پوری تشریح سائنسی انداز میں نہیں کر سکے۔ یہ کافی پیچیدہ موضوع ہے۔ خوبصورتی- جنیاتی خصوصیت ہے جس میں رنگ و خلیاتی بناوٹ کا امتزاج ہوتا ہے۔ دماغ کا hypothalamus نامی حصہ خوبصورتی کی طرف مائل ہونے کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ دراصل اس حصہ کا کام محرکات کے اخراج میں اہم رول ادا کرنا بھی ہے لہذا جب بھی کسی خوبصورت جنس کو دیکھنےپر hypothalamus ایکٹیویٹ ہوتا ہے اور مختلف محرکات کے اخراج کا کام کرتا ہے۔

یہ مضمون سائنس کی دنیا فورم میں ہونے والے ایک مباحثے سے حاصل شدہ گفتگو سے اخذ کیا گیا ہے۔

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: