دادی اماں دادی اماں کھیلنے کو جائیں

دادی اماں دادی اماں کھیلنے کو جائیں

ہمارے کلچر میں دادی اماں اور نانی اماں کا کردار ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے- ان بزرگوں کا کام نہ صرف گھر کے معاملات میں اپنے تجربے کی بنا پر مشورے دینا اور خاندانی جھگڑوں کو نپٹانا ہے بلکہ بچوں کو کہانیاں سنانا، انہیں ادب آداب سکھانا سے لے کر نوجوانوں کے رشتے تلاش کرنا اور ان رشتوں کی چھان بین کرنا تک بھی ان کے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے- لیکن جدید زندگی میں ہم جہاں اپنی بہت سی دوسری روایات سے ناتا توڑتے جا رہے ہیں وہیں گھروں میں بزرگوں کا عمل دخل بھی کم ہوتا جا

رہا ہے
نوجوانوں اور خصوصاً نوجوان لڑکوں میں اینگزائیٹی اور ڈیپریشن ایک عام بات ہے- یہ امراض نئے نہیں ہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے موجود ہیں- کسی زمانے میں گھر میں نہ سیل فون ہوتا تھا، نہ کمپیوٹر، نہ ٹی وی، اور نہ ریڈیو- اس زمانے میں گھر کے لوگ ایک جگہ بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرتے تھے- اس طرح کی بات چیت سے نوجوانوں کا ڈیپریشن قدرے کم ہو جاتا تھا- والدین سے نوجوانوں کی کمیونیکیشن قدرے کم ہوتی ہے لیکن دادی اماں اور نانی اماں سے نوجوان دل کی بات بے جھجھک کر لیتے تھے- اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے نوجوانوں اور بزرگوں میں دوریاں ہو گئی ہیں اور یوں نوجوان پہلے سے زیادہ isolate ہو گئے ہیں- نوجوانوں میں ڈیپریشن کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ آئسولیشن بھی ہے- جو لوگ ڈیپریشن کی علامات کو پہچانتے ہیں اور سائکیاٹرسٹ (یعنی ذہنی امراض کی تشخیص اور انہیں دوا تجویز کرنے والے ماہرین) کی خدمات ایفورڈ کر سکتے ہیں ان کے لیے ڈیپریشن کا علاج کسی حد تک ممکن ہوتا ہے- بدقسمتی سے ہماری سوسائیٹی میں ہر کسی کے لیے سائکیاٹرسٹ کی خدمات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا- اس طرح لاکھوں نوجوان ڈیپریشن کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر ختم ہوتے رہتے ہیں
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ذہنی بیماریاں تو عام ہیں لیکن ان کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں- ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سائکیاٹرسٹ کی شدید قلت ہے اور اوسطاً پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے صرف ایک سائکیاٹرسٹ دستیاب ہے- اس کے علاوہ سائکیاٹرسٹ کے مشورے اور دواؤں کی لاگت عام انسان کی پہنچ سے باہر ہے- ان حالات میں لوگوں کو خواہ معمولی ذہنی امراض ہوں یا انتہائی خطرناک ذہنی امراض، ان کی تشخیص یا علاج ممکن نہیں ہوتا-
زمباوے ایک افریقی ملک ہے جہاں غربت کا تناسب پاکستان سے بھی کہیں زیادہ ہے- اسی تناسب سے زمباوے میں سائکیاٹرسٹس کی تعداد بھی انتہائی کم ہے اور دس لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے صرف ایک سائکیاٹرسٹ دستیاب ہے اور وہ بھی صرف شہروں میں- دیہات میں سائکیاٹرسٹ کا دستیاب ہونا عملاً ناممکن ہے- لیکن زمباوے کے ماہرین نے اس مسئلے کا ایک ایسا حل تجویز کیا ہے جس سے لاکھوں افراد مفت میں مستفید ہو سکتے ہیں
پاکستان کی طرح زمباوے میں بھی بہت سے گھروں میں بزرگ خواتین موجود ہیں جو کسی زمانے میں گھروں کے اہم فیصلے کیا کرتی تھیں لیکن آج کل ٹیکنالوجی کی وجہ سے ان کی بچوں سے کمیونیکیشن نہ ہونے کے برابر ہے- زمباوے کے ماہرین نفسیات نے ان بزرگ خواتین کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہے- ان خواتین کو چند ماہ تک نفسیاتی کونسلنگ کی ٹریننگ دی گئی جس میں انہیں دوسرے افراد کے مسائل ڈسکس کرنے لیے انہیں اعتماد میں لینے کے طریقے سکھائے گئے-

اکثر لوگ انجانے افراد سے اپنے مسائل ڈسکس کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور ایسا کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں- اس کے علاوہ بعض اوقات ایسے افراد میں خود اعتمادی کی بھی کمی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنے مسائل بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں- اس مسئلے کا علاج یوں تجویز کیا گیا کہ بستی بستی اور گاؤں گاؤں میں ہیلتھ کلینکس کے باہر لکڑی کے کچھ بنچ رکھ دیے گئے جنہیں ‘دوستی کے بنچ’ یا Friendship Benches کا نام دیا گیا- اس بنچ پر علاقے کی بزرگ خواتین (جنہیں نفسیاتی کونسلنگ کی بنیادی ٹریننگ دی گئی تھی) موجود رہتیں اور مریضوں سے ان کے نفسیاتی مسائل پر بات چیت کرتیں- چونکہ یہ بینچ ہیلتھ کلینکس کے باہر رکھے گئے تھے جہاں لوگ عموماً اپنے صحت کے مسائل حل کرنے جاتے ہیں اس لیے لوگ ان بینچوں پر موجود خواتین سے اپنے نفسیاتی مسائل ڈسکس

کرنے میں زیادہ پس و پیش نہیں کرتے تھے
اس پروگرام کے آغاز میں ڈیپریشن کے 550 مریضوں کی ایک سٹڈی کی گئی جن میں سے آدھے مریض ایسے کلینکس سے چنے گئے جن کے باہر یہ دوستی کے بینچ موجود تھے اور آدھے ایسے کلینکس سے جہاں یہ بینچ موجود نہیں تھے- چھ ماہ کی سٹڈی سے یہ معلوم ہوا کہ جن کلینکس کے باہر یہ بینچ موجود نہیں تھے وہاں کے ڈیپریشن کے مریضوں میں چھ ماہ کی سٹڈی کے بعد پچاس فیصد مریضوں میں ڈیپریشن کی علامات موجود تھیں جبکہ دوستی کے بینچوں والے کلینک کے سیمپل میں صرف چودہ فیصد میں ڈیپریشن کی علامات موجود تھیں- گویا محض ان بزرگ خواتین سے بات چیت کرنے سے ڈیپریشن کے مریضوں کی علامات میں نمایاں کمی واقع ہوئی- اس کے علاوہ ایسے مریضوں میں خود

کشی سے متعلق خیالات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی
یہ پروگرام اس قدر کامیاب ہوا کہ اسے اب ذمباوے کے دوسرے شہروں میں بھی متعارف کروایا جا رہا ہے- اس کے علاوہ یہ دوستی کے بینچ اب دنیا بھر میں متعارف کروائے جا رہے ہیں- ان کا فائدہ نہ صرف ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہوتا ہے جو ڈیپریشن میں مبتلا ہیں لیکن اپنے مسائل کسی سے ڈسکس نہیں کر پاتے بلکہ اس پروگرام کی بدولت اس میں شامل بزرگ خواتین کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے- ان بزرگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف ان کی زندگی بے کار نہیں ہے اور وہ اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ نوجوانوں سے بات چیت کرنے سے ان خواتین کو یہ احساس بھی کم ہو جاتا ہے کہ وہ اب معاشرے سے کٹ گئی ہیں اور ان سے کوئی بات چیت نہیں کرتا
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک میں بھی اسی قسم کے پروگراموں پر کام کریں تاکہ ہمارے نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کے حل کا کچھ بندوبست ہو سکے

تحریر: قدیر قریشی

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: