مصنوعی بلیک ہول

مصنوعی بلیک ہول

کیا مصںوعی طور پر کسی لیبارٹری میں بلیک ہول بنا کر ٹیسٹ کیا جاتا سکتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو اکثر سائنس سٹوڈنٹس کے ذہنوں میں آتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کے جواب کی طرف جائیں ، ہمارے لیے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ بلیک ہول کیا ہوتا ہے اور کس طرح کام کرتا ہے۔

لفظ بلیک ہول خلا میں پائے جانے والے ایسے ستارے کو کہتے ہیں جو اس قدر کشش ِ ثقل پر مشتمل ہوتا ہے کہ خود اپنے ہی مادے اور اردگرد خلا میں بکھرے اجسام کو اپنی جانب کھینچنے لگتا ہے۔ مادے کی مقدار کے اضافے کے سبب اس کی کشش میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ستارہ اس قدر کشش ِ ثقل حاصل کر لیتا ہے کہ روشنی (جس کی رفتار سے سے تیز ہے) وہ بھی اس سے بھاگ نہیں سکتی اور بلیک ہول اپنی کشش کے ذریعے روشنی کو بھی اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔

بلیک ہول کائنات کے اندر ویکیوم کلینر کی طرح کام کرتا ہے اور اپنے اردگرد موجود خلائی اجسام کو اپنی جانب کھینتے ہوئے ہڑپ کرتا جاتا ہے۔ آئین سٹائین کی جنرل اور سپیشل ریلیٹویٹی کے نظریات (جنہیں ہم نظریہ اضافیت کے نام سے بھی جانتے ہیں) کے مطابق بلیک ہول کے نزدیک وقت اور خلا میں موجود ریاضیاتی تعلق کے سبب عام وقت کی نسبت وہاں وقت کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔

ہم اب اس سوال کی جانب آتے ہیں کہ کیا لیبارٹری کے اندر ایک نہایت کنٹرولڈ طریقے سے معمولی لیول پر بلیک ہول بنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟۔۔۔ ستارے کا اپنی زندگی کے آخری مراحل میں منہدم ہو جانا بلیک ہول بننے کا ایک طریقہ ہے جس کا ہم مشاہدہ کر چکے ہیں۔ تاہم بلیک ہول کی ڈیفینیشن(تعریف) صرف یہ ہے کہ اس میں کشش ثقل اتنی زیادہ ہو کہ اس کا ایونٹ ہورائزن اس کے حجم سے بڑا ہو- اصولاً بلیک ہول مائیکروسکوپک بھی ہو سکتا ہے- جب ایل ایچ سی (لارج ہیڈران کولیڈور) نے 2008 میں کام کرنا شروع کیا تھا تو کچھ لوگوں نے عوام میں یہ خوف پھیلا دیا تھا کہ یل ایچ سی کی توانائی اس قدر زیادہ ہے کہ اس میں بلیک ہول جنم لے سکتے ہیں جو تمام زمین کو ہڑپ کر جائیں گے۔ تاہم اب تک یل ایچ سی کی جانب سے مصنوعی بلیک ہول کے بنائے جانے کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔

لیبارٹری میں عموماً سپر سونک بلیک ہولز بنا کر تجربات کئے جاتے ہیں۔ جہاں روشنی کی جگہ آواز کو ٹریپ کیا جاتا ہے۔ یہ تقریباً بلیک ہولز کے اینالوگ ہی ہوتے ہیں جس سے بلیک ہولز کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ حال ہی میں سپر سونک بلیک ہول بنا کر ہاکنگ ریڈی ایشنز پر کافی تحقیق کی گئی ہے

تحریر میں اشتراک: عمار بلوچ، ذیشان ساجد، ڈاکٹر قدیر قریشی، رضا الحسن اور دیگر

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: