عقل اور وجدان : ایک مکالمہ

عقل اور وجدان : ایک مکالمہ

عقل اور وجدان——سر ادریس آزاد صاحب اور ذیشان ساجد میں ایک مکالمہ

ذیشان ساجد: علامہ اقبال عقل کے اسعتمال کی مخالفت کیوں کرتے ھیں جبکہ عقل کے بغیر تو انسان سائنس کے پاس سے بھی نہیں گزر سکتا؟

ادریس آزاد: ہم اپنی ناک کو آئینہ دیکھے بغیر کیونکر اِتنی ایکیوریسی سے چھُولیتےہیں؟ اِس لیے کہ یہ عمل جبلّی بایں ہمہ وجدانی ہے۔ فٹبال کھیلتے ہوئے، ہاکی، کرکٹ کھیلتےہوئے ہم کتنا ایکیوریسی کے ساتھ وجدان کا عمل اور اس کے نتائج دیکھتے ہیں۔ زندگی کے ہرہرعمل میں اس شئے کی کارفرمائی اور برتری ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ ایک سائنسدان لیبارٹری میں کام کرتے ہوئے یا تھیوریٹکلی ٹیبل پر لکھتے ہوئے کس قدر اپنے وجدان سے مدد لیتاہے اس کا اندازہ ہر دریافت سے لگایا جاسکتاہے۔ جیسا کہ آئن سٹائن کے ہاں اس کی کارفرمائی عام ہے۔ وجدان ایک ایسی شئے ہے جو جب کوئی بات بتاتا یا سکھاتاہے تو اس کا نتیجہ سوفیصد درست ہوتاہے جیسے آئنہ دیکھے بغیر اپنی ناک کو چھولینا۔اقبال کا یہ کہناہے کہ عقل تو ہے ہی بڑے کام کی چیز لیکن دنیائے علم و عمل میں وجدان کی کارفرمائی اس سے زیادہ ہے۔ چنانچہ اقبال کی تائید کرتے ہوئے لکھتےہیں کہ ’’عقل کی ترقی یافتہ شکل وجدان ہے‘‘

ذیشان ساجد: کیا ایسا نہیں ھے کہ جہاں تک ھم جن چیزوں کو وجدان سے جوڑتے ھیں وہ محض ھماری عادتیں ھوتی ھیں۔ مثال کے طور پر ھماری دونوں آنکھیں مل کر چیز اور شاھد میں فاصلے کا تعین کرتی ھیں لیکن اگر ھماری آںکھوں پر پٹی باندھ کر نئی جگہ جا کر ایک آنکھ کھول دی جائے تو ھمیں فاصلوں کی کیلکولیشن میں دشواری آئے گی۔۔۔ لیکن اگر اسی جگہ دونوں آنکھوں سے کچھ دیر گھوم پھر لیں تو ھم عادی ھوجائیں گے ساری موجود آبجیکٹس کی کیلکولیشن دماغ میں سٹور ھوجائے گی عادت بن جائے گی۔ راستہ بغیر دیکھے چلنا بھی وجدان کی بجائے عادت ھے میرے نزدیک ۔۔۔ ناک بھی ایسی ھی پری کیلکولیٹڈ ھوتا ھے ھمارے لیے کیونکہ ھم بچپن سے اس کے ساتھ تجربات کرتے آ رھے ھوتے ھیں۔۔۔ وجدان ھے کیا؟ اور یہ عادت سے کیسے مختلف ھے؟


ادریس آزاد: “عادت کی اصطلاح تو اتنی مناسب نہیں لگ رہی اس کے لیے لیکن اگر آپ وجدان کو کسی اور لفظ کے ساتھ بدلنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لفظ مناسب ہوتو”

ذیشان ساجد: میں اپنے علم کے مطابق کہہ رھا ھوں مجھے ٹھیک سے شاید معلوم نہیں وجدان کیا ھے۔ میرے نزدیک تو جسے لوگ وجدان کہتے آ رھے ھیں وہ محض انسانی عادتیں ھیں۔ جیسے ناخن چبانا عادت ھے شعوری طور پر ھم نہیں کر رھے ھوتے۔۔۔ اب اسے وجدان میں لے جایا جائے

ادریس آزاد: دیکھیں۔ ایک مرغی کے نیچے دو انڈے رکھیں۔ ایک مرغی کا، ایک بطخ کا۔ جب بچے نکلیں گے تو بطخ کا بچہ دوڑ کر(اگر تالاب نزدیک ہوا تو) پانی کے تالاب میں چھلانگ لگا دےگا لیکن مرغی کا بچہ کنارے پر رک جائےگا۔
مرغی کے بچے کو پیدائشی تو پر یہ علم نہیں ملا کہ پانی میں تیرا جاسکتاہے کیونکہ اس کو اس کا عضو بھی نہیں ملا۔ بطخ کے بچے کو اپنی جبلت کی وجہ سے یہ معلوم ہےمرغی کا بچہ سانپ کو دیکھ کر یا چیل کو دیکھ کر اپنی ماں کے پروں کے نیچے چھپ جاتاہے۔ انسان کا بچہ سانپ کو اُٹھا کرمنہ میں ڈال لیتاہےجبلت اور وجدان کو ایک جیسا دیکھیں، نہ کہ عادت اور وجدان کو۔ شہد کی مکھی کی مثال اچھی ہےکسی پودے کی شاخ کا آزادنہ طور پر پھوٹنا پودے کا وجدان ہے
وجدانِ انسانی اور بھی باکمال سطح پر ظاہر ہوتاہے۔مجیسا کہ کھیل کے میدان میں۔۔۔ شطرنج کے وقت۔

ذیشان ساجد: سائنسی تجربات میں وجدان / جبلت کا اسعتعمال کیسے ھوتا ھے؟

ادریس آزاد: چلیے میں ایک زیادہ واضح مثال دیتاہوں۔۔۔۔۔ جان سٹورٹ مِل نے انسانوں کے لیے اخلاقیات لکھی۔ اس کی اخلاقیات اتنی مقبول ہوئی کہ آج اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا حصہ ہے۔ خاص طورپر فریڈم آف سپیچ والی باتاب مِل نے جو اخلاقیات وضح کی جسے یوٹیلیٹرینزم کہتے ہیں، وہ خالص عقل کا کارنامہ ہے۔۔۔۔ خالص عقلی کارنامہ۔۔۔ بہت باکمال کارنام ہے بلاشبہ۔۔۔۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اخلاقیات جو ارتقأ کے ذریعے وضع ہوتی آئی تھی یعنی جو کہ ایک وجدانی عمل ہے اور کسی شجر کی طرح معاشرے کے باغیچے میں پھوٹتی اور پنپتی رہتی ہے۔ مثلاً ہاتھ ملانے کو ہی دیکھ لیں۔ ہاتھ ملانے سے ہم ایک دوسرے کو کیا کیا بتادیتے ہیں؟ ہاتھ دبا کر ملانا، ہاتھ ڈھیلا ملانا، وغیرہ
یہ سب کچھ عقل سے کب کوئی جان سکتاہے؟ یہ سب وجدانی طورپر اخلاقیات کاحصہ تھا اور انسانی اخلاقیات وجدانی تھیاس بات کو یوں سمجھیے! یورپ میں چرچ نے انسانوں کو زندہ جلایاہزارسال تک چنانچہ یورپ میں عقل کی تحریک چرچ کے خلاف ردعمل تھی۔ اور اس ردعمل نے یہ علی الاعلان کہا کہ وجدانی اخلاقیات تو درکنار کچھ ایسا قبول نہ ہوگا جس کے ساتھ ذرا سا بھی مذہب کا تعلق ہو۔ چنانچہ وہاں اخلاقیات کا عقلی بنیادوں پر وضع ہونا جینیوئن عمل تھا۔ اقبال وہاں سے لوٹا تو اس کے خیالات انہی وجوہات کی بناپرتبدیل ہوچکے تھے۔ اس کے سامنے وجودیت، مارکسیت ، جمہوریت اور افادیت پسندی جیسے نظریات کی عقلی صورتحال تھی کیونکہ یہ تمام نظام فقط عقلِ محض سے وضع کیے گئے تھے اس ردعمل میں جو اہل یورپ کو مذہب سے تھا۔ مذہب دشمنی میں انہوں نے وجدان کے ہرعمل کو جھٹلادیا۔ برگسان خود یوریپین ہے لیکن وہ بہت چلایا ا سپر پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ مثلاً یوٹیلیٹیرینزم میں ’’گریٹرگُڈ‘‘ کی تھیوری پائی جاتی ہے کہ اگر آپ ٹرین کے ڈرائیور ہیں اور آپ کے سامنے دو پٹڑیاں ہیں۔ ایک پر دو لوگ بندھے ہوئے پڑے ہیں اور دوسرے پر چھ تو آپ کس پر اپنی ٹرین چڑھائیں گے؟ گریٹر گڈ کا تقاضا ہے کہ آپ دولوگوں پر چڑھا دیں۔ یہ مِل نے کہا۔ جاپان پر بم گراتے وقت امریکہ نے گریٹر گڈ کا ہی نعرہ لگایاتھا۔ اسامہ کو پکڑنے آیا تو تب بھی یہی نعرہ لگایا اور صدام کو مارنے گیا تو تب بھی گریٹر گڈ کے لیے دوبندوں کوپٹڑی پر ماردیا۔ یعنی کولیٹرل ڈیمیج کردیا۔ جاپان،افغانستان اور عراق میں۔ یہ تھا نتیجہ غیر جبلی اخلاقیات کا

ذیشان ساجد: ھممم یہ بات درست ھے۔ لیکن مشرق میں بھی مذاھب نے انسانوں کو بہت نقصان پہنچائے۔ برصغیر میں ہندو مذہب میں غیرانسانی افعال، اور پھر اسلام نے بھی ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں اوپن بولنے پر سخت پکڑ ہے اور اسلامی دنیا کے سائنسدان بھی سخت پکڑ سے بچ نہ سکے۔ تو یہاں کیوں ہم عقلی راستے سے دستربار ہوں؟

ادریس آزاد: بالکل یہ درست کہاآپ نے

ذیشان ساجد؛ گریٹر گڈ یعنی اپنے مقاصد کے لیے اس تھیوری کا ناجائز استعمال کیا گیا تھا۔ دوسری جانب مذاہب کو بھی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ادریس آزاد: بالکل۔ یہ تو انسانی کمزوری ہےبس ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ کچھ موضوعات یعنی وضع کی جانے والی چیزیں تمام انسان مل کر بناتے ہیں اور وہ قدرتی طورپر تخلیق ہوتی رہتی ہیں کسی آرٹ کی طرح۔ ایسی چیزوں کو ہم کسی کتاب میں لکھ کر وضع نہیں کرسکتے۔ اگر کریں گے تو ٹھیک نتیجہ نہ نکلےگا۔ باقی عقل کی مخالفت تو کون کرسکتاہے۔ کوئی بھی نہیں۔لیکن عقل جو کام نہیں کرسکتی وہ اس سے توقع کرلینا بھی تو ٹھیک نہ ہوگا۔ سائنس خالص عقلی سرگرمی نہیں ہے فلسفے کی طرح۔ سائنس میں حسیں انوالوڈ ہیںپانچ حواس۔۔ حواس عقل سے الگ شئے ہیں۔ عقل والے علوم کو عقلیت سے پرکھا جاتاہے جیسے فلسفہ یا ریاضی۔ لیکن حسوں والے علوم کو فقط عقلیت سے نہیں پرکھاجاتا۔ اس میں جبلت اور وجدان کام آتے ہیں۔ سائنسدان جذباتی ہوسکتاہے۔ جذبات میں اس کا کام خراب یا بہتر ہوسکتاہے۔ ایک بار آئن سٹائن کو ایک گیارہ سال کی بچی نے ایک خط لکھا اور پوچھا کہ کیا سائنسدانوں کا بھی ایمان ہوتاہے؟اور سائنسدان بھی دعا کرتے ہیں؟ آئن سٹائن نے اسے جوابی خط لکھا کہ سائنسدان جب ایک مظہرفطرت پر کام کرنے لگتاہے تو اس کے دل میں ہوتاہے کہ اس شئے کے پیچھے ، اس کی تہہ میں ایک ایسا قانون کارفرماہے جو ہرحال میں سچاہے۔ وہ نہیں ٹوٹ سکتاہے۔ اگر میں اس قانون کی سچائی دریافت نہ کرسکا تو میرا تجربہ ہی ناکام شمار ہوگا۔ اسی طرح ایک سائنسدان کی وِش کہ وہ قانون ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائے، ہی اس کی دعا ہوتی ہے۔

ذیشان ساجد: جی بالکل! متفق ھوں آپ سے۔۔۔ صبح ِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نےجو عقل کا غلام ھو وہ دل نہ کر قبولاقبال کے اس شعر کی کیا وضاحت ہوگی؟

ادریس آزاد: جبرئیل نے کہانا؟ اس شعر میں تو خود وضاحت موجود ہے۔ جبرئیل کو اقبال کوئی مذہبی ٹائپ کا فرشتہ نہیں سمجھتا۔ جبرئیل یہاں وجدان کی نمائندگی کررہاہے۔ کیونکہ یہی وجدان بہت اعلیٰ درجات میں وحی بن کر ظاہرہوتاہے۔ اسی لیے اقبال نے خطبات میں لکھا کہ: شعورولایت(وجدان) اور شعورنبوت (وحی) میں نوعیت کا نہیں بلکہ درجے کا فرق ہے۔ (اس پر اقبال کو مذہبی حلقے سے بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہے آج تک)اقبال نے دیکھا کہ مغرب میں اسی ردعمل کی وجہ سے جو مذہب کے خلاف مارٹن لوتھر کی تحریک کے بعد سے پیدا ہوگیا تھا اور جسے اینلائٹنمنٹ کہتے ہیں، نیشن سٹیٹ کا تصور آیا۔ کیونکہ مشترکہ آئیڈنٹٹی جو عیسائیت کی صورت میں انہیں دستیاب تھی وہ کھوچکی تھی۔ انسانی گروہوں کو شناخت کی شدید ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ ہر قوم نے الگ الگ علاقے کو اپنی شناخت قرار دیا۔ اقبال کا کہنا تھا کہ وہ کیس ہمارا نہیں ہے۔اب پھر ان لوگوں نے مشترکہ شناخت اختیار کرلی ہے۔ یورپ یونین بناکراقبال نے اس وقت کہاتھا جب اقوامِ متحدہ کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی کہ
تفریق ملل حکمت ِ افرنگ کا مقصوداسلام کا مقصود فقط ملتِ آدممکّے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغامجمعیتِ اقوام کہ جمعیت ِ آدم
اقبال جب یورپ سے آیا اور اس نے عقل کی یہ کارفرمائی ہر شعبہ زندگی میں دیکھی تو کہا،
دیار ِ مغرب کے رہنے والے خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہی زرکم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرےگیجو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
ٹھیک پانچ سال بعد پہلی جنگِ عظیم چھڑگئی۔ جس میں ڈیڑھ کروڑھ انسان ہلاک ہوئے اور یورپ جل گیا۔ پھر دوسری جنگِ عظیم میں تو پرانی ایسٹیبلشمنٹ اور پورا یورپ ہی جل گیا اور وہ تہذیب جو اقبال دیکھ کر آیا تھا خوکشی کرگئی۔ دونوں جنگوں میں کُل ملا کر ساڑھے سات کروڑ انسان مارے گئے۔ مذہب کی پوری تاریخ کےمقابلے میں کئی گنا زیادہ

ذیشان ساجد: مگر جب ھم مذاھب سے ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتے ھیں یا مذاھب کو ان میں لا استعمال کرتے ھیں تو انسان کی وھی فطرت ڈی کنسٹرکشن والی سامنے آجاتی ھے، کتنا ھی پرفیکٹ مذھب کیوں نہ ھو انسان اس کے ورژنز نکال کر اسے توڑ پھوڑ کا شکار کر کے نئی شکل بنا لیتا ھے اور وہ متنازع ھوجاتا ھے۔ ایسا ھی عقلیت سے حاصل شدہ نظاموں کے ساتھ بھی ھوتا ھے جیسا کہ آپ نے بتایا۔ تو دونوں ھی سمتوں میں انسان کی یہ خوفناک فطرت حائل ھے۔۔۔ ایسی صورت میں کیا کوئی تیسرا راستہ نہیں؟ یعنی کسی طرح انسان کو اپنی ان خامیوں کے استمعال سے روکا جانا ممکن ھے؟

ادریس آزاد: یہ بات درست کہی آپ نے۔ کسی انگریز فلسفی کا قول ہے کہ’’ہم کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں عقل سے ہٹ کر کسی اور سورس سے رہنمائی درکار ہے؟ کیونکہ جب ہم ایسا کہیں گے تو پادری اپنی بغلوں میں بائبل اُٹھائے دوڑے چلے آئیں گے کہ یہ لو ہمارے پاس ہے وہ رہنمائی‘‘
اصل میں رہنمائی انسانوں کے بغیر ممکن نہیں۔ کتابوں اور مذہبوں کا کام نہیں ہے یہ۔ لیڈروں کا کام ہے۔ سچی بات ہے یہ۔ ہردور میں، ہمیشہ ہی ریفارمرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر معاشرے ضرور بہتر ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مردانِ جرّی و کامل پیدا ہونا بند ہوگئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں قحط الرّجالہرزمانے میں لیڈر چاہیے ہوتاہے۔ لیڈر ہی ریفارمر ہوتاہے۔ ریفارمر ہمیشہ ینگ جنریشن سے آتاہے ۔ اس کے آنے کی وجہ ہمیشہ معاشرے کی بُری رسموں کے خلاف جدوجہد کا جذبہ ہوتاہے۔ پرانی نسلیں ہمیشہ کبھی مذہب کا نام لے کر او رکبھی روایت کا نام لے کر اس کی مخالفت کرتی ہیں۔ وہ آتاہے، وہ معاشرے کو بدلنے کے لیے ہرطرح کی اچھی رہنمائی قبول کرتاہے۔ اس کا وجدان بہت کام کا ہوتاہے اور اس کی عقل کام ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ جائزہ لے کر فیصلہ کرسکتاہے۔ لیڈرز ہی انسانوں کو بدلیں گے دوست! ااور آج کا تو امریکہ بھی محروم ہے لیڈر سے۔

ذیشان ساجد: اس موقع پر مجھے ٹی وی سیریل پرسن آف انٹریسٹ کا ایک حصہ یاد آتا ھے جس میں بتایا جاتا ھے کہ انسان کوئی بھی ایسا نظام نہیں بنا سکتا جو انسانوں کو برائی سے روک سکے۔ مصنوعی ذہانت جب اتنی پرفیکٹ ہوجاتی ہے کہ وہ آزاد ہو کر اپنے قوانین بنائے اور انسان کو پوری طرح کنٹرول کرے تو برائیاں ختم ہوجائیں گی۔ یعنی آرٹفشل سپرانٹیلجنس جب انسانی ہاتھوں سے نکل جائے تو وہ خدائی صورت میں انسان کو نظام تشکیل کر کے دے سکتی ھے جو زیادہ پرفیکٹ ھوسکتا ھے۔ کیونکہ انسان خود تو ھمیشہ سے خطائوں کا پتلا رھا ھے، اس کے لیڈر بھی قابل ِ بھروسہ نہیں۔ یہ ممکنہ تیسرا راستہ ھے۔


آدریس آزاد: خوبصورت بات ہے

ذیشان ساجد: لیڈرز کے ساتھ چلنے کے لیے موٹیویشن کے ساتھ ساتھ شعور بھی چاھئے۔ کچھ شعور کا تو سورس خود لیڈر ھی ھوتے ھیں۔ بدقسمتی سے زیادہ تر دنیا میں لیڈرز کی جانب سے شعور کی بجائے صرف موٹیویشن آتی ھے اور کارکنان کا غلط استمعال ھوتا ھے جس کے پیچھے لیڈرز کے ذاتی مفادات نہاں ہوتے ھیں۔ یہ بات درست ھے آپ کی کہ لیڈرز مسائل کا حل نکال پاتے ھیں ایسا تاریخ میں چند بار ھوا ھے لیکن بہت کم ھوا ھے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ھے کہ شاذ و نادر ھی سہی لیکن کسی مخلص لیڈر کی عقل اور جبلت کے امتزاج کے ساتھ استعمال سے خوشگوار ڈائریکشن ممکن ھے۔ شاید اسی کے لیے اردو میں ھم مجدد کا لفظ استعمال کر لیتے ھیں۔ اور ایسے لیڈر کا امپیکٹ کسی خاص قوم و نسل کا ملک تک نہیں ھونا چاھئے بلکہ اسے زیادہ ایریا کَور کرنا چاھئے، اس کا اثر دور تک جانا چاھئے۔ کیونکہ یہ شاذ و نادر ھیں۔

آدریس آزاد: متفق۔ بالکل۔ درست نتیجہ اخذ کیا آپ نے۔بالکل بالکل۔ یہی کہنا چاہ رہا تھا میں۔ آپ دیکھیں نا! جب سرسید نے کہا کہ اردو، فارسی اورعربی کلچر کو بھی چھوڑدیا جائےتو اس نے اس نے یہ بھلا دیا کہ کلچر کےساتھ تو ادب اور موسیقی بھی جاتی رہیگی۔ اب ادب اور موسیقی ایک طرح سے وجدان یا جبلت کا وہ سورس ہے جو کسی قوم کو مسلسل نئی نئی اخلاقیات سکھاتارہتاہے۔اور بے منتِ مذہب سکھاتا رہتاہے۔ اس سے یہ نقصان ہوا کہ ہم نے اپنی اصل الاصیل جبلت کو چیلنج کردیاجو ہماری نجی عادات کی بنا پر ہمارے لیے آئندہ کا معاشرہ تخلیق کرنے والی تھی۔ کوئی قوم آسانی سے تھوڑی بنتی ہے۔ صدیوں کی تاریخِ ثقافت اس کی پشت پر ہوتی ہے۔ دراصل سرسید نے بعینہ وہی کیا جو فرانسس بیکن نے کیا تھا۔ اس وقت فرانسس بیکن نے کہاتھا انگریزوں بلکہ یورپینوں سے کہ
اگر ترقی کرنی ہے تو ہرچیز عربوں والی اختیار کرلو، کلچر سمیتجبکہ ہمارے اور انگریزوں کے حالات ایک جیسے نہیں تھے۔ ہماری پشت پر رادھا اور یشودھا کی کہانیاں تھیں اور ایک طویل سلسلہ تھا خودکار اخلاقیات کا ، ہزاروں سال پرانا۔ جبکہ انگریز اپنی عیسائیت سے پہلے بالکل وحشی تھے۔ آدھا یورپ تو وائیکنگزتھے۔ آپ جانتے ہیں کہ وائیکنگز کون تھے

ذیشان ساجد: برانسس بیکن نے ایسا کِیا تھا۔۔۔ عمدہ معلومات۔ شکریہ

ادریس آزاد: جی ہاں فرانسس بیکن نے عربوں پر بہت لکھاہے۔ وہ خود بھی عربی بول لیتاتھا۔


ذیشان ساجد: جی بالکل وائیکنگز سیزن دیکھ چکا ھوں۔

شیئر:
مباحثہ میں شریک ہوں

%d bloggers like this: