(عظیم کائنات اور چھوٹا انسان ( حصہ اول - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

(عظیم کائنات اور چھوٹا انسان ( حصہ اول

498d5__manzomeh1395203682_event

زمانہِ قدیم میں کائنات کا تصور انتہائی صغیر تھا، کائنات کا تخلیق کار خدا کو تصور کیا جاتا تھا، مذھبی حلقوں میں زمین کو کائنات کا مرکز اور انسان کو اشرف المخلوقات مانا جاتا تھا، مذھبی کتابوں اور رہنماؤں کے مطابق زمین چپٹی جبکہ آسمان ایک نیلے رنگ کی چھت تھی۔ سورج ، ستارے اور چاند آسمان میں رکھے ہوئے چراغ تھے، انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آسمان میں موجود چمکنے والے بظاہر چھوٹے چھوٹے ستارے ہمارے سورج سے کئی گنا بڑے اور ہم سے بے انتہا نوری سال کی مسافت پرہونے کے باعث چھوٹے نظر آتے ہیں، نہ ہی اسکو اندازہ تھا کہ آسمان میں کچھ چراغ ہماری زمین کی طرح سیارے ہیں، جو زمین کی طرح سورج کے گرد گھوم رہے ہیں، اس زمانے میں یہ کہنا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد کفر کے زمرے میں آتا تھا، اور خدا کی خدائی کو جھٹلانے کے برابر سمجھا جاتا تھے، ایسی ہی جسارتوں کی برونو اور گلیلئیو کو سخت سزائیں ملیں
کائنات کی خدا سے تخلیق سے بھی زیادہ پختہ یقین اس بات پر رکھا جاتا تھا کہ تمام جاندار حضرتِ خداوند نے اپنی کاریگری سے پیدا کئیے ہیں، اور انسان اسکی بہترین مخلوق ہے، اس لیے اس نے اسکو زمین پر اپنا خلیفہ اور اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور انسان تمام جانداورں کا حاکم ہے۔ اس برتری کے سحر کو توڑنے کا سہرا حضرت چارلس ڈارون کے سر جاتا ہے جنہوں نہ جانداروں کے ارتقاء سے متعلق تحقیق کی اور ارتقاء کے عمل کو بیان کیا۔ کائنات اور جانداروں کے بارے میں سائنسی نظریات نے مذھب کی گرفت کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور آخر کار مذھبی کتابوں میں لکھی ہوئی تخلیق کی کہانیوں کی اہمیت ختم ہو گئی۔
زمین جو زمانہِ قدیم کی کل کائنات تھی نظامِ شمسی کے اندرونی چھوٹے پتھریلے سیاروں میں سے ایک ہے، نظامِ شمسی کے باقی سیارے اور حتٰی کہ ان کے کچھ چاند بھی زمین سے بڑے ہیں، نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ مشتری ھے جسکے بارہ چاند ہیں ۔ ہمارا سورج ملکی وے کہکشاں کے 200 ارب ستاروں میں سے صرف ایک معمولی ستارہ ہے جو کہ اپنے آدھی سے زیادہ عمر گزار چکا ہے اور مزید چند ارب سال چمکنے کے بعد ایک دھماکے سے پھٹ جائے گا(سورج کے مٹ جانے کے بعد بھی کائنات ہراروں کھرب سال تک موجود رہے گی)، اب ان 200 ارب ستاروں میں کیا چھپا ہوا ہے اسکی تحقیق شائد کبھی بھی نہ ہو سکے، مگر ایک بات طے ہے کہ ان میں سے ہر ستارے کے گرد کئی سیارے محوگردش ہیں اور ان سیاروں میں سے بہت سے سیاروں پر ضرور زندگی بھی ہو گی، یہ زندگی زمینی زندگی سے کتنی مختلف ہو گی اسکا ادراک ہمارے ذھن فی الحال نہیں کر سکتے۔
زمین اور انسان کا مقام اس کائنات میں کتنا چھوٹا ہے اسکا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہماری ملکی وے کہکشاں کائنات کی کم و بیش 100 ارب کہکشاوں میں سے ایک ہے، اب اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ بات کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ کائنات میں سیاروں کی تعداد ستاروں سے کہیں زیادہ ہے، تو ان 100ارب کہکشاؤن کے کھربوں ستاروں کے لاتعداد سیاروں مین سے صرف زمین پر ہی زندگی ہو گی یہ کہنا یکسر بیوقوفی پر مبنی اور اتنی بڑی کائنات کا ضیاع ہو گا ۔ان سیاروں میں کروڑوں پر زندگی ہو گی ۔ اور یقیناً ان زندگی رکھنے والے سیاروں پر رہنے والے جانداروں میں سے بہت سے ہماری طرح یا ہم سے زیاہ عقل بھی رکھتے ہوں گے، فزکس اور ریاضی کا استعمال کر کے کائنات کی تسخیر میں بھی مصروف ہوں گے۔ شائد ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافطہ بھی ہوں گے
ہم انسان ایک عام سے سیارے پر رہنے والی ایک چھوٹی سی خودپسندی کا شکار مخلوق ہیں اور سمجھ بیٹھی ہیں کہ یہ کائنات ہمارے لئیے بنائی گئی ہے۔ کیونکہ ہم نزدیک کی چیزوں کو بڑا اور عظیم سمجھنے کے عادی ہیں، اسلئیے ہم زمین کو بڑا اور سورج کو چھوٹا سمجھتے تھے، ستاروں کو ہم چراغ سمجھتے رہے اور کائنات کے تخلیق کی وجہ اپنے جیسے معمولی انسانوں کو سمجھتے رہے۔ ہماری خودپسندی کے باعث ہمیں آج بھی یہ بات معیوب معلوم ہوتی ہے کہ ہم اور باقی جاندار مشترکہ جد سے ارتقاء پزیر ہوئے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے بچہ یہ سمجھتا ہے کہ اسکی ماں سب بچوں میں اس سے زیادہ پیار کرتی ہے جبکہ حقیقتاً ماں سب بچوں سے برابر پیار کرتی ہے۔ کائناتی تناظر میں انسان کوباآسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے
انسان کی بڑھتی آبادی کی وجہ سے بے شمار جاندار ناپید ہو چکے ہیں، ہم اپنے رہنے کے لیئے روز ان جگہوں کو برباد کر رہے ہیں جو دوسرے جانداروں کا گھر ہیں۔ زمیں کائنات میں محدود وسائل رکھنے والا ہمارا اور دوسرے جانداروں کا واحد گھر ہے اور ہم ان وسائل کو بے پروائی سے اڑا رہے ہیں، ہم نے اپنی اور دوسرے جانداروں کی تباہی کے لئیے اتنے ایٹم بم بنا لئے ہیں کہ قرہِ ارض کو سات مرتبہ تباہ کر سکیں، ایسے مہلک ہتیاروں کی موجودگی میں مذھبی اور نسلی نفرتیں دنیا کو تباہی کے دھانے کی طرف تیزی سے دھکیل رہی ہیں ، ہر مذھب کا تصوراتی خدا حقیقی طاقت چاہتا ہے، اور اس طاقت کے لئے بیوقوف انسان ہر گناہ اور ہر قال کو اپنے جیسے جانداروں پر نازل کرنے کے لئے آمادہ ہے، وہ اپنے دین اور اپنی نسل کی سربلندی چاہتا ہے۔ جہنم کی تصوراتی آگ سے اسکی مذھبی نفرت کو تسکین ملتی ہے ، اسی لئیے اس آگ کو باقی انسانوں پر نازل کر کے خود آسمان اور جنت کے خواب دیکھتا ہے، حوروں کے پہلو میں سونے کی تمنا لئیے کئی بے بس اور لاچار انسانوں کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک انسان جیسا دوسرا انسان اربوں کہکشاؤں کے کھربوں ستاروں کے لاتعداد سیاروں میں کبھی بھی دوبارہ نہیں ملے گا، تو جس نے ایک انسان کی جان لی اسنے کائنات کی اس اربوں سال پر مہیت زندگی پیدا کرنے کی کوشش کے خلاف ایسا سنگین جرم کیا جو میں بیان نہیں کر سکتا۔ انسان نے انسان کے حقوق مذھب ، صنف، نسل اور زبان کی بنیاد پار صلب کئے ہوئے ہیں ایسے میں جانوروں کے حقوق کی بات بے معنی لگتی ہے، مگر انکا بھی زمین کی خشکی، دریاؤں اور سمندروں پر اتنا ہی حق ہے جتنا کے انسان کا۔ ( جاری ہے )

بشکریہ غالب کمال

2475 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 1 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ