(عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ ہفتم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

(عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ ہفتم

Nucleosynthesis_in_a_star article-2403824-1B7F88C0000005DC-759_634x381 may-2010-heavy-elements

 

زمین پر زندگی کے لئیے سب سے اہم چیز پانی ہے، جہاں پانی ہے وہاں زندگی کی ریل پیل ہے، خواہ حیوانات ہوں یا نباتات سبھی کا انحصار پانی پر ہے۔ بائبل میں کہا جاتا ہے کہ “جب خدا نے ابتدا میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا تو زمین سنسان اور ویران تھی اور روح خدا پانیوں پر جنبش کرتی تھی”، بعد میں خدا اوپر اور نیچے کے پانیوں کو علیحدہ کرتا ہے، بات بڑی ہی آسان ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پانی زمین کے ساتھ ہی پیدا کیا جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

زمین پر موجود پانی انتہائی قدیم ہے، یہ ثابت شدہ ہے کہ یہ پانی زمین سے کہیں زیادہ قدیم ہے، سورج اور زمین ایک گیس کے بادل کے سمٹنے سے وجود میں آئے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گیس کا بادل کہاں سے آیا؟ یہ گیس کا بادل ابتدائی ستاروں کی موت سے وجود میں آیا، جیسا کہ میں اس سلسلے کے حصہ پنجم میں ستاروں کے بننے پر تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں، تمام بھاری اجزا جو زمین اور دوسرے سیاروں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں قدیم ستاروں کے مراکز میں نیوکلیائی فیوزن(Nuclear Fusion) کے ذریعے سے بنے۔ اب ہائڈروجن تو کائنات میں کثرت سے پائی جاتی ہے، آکیسجن انہی قیدم ستاروں کی موت پر اس قدیم قبل الستارہ بادل(Proto Star) کا حصہ بنی جس میں سورج اور نظام شمسی کا جنم ہوا، اور ہماری زمین پر پایا جانے والا پانی بھی اسی قبل الستارہ بادل میں ہائڈروجن اور آکسیجن سے مل کر وجود میں آیا۔

پانی کا جو بھی اگلا گلاس آپ پئیں گے یہ سوچ کر پیجئے گا کہ جس چیز کو آپ نگلنے والے ہیں وہ سورج سے زیادہ قدیم ہے۔

ہمارے جسم میں پائے جانے والے تمام بھاری اجزا جیسا کہ ، لوہا، کاربن، آکسیجن، فاسفورس وغیرہ انہی قدیم ستاروں کے مراکز میں بنے، اب اگر دیکھا جائے تو ہمارے جسموں میں پائے جانے والے تمام بھاری ایٹم کسی وقت ایک ستارے کے انتہائی گرم مرکز میں وجود میں آئے اور اربوں سال تک موجود رہے(ستارے کے مرکزی سلسلے میں یہ اجزا ستارے کے مرکز کا حصہ ہی ہوتے ہیں) اس سے پہلے یہ اجزا صرف ہائڈروجن اور ہیلئیم گیس تھے، اب وہ قدیم ستارے کیسے ہوںگے کس وقت بنے ہوں گے، وہ ہائڈروجن جس سے ہمارے جسم کے بھاری اجزا بنے بگ بینگ کے بعد وجود میں آئی، بھر اربوں سال لگے اور یہ بھاری اجزا میں نیوکلیائی فیوزن کے ذیعے تبدیل ہوئی، جس ستارے کا ہم حصہ تھے وہ دھماکے سے پھٹا اسنے اپنے اجزا خلا کی اتھاہ گہرائی میں پھیلا دئیے اور ہمارے سورج اور نظام شمسی کو جنم دینے والا قبل الستارہ بادل وجود میں آیا۔ درحقیقت ہم اور ہمارے جسم ستاروں ہی کے قدیم اجزا ہیں۔

پھر قریب ہی کسی سپر نوا(Super Nova) کے پھٹنے سے اس گیسی بادل کے دوبارہ سمٹنے کا آغاز ہوا اور سورج اور نظام شمسی کے ستارے وجود میں آئے، ان سیاروں میں سے ہماری زمین پر حیاتیاتی ارتقاء کا عمل شروع ہوا اور زندگی نے انہی بے جان اجزا کو جو کبھی اس قدیم ناپید ستارے کا حصہ تھے استعمال کرکے حیاتیات کو پروان چڑھایا اور کرتے کرتے ان حیاتیات میں اربوں سال بعد عقل و فہم اور سمجھ بوجھ پیدا ہوئی۔

اب اگر دیکھا جائے تو ہم ایک انتہائی طویل کائناتی سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے ہیں، ہم کائنات قوانین کی انتہائی طویل اور قابل ستائش کوشش کا ایک ایسا ثمر ہیں جو نا صرف حیرت انگیز ہے بلکہ کائناتی تناظر میں انتہائی اہم ہے، زمین پر انسان کے شکل میں ہم صرف چاند تک ہی جا پائے ہیں مگر آکیسجن، فاسفورس اور دوسری بھاری اجزا کی شکل میں ہم ایک انتہائی طویل اور حیرت انگیز سفر طے کر کے آئے ہیں، مگر اس سفر کے زیادہ طر وقت میں ہم صرف ہائڈروجن تھے۔ داراصل ہم کائنات کی آنکھیں ہیں، کائنات ہماری صورت میں اپنے آپ کو جانچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے جسموں میں پایا جانے والا ایک ایک ایٹم ایک وقت(بگ بینگ کے بعد) ہائڈروجن تھا۔ اور کوئی 13.8 ارب سال بعد وہی ہائڈروجن جو بگ بینگ کے کچھ عرصے بعد وجود میں آئی کئی بار ستاروں کے گرم مراکز(Stellar Cores) میں نیوکلیائی فیوزن کے ذریعے شکل تبدیل کرنے کے بعد حیاتیاتی ارتقائی عمل سے گزر کر سوچنے لگی کہ یہ کہاں سے آئی ہے اور کہاں جا رہی ہے۔

انسان مٹی سے بنا ہے، مٹی کس چیز سے بنی ہے، مٹی بھی ایک وقت ہائڈروجن ہی تھی، مگر پروردیگار نے یہ کیوں نہیں بتایا؟ سوال بڑا سادہ ہے۔۔۔۔

اگلی پوسٹ میں نظام شمسی اور کائنات میں پانی کہاں اور کیسے پایا جاتا ہے اس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔۔۔۔ غالب کمال (جاری ہے )

3547 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ