عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ ہشتم) کائناتی ذہین جانداروں کے درمیان انسان کا مقام - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ ہشتم) کائناتی ذہین جانداروں کے درمیان انسان کا مقام

11178376_10204492164809110_7706608992158095472_n © Copyright 2010 CorbisCorporation aliens (1)

 

ہم انسان، ہم اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہونے کے سراب میں مبتلا ایک چھوٹے سے پتھریلے سیارے پر مقید ایک چھوٹی سی مخلوق، ایک معمولی ہجم کے ستارے سورج جو کہ ملکی وے کہکشاں کی ایک باہری شاخ پر واقع ہے۔ ہماری کہکشاں اربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور ہمارا سورج کھربوں ستاروں میں سے ایک اور زمین ان گنت سیاروں میں سے، مگر ہماری غافلانہ خوشفہمی ہے کہ تمام نہیں ہوتی۔

سوچنے کی بات ہے کیا کائنات میں ہمارے علاوہ بھی ذہین زندگی موجود ہو گی؟ یقیناً موجود ہو گی، ورنہ ان ان گنت سیاروں اور ستاروں کا کیا فائدہ؟ سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کا یہ کائناتی جھرمٹ بذاتِ خود زندگی کی موجودگی کی ضمانت دیتا ہے۔ سائنسدانوں اور اعداد و شمار کے ماہرین کے مطابق ہماری کہکشاں ہی میں لاکھوں سیاروں پر زندگی موجود ہو سکتی ہے، دوسری طرف زہین زندگی کے امکانات بھی انتہائی قوی ہیں۔ بلکہ کائنات میں ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تہذیبوں کی موجودگی کے قوی امکانات موجود ہیں۔

اس زمن میں ان ترقی یافتہ تہذیبوں کو عام طور پر تین اقسام میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کو کارداشیو سکیل کہا جاتا ہے یہ درجہ بندی ایک تہذیب کے توانائی استعمال کرنے پر کی جاتی ہے

پہلی قسم کی ترقی یافتہ تہذیبیں:

پہلی قسم کی ترقی یافتہ تہذیبیں کائنات میں پائے جان کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ یہ تہذیبیں ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہو سکتی ہیں، جیسا کہ زندگی کی موجودگی کے زیادہ امکانات پتھریلی سیاروں پر ہیں۔ اور تمام ایسے سیارے جو زندگی رکھتے ہوں گے پلیٹ ٹکٹانک کی صلاحیت ضرور رکھتے ہوں گے کیونکہ اس کے بغیر معدنیات کا چکر نہیں چل سکتا اور معدنیات کے چکر کے بغیر زندگی کسی بھی سیارے کے سطح پر وجود نہیں رکھ سکتی۔ اب ایسی تہاذیب اپنے سیارے سے توانائی حاصل کرتی ہونگی، یہ ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ انسان آنے والی چند صدیوں میں زمین کے گرم مرکز سے براہ راست توانائی حاصل کر کے اپنی تہذیب کو چلانا شروع کر دے، کیونکہ جیسے جیسے انسان ترقی کے منازل طے کرے گے اسکی توانائی کی ضروریات ہزاروں گنا بڑھ جائیں گی، ڈیموں اور مختلف قسم کے پاور پلانٹ سے حاصل کی گئی توانائی کم پڑ جائے گی۔ اس صورت میں انسان کو تمام وسائلِ توانائی بروئے کار لانے ہوںگے، جسمیں شمسی توانائی،نیوکلیائی فیوزن اور زمین کے گرم مرکز سے حاصل کی گئی توانائی مرکزی کردار ادا کریں گی۔ پہلی قسم کی ترقی یافتہ تہذیبوں کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ سیاروں پر وجود رکھتے ہوں، مثال کے طور پر انسان اگلی چند صدیوں میں مریخ پر بھی ایک انسانی بستی آباد کر سکتا ہے۔ ایسی تہذیبوں کو ترقی کے ابتدائی مراحل طے کئیے ہوئے کم از کم 500 سے 1000 سال کا عرصہ گزر چکا ہو گا۔

دوسری قسم کی ترقی یافتہ تہاذیب:

یہاں سے کائناتی استلاح میں ترقی کا حقیقی سفر شروع ہوتا ہے، اس طرح کی تہاذیب سائنس اور تیکنالوجی کے میدان میں ہزاروں سال کی تحقیق کر چکی ہونگی، انکے باسی اپنی زندگیوں میں ایک لافانی طوالات حاصل کر چکے ہوںگے۔ اور کائنات تسخیر انکا مقصد ہوگی، یہ تہاذیب ایک سے زیادہ نظام شمیسی اور ستاروں تک رسائی رکھتے ہوئے انکے وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے کائناتی سفر کا آغاز کرنے کی جانب گامزن ہو سکتی ہین۔ انہوں نے تقریباً تمام ہی کائناتی قوانین کا اندازہ لگا لیا ہوگا، انکی ٹیکنالوجی ہمارے لئیے بالکل جادو کی حیثیت رکھتی ہو گی۔ان تہذیبوں کی سائنسی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیت ہو سکتی ہے۔

تیسری قسم کی ترقی یافتہ تہاذیب:

تیسری قسم کی ترقی یافتہ تہاذیب انتہائی ترقی یافتہ ہوں گی اور اپنی کہکشاں پر راج کرتی ہوں گی اور کہکشاں کے ستاروں کے ایک بڑے حصے سے توانائی حاصل کرتی ہوں گی۔ انکی سائنس ہمارے لئے بالکل ہی ناقابل یقین ہو گی، اور یہ ایک کم ترقی یافتہ تہذیب کے لئیے خدائی کے منسب پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ یہ نئی جانداروں کی نسلیں اینجینئیر کر کے پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسی تہذیبیں ایک کہکشاں کے ہزاروں بلکہ لاکھوں سیاروں پر سکونت پزیر ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خانہ بدوش نسل بن چکے ہوں جو ایک کے بعد ایک ستارے کی توانائی استعمال کر کے کائنات میں ایسی دروازے کھول سکتے ہوں جن کے باعث انکا سفر ایک جگہ سے دوسری جگہ انتہائی آسان ہو۔ ان تہذیبوں کی سائنسی تاریخ لاکھوں بلکہ کروڑوں سالوں پر محیت ہو سکتی ہے۔ ایسی تہذیبیں کائنات میں کم ہی ہوں گی۔

اب سوال آ جاتا ہے کہ ہمیں آج تک کوئی خلائی مخلوق کیوں نہیں ملی، تو یہ سوال سرارسر ہماری غلط فہمی پر مبنی ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپکے گھر کے پچھلے حصے میں جو چیونٹیاں رہتی ہیں انسے جا کر ملاقات کر لیں، نہیں سوچا نا تو بالکل اسی طرح انتہائی ترقی یافتہ تہذیبوں کو ہم سے ملاقات کرنے کی کوئی خاص خواہش نہیں ہو گی، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ماضی میں کسی وقت ہماری زمین کا چکر لگا کر جا چکے ہوں۔ مگر دوسری بات ہے کہ جو مخلوق ایک سیارے پر موجود ہے ان انتہائی ترقی یافتہ اور عقل مند لوگوں کے لئیے وہ ایک Endangered Species کا ہی درجہ رکھتی ہو گی، اور یقیناً انکے ایسے قوانین ہونگے کہ وہ ان چھوٹی تہذیبوں کو زندہ رہنے کا حق دیتے ہوں گے۔ بحرحال جو جتنا عقلمند ہو گا وہ اتنا ہی زندگی کی اہمیت کو سمجھے گا، اور اسکی قدر کرے گا۔ مگر کائنات میں وحشی قسم کی تہذیبوں کے ہونے کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا بحرحال انسان اور زمین اب تک ان سے محفوظ ہے۔ مگر ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسی تہزیب ہمارے سامنے آ بھی جائے ایسے موقع پر سٹیفن ہاکنگ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی وہی حال ہو گا جو امریکہ کے حقیق باشندوں کا کورٹیز کے آنے پر ہوا تھا، انکا نام و نشان تک مٹ گیا تھا۔

کائنات اتنی وسیع ہے کہ اسمیں زندگی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، ابتدائی طور پر تو انسان کے لئیے کسی دوسرے سیارے پر صرف مائکرو حیاتیات کی دریافت ہی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ اسکے بعد انسانی تاریخ کی ڈگر بدل جائے گی۔ اور اگر ہماری طرح کی کوئی عقلمند تہذیب ہمیں بھی مل جائے تو ہمارے عقائد اور ہمارے توہمات کا خاتمہ ہو جائے گا اور انسان اپنے حقیقی کائناتی مستقبل کو سمجھ کر چلنے کے باعث ضرور امر ہو جائے گا۔

ایک سوال آپکے ذہن میں آرہا ہو گا کہ ہم کس درجے کی تہذیب ہیں تو جناب اس درجہ بندی کے لحاظ سے ہم 0.5 کے درجے کی تہذیب ہیں یعنی ابھی ہم درجہ اول کی تہذیب بھی نہیں بنے،اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ہی ایٹم ہتھیاروں سے خودکشی کر لیں اور اسکی کبھی نوبت ہی نہ آئے۔
غالب کمال ( جاری ہے )

3740 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ