عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ نہم) سپیشل اور جنرل ریلیٹوٹی(تعارف) - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ نہم) سپیشل اور جنرل ریلیٹوٹی(تعارف)

7f826e959e47d4e465556f86b40d71c71-617x416 11148465_10204492275811885_4660789285751896318_n relativity_lightdemo images (28)

 

نیوٹن ایک حیرتانگیز دماغ رکھتا تھا، ایک سیب اسکے سر پر گرا اور اسنے قدرت سے ایسا بدلہ لیا کہ قدرت کے راز فاش کر کے رکھ دئیے، نیوٹن نے کشش ثقل کی گرہ کھول دی، اسنے یہ بتا دیا کہ کائنات میں ہر مادی جسم دوسرے مادی جسم پر ایک قوت لگاتا ہے اسکو کشش ثقل کہتے ہیں یہ قوت انکے ہجم کو ضرب دینے کے مطابق ہوتی ہے جبکہ ان دونو اجسام کے مراکز کے درمیان فاصلے کی وجہ سے اس قوت کی طاقت میں کمی ہوتی ہے۔ نیوٹن نے اسی پر تحقیق کی اور سیاروں کے مدار تک بتا دئیے۔

ایک عرصے تک نیوٹن اور اسکے قوانین کو سائنس میں ایک اٹل حقیقت کے طور پر مانا جاتا رہا، مگر پھر سائنسدانوں نے سیارے عطارو کے مدار میں ایک بے ضابطگی(Non Confirmity) دیکھی جو نیوٹن کے قوانین کے مطابق صحیح نہیں تھا، اب سیارے کے مدار کا جھول نیوٹن کے کشش ثقل کے قوانین کا منہ چڑا رہا تھا۔ اسی مسلئے کو سائنس کی دنیا کے ایک اور مایہ ناز شخص ایلبرٹ آئنسٹائن نے آن پکڑا۔

آئن سٹائن نے پہلے تھیوری اور سپیشل ریلیٹیوٹی پیش کی، آئنسٹائن سے پہلے سائنسدان یہ مشاہدہ کر چکے تھے کہ روشنی کی رفتار ساکن ہے چاہے روشنی کی ایک کرن کی طرف جائیں یا اس سے پرے، مثال کے طور پر آپ ایک سڑک پر گاڑی چلا رہے ہیں۔ ایک گاڑی رکی ہوئی ہے اور آپ 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گاڑی چلا رہے ہیں، ایک رکی ہوئی گاڑی جو آپسے 2 میٹر کے فاصلے پر کھڑی ہے تک صرف 2 سیکنڈ میں پہنچ جائیں گے۔ مگر ایک گاڑی جو آپکی طرف 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آر ہی ہے 100 میٹر کے فاصلے سے آپ جو خود 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہے ہیں، تک ضرف 5 سیکنڈ ہی میں پہنچ جائے گی۔ مگر اگر ایک گاڑی 5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آپکے اگے جا رہی ہے اور آپسے 25 میٹر کے فاصلے پر ہے تو آپ اسکے برابر صرف 5 سیکنڈ میں پہنج جائیں گے کیونکہ وہ کم رفتار سے سفر کر رہی ہے اور آپ زیادہ سے۔

مگر روشنی چاہے آپکی طرف آ رہی ہو یا جا رہی ہو اسکی رفتار ہمیشہ ساکن ہی رہتی ہے جو کہ تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، چاہے کو جسم 2 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار س بھی روشنی کی کرن کی طرف سفر کرے تو جب وہ اس تک پہنچے گا تو روشنی اسکو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہی سے اپنی طرف آتی ہوئی محسوس ہو گی۔

اب آئنسٹائن نے روشنی کی ساکن رفتار کا ایک حیرت انگیز حل نکالا، یہ حل اتنا حیرت انگیز ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ الف لیلیٰ کی کوئی داستان سن رہے ہیں۔ فرض کریں آپ شمال کی طرف 1 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چل رہے ہیں۔ آپ پانچ سیکنڈ میں 5 میٹر شمال کی طرف سفر کریں گے مگر 0 میٹر مشرق کی طرف سفر کریں گے۔ کیونکہ آپکے سفر کا تمام کا تمام فاصلہ شمال کی جانب طے ہو رہا ہو گا۔ مگر اگر آپ 5 میٹر مشرق کی طرف سفر کریں تو آپکے سفر کا تمام کا تمام فاصلہ مشرق کی طرف طے ہو رہا ہو گا اور شمال کی طرف آپکا طے کردہ فاصلہ صفر ہو گا۔ مگر اگر آپ شمال مشرق کی طرف 5 میٹر سفر طے کریں تو آپکا شمال کی طرف 4 میٹر اور اسی طرح مشرق کی طرف 3
میٹر فاصلہ ہو گا۔

اس انتہائی عام فہم تصور سے آئنسٹائن نے روشنی کی رفتار اور وقت کی رفتار کا معمہ حل کر لیا، اب اسی مثال پر شمال کی طرف وقت یعنی زماں اور مشرق کی طرف مکاں(مکاں کی تینوں جہتیں ایک ہی جہت کی صورت میں تصور کر لیں Consider three dimensions of space as one combined dimension)۔ آئنسٹائن کا کہنا ہے جب کوئی بھی شے ساکن ہوتی ہے تو اسکی تمام کی تمام توانائی صرف زماں یعنی وقت کی جہت میں لگتی ہے، اور اس شے کے لئیے وقت کی رفتار نارمل رہتی ہے۔ جبکہ جب کوئی شے تیز رفتار سے سفر کرتی ہے تو اسکے لئیے زماں کی رفتار سست رو ہوتی جاتی ہے(Time Dilation) جتنا کوئی شے مکاں میں تیز رفتاری سے سفر کرتی ہے اتنی ہی اسکے لئیے وقت سست رو ہوتا جاتا ہے، حتی کہ اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو اسکے لئیے وقت بالکل ساکن ہو جائے گا۔ یعنی اسی طرح مکاں کی جہت میں رفتار کم ہونے لگتی ہے جب زمان کی جہت میں رفتار زیادہ، اور اگر مکاں کی جہت میں ساکن تو زماں کی جہت میں مکمل رفتار۔ یہ تصور اتنا حیرت انگیز تھا کہ شروع میں سائنسدانوں کو بھی اسے تسلیم کرنے میں انتہائی دقت ہوئی۔

اب آئنسٹائن نے اپنے اسی نظریے کی بنیاد پر ایک اور بات کہی، وہ یہ تھی کہ زمان اور مکاں ایک جالی یا پھر ایک چادر(Space Time is like a sheet or mesh) کی طرح ہے، اور اس جالی میں جب مادہ رکھا جاتا ہے تو مادے کی خصوصیت کشش ثقل ہے، اب ٹھیک اسی طرح جب چادر میں ایک گیند رکھی جائے تو اس میں جھول، یا گہراؤ(Curve or Dimple) پیدا ہو جاتا ہے اور چادر نیچے کی طرف دب جاتی ہے اسی طرح زماں اور مکاں کی چادر میں مادے کی وجہ سے جھول پیدا ہو جاتا ہے، اور اسی جھول کا نام کشش ثقل ہے، اس جھول یا کرو کی وجہ سے اجسام کشش ثقل کے باعث ایک دوسے کی طرف بڑھتے ہیں۔ا س طرح ایک چادر میں ایک بڑی گیند رکھیں اور چھوٹی گیند کو اس چادر میں ایک سرے سے دوسرے سری کی طرف پھینکیں بڑی گیند کے چادر میں پیدا کردہ گھہراؤ کی وجہ سے چھوٹی گیند سیدھا رستہ اختیار کرنے کے بجائے کروی رستہ اختیار کرے گی۔ یہ تھی آئنسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹوٹی۔

آئنسٹائن کے ان نظریات کو آپ ایک تخیل سمجھیں تو یہ انتہائی غلط ہو گا کیونکہ ان سے متعلق بے شمار ثبوت مل چکے ہیں۔ زمین کے مدار میں مصنوعی سیاروں کی گھڑیوں کو مسلسل درست کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ تیز رفتار پر سفر کرنے کے باعث زمین پر موجود گھڑیوں سے سسٹ رو ہو جاتی ہیں، اور انکا وقت پیچھے رہ جاتا ہے اگر انکو روزانہ کی بنیاد پر درست نہ کیا جائے تو تمام جی پی ایس کا نظام بے کار ہو جائے گا، گو کہ یہ درستگی صرف چند ملی سیکنڈ کی ہوتی ہے مگر اگر اسکو ایک سال کے لئیے چھوڑ دین تو ٹھیک ٹھاک فرق پڑ جائے گا۔

آئن سٹائن سے پہلے یہی مانا جاتا تھا کہ روشنی ایک سیدھی قطار میں سفر کرتی ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے یہ سیدھا ہی سفر کرتی ہے، مگر جب آئنسٹائن نے کہا کشش ثقل کے باعث زماں اور مکاں کرو رخ اختیار کر لیتے ہیں تو اس بات کو برطانوی سائنسدان آرتھر ایڈنگٹن نے ثابت کرنے کی ٹھانی انہوں نے عین سورج گرہن کے وقت آسمان کی تصویر لی جسمیں سورج کے بالکل عقب میں موجود سیارے جو سورج سامنے ہونے کے باعث نظر نہیں آ سکتے نظر آئے جس سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ واقعی کشش ثقل کے باعث زماں اور مکاں کرو رخ اختیار کر گئے ہیں اور روشنی اس لئیے سورج کے عقب کے ستاروں سے روشنی ہم تک پہنچی ہے کہ زماں اور مکاں ہی کرو ہیں۔ نہ کہ روشنی کرو ہوئی ہے۔ اس مشاہدے سے آئنسٹائن کی تھوری آف ریلیٹوٹی پر حقیقی ہونے کی مہر ثبت ہو گئی اور ہمارا کائنات کو دیکھنے کا انداز بدل گیا۔

اب ایسا ہوا کہ کشش ثقل کو مادے کی موجودگی کی وجہ سے زماں اور مکاں کا کرو مان لیا گیا، یعنی مادہ زماں اور مکان کو کرو کرتا ہے، اور زماں اور مکاں اسی کرو کے باعث مادے کو بتاتا ہے کہ کیا رخ اختیار کرنا ہے، کونسا راستہ لینا ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے بات شروع ہو کر زماں اور مکاں کی رفتار سے ہوتی ہوئی مادے اور مکاں کے تعلق پر آ کر ختم ہوئی۔

آئن سٹائن کی اس تھیوری کے مطابق بے شمار پیشنگوئیاں کی گئیں اور اسی کے مطابق نیوٹران ستارے اور کویزار دریافت بھی ہو چکے ہیں۔ پھر اگے چل کر نیوکلیئر فشن اور کائنات میں ہائڈروجن کی مقدار بھی اسی تھیوری سے ابھری۔ آئنسٹائن خود ہمشہ سے کائنات کو ساکن حالت میں مانتے تھے مگر اسی تھیوری کے باعث بگ بینگ کی پیشنگوئی کی گئی اور بعد میں بگ بینگ کے بے شمار ثبوت مل گئے۔

حضرت آئنسٹائن نے انسانی تاریخ میں وہ باب رقم کیا ہے جو کسی انسان نے ان سے پہلے نہیں کیا، مگر ان کی دریافتوں کی تعریف کے وہ اکیلے حقدار نہیں ہیں بلکہ تمام ہی وہ سائنسدان اور محقیقین فیساگورث سے آئنسٹائن کی تھیوری سے لے کر آج تک جو سائنس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اس نظریہ کی تحسین کے حقدار ہیں۔ کیونکہ سائنس مجموعی انسانی کوشش کا ثمر ہے، اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ یہ حقیقی طور پر قومیت اور لسانیت کو مٹاتے ہوئے حقیقی انسانی عقل و فہم کی تحسین کا نام ہے، ہر قومیت کا انسان دوسری قومیت کے انسان سے سائنس سیکھ اور سکھا سکتا ہے۔ اسی لئیے سائنس انسانوں کو یکجا کرتی ہے۔ یہ حقیقی انسانیت کا بھلا کرتے ہوئے انسانیت کا سبق دیتی ہے۔

جتنی سائنس کی روشنی پھیلے گی اتنا ہی انسان اپنی قابلیت کو سمجھتے ہوئے نفرت کو پیچھے دھکیلے گا اور حقیقی طور پر ایک جنت کی بنیاد رکھے گا۔

بشکریہ غالب کمال   (جاری ہے)

4561 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ