عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ دھم) نظام شمی کی کہانی(سورج کا ارتقاء) - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

عظیم کائنات اور چھوٹا انسان(حصہ دھم) نظام شمی کی کہانی(سورج کا ارتقاء)

images (29) Weighing_the_planet-forming_disc_around_a_nearby_star_large 11043535_10204492476536903_5122287054417471973_n

 

13.7 ارب سال پہلے بگ بینگ ہوا، اسکے بعد مادہ کشش ثقل کے باعث سمٹنے لگا اور ابتدائی دیو ہیکل ستارے بنے یہ دیو ستارے انتہائی عجیب ہوتے ہیں، جتنا اتنا کا ہجم زیادہ ہوتا ہے اتنے ہی یہ جلد باز ہوتے ہیں، جلد ہی اپنا تمام مادہ ختم کر لیتے ہیں، اور ایک دھماکے سے پھٹ(Super Nova Explosion) کر اپنا مادہ کائنات میں پھیلا دیتے ہیں، جانے کتنی بار اسی عمل سے گزرنے کے بعد مادے کے بہت سے بادل(Molecular Clouds) کائنات میں جمع ہوتے رہے، پھر کوئی 11 ارب سال پہلے ہماری ملکی وے کہکشاں وجود میں آئی، اسمیں بھی بڑے بڑے ستاروں کے بننے اور پھٹنے کا عمل جاری رہا، اور کہیں ملکی وے کہکشاں میں انہیں کے پھیلائے ہوئے مادے کا ایک بادل وجود میں آگیا یہ بادل کوئی 100 نوری سال کے فاصلے پر پھیلا ہوا تھا۔ اسی بادل میں ہمارے سورج کا جنم ہوا
ایک اندازے کے مطابق سورج کو ابتدائی ارتقائی مراحل سے گزر کر اپنی موجودہ حالت میں آنے میں تقریبا 3 سے 5 کروڑ سال کا عرصہ لگ گیا۔ ابتدائی طور پر سورج اور نظام شمسی میں پایا جانے والا مادا ملے وے کہکشاں میں پائے جانے والے ایک مادے کے بادل کا حصہ تھا، اس مادے کے بادل میں مولیکیولیائی ہائڈروجن(Molecular Hydrogen )، سلیکان اور زمین اور دوسرے سیاروں، سیارچوں اور شہابیوں میں پائے جانے والے تمام عناصر موجود تھے۔ اور اسکا درجہ حرارات 250- ڈگری تھا جو کہ خلاء کے درجہ حرارت سے بمشکل ہی زیادہ ہے۔ یہ گیسوں کا بادل ملکی وے کہکشاں کے مرکز سے دوتہائی فاصلے پر اسکے گرد محو گردش تھا، اسی دوران شائد یہ کسی بڑے ستارے کے قریب سے گزرنے کے یا پھر سپر نووا ستارے کے قریب و جوار میں دھماکے کے باعث متزلزل ہوا اور پانی ہی کشش ثقل کے باعث سمٹنے لگا۔ یہ سمٹنے کا عمل کوئی 20 لاکھ سال تک جاری رہا اس دوران اس بادل سے بالکل بھی روشنی منعکس نہیں ہو رہی تھی
اسکے بعد کوئی مزید بیس سے تیس ہزار سال لگے اور بالاخر سورج کا مرکز ایک بہت بڑے گیسی گیند کی شکل اختیار کر گیا اسکو سورج کی قبل الستارہ(Proto Star Phase) حالت کہا جاتا ہے ۔ اب مادہ اندر کی طرف گرتا جا رہا تھا، یہ گیند نما مرکز اتنا بڑا تھا کہ یہ یہ موجودہ سورج کے مرکز سے لے کر پلوٹو تک پھیلا ہوا تھا۔ مزید گیس اندر کی جانب گر رہی تھی اور اسکا درجہ حرارت تقریبا 1000 ڈگری تک پہنچ چکا تھا، درجہ حرارت کے بڑھنے کے باعث نیوکلیائی ہائڈروجن جو کہ ہائڈروجن کے دو ایٹم سے مل کر بنتی ہے ایٹمی ہائڈروجن میں تبدیل ہونے لگی، اسوقت سورج نے قوت خارج کرنا شروع کی یعنی سورج کے مرکز کی انتہائی گہرائی سے فوٹان نکلنا شروع ہو گئے، اور اس تابکاری کے باعث سورج کا اندر سے باہر کی طرف لگنے والا دباؤ بننے لگا، مگر سورج کا سمٹنا ابھی بھی رکا نہیں بلکہ اسکی بڑھتی ہوئی کشش ثقل کے باعث مزید گیس اندر کی جانب گر کر سورج کا درجہ حرارت بڑھانے لگی۔ جس طرح پانی کے بھنور میں پانی اندر کی جانب گرتا ہے اسی طرح اندر گرتے مادے کی وجہ سے سورج کی اپنے محور پر گردش شروع ہو گئی، اور اسکے گرد مادہ ایک تھالی نما شکل اختیار کرنے لگا۔
تقریباً مزید ایک لاکھ سال گزرنے کے بعد سورج شمسی نیبولا کی شکل اختیار کر گیا، اس صورت میں پہلی بار سورج مدھم روشنی خارج کرنے لگا۔ اس مرحلے میں سورج سمٹ کر عطارو کے مدار کے برابر ہو گیا، سورج کے مرکز کا درجہ حرارت تقریبا 2000 ڈگری تھا جبکہ مشتری کی موجودہ جگہ پر موجود مادے کا درجہ حرارت گرتے گرتے 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا، اس سے پرے وہ تمام جما ہوا مادہ تھا جس سے آج نظام شمسی کے تمام سیارے بنئے ہوئے ہیں۔ اب پہلی بار سورج روشنی منعکس کرنے لگا تھا یہ روشنی آج کی روشنی کے مقابلے میں انتہائی مدھم تھی۔
گیسوں کے بادل کے سمٹنے کی ابتدا سے کوئی 30 لاکھ سال بعد سورج کا مادہ سمٹتے سمٹتے تقریبا سورج سے صرف چند گنا بڑے ٹی تاوری(T-Tauri) صورت کے سورج کی صورت اختیار کر چکا تھا، اس مرحلے میں سورج کا مرکزی(Core) درجہ حرارت 5000 ڈگری جبکہ اسکا سطحی(Surface) درجہ حرارت 4500 ڈگری تک تھا۔ اس مرحلے میں سورج کا تمام ہی مادہ آیاونز(Ions) میں تبدیل ہو کر مزید اندر کی طرف گر رہا تھا جسکی وجہ سے سورج ایک بہت ہی بڑی مکناتیسی قوت خارج کر رہا تھا، اس وقت سورج کے گرد مادے کی ایک تھالی بھی موجود تھی جب مکانتیسی لہریں اس مادے کی تھالی سے ٹکراتیں تو مادہ سورج کی طرف کھچتا اور جب یہ مادہ سورج کے اندر گرتا تو بہت بڑے دھماکے روشنی خارج کرنے لگتا، سورج پر سن سپاٹ کا عمل بھی اس دور میں آج سے کہیں زیادہ تھا، اسوقت پورے سورج پر بہت بڑے بڑے دھبے موجود تھے، جیسا کہ اس وقت سورج کی اپنے محور پر گردش(Axial Rotation) انتہائی تیز تھی یعنی سورج اپنا محور 8 دن میں پورا کرتا تھا(جبکہ آج یہ 30 دن میں پورا ہوتا ہے)تو سورج کی مکناتیسی کشش بھی اسی مناسبت سے بہت زیادہ تھی۔ اس وقت کا سورج انتہائی خوفناک تھا۔ جیسا کہ یہ درجہ حرارت میں آج کے سورج سے کم ہے تو یہ پیلی روشنی کے بجائے سرخی مائل پیلی روشنی خارج کرتا تھا۔
ٹی تاوری کے اگلے مرحلے میں سورج سے ستارتی آندھی کا اخراج شروع ہوا سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق ستارتی آندھی اس مرحلے میں سورج کے بڑے ہجم، مکناتیسی کشش اور اسکی اپنے محور پر انتہائی تیز گردش کی وجہ سے بنتی ہیں۔ اسکی رفتار 200 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہیں، ستارتی آندھی کی لہریں سورج کے گرد بنی ہوئی مادے کی تھالی کو چیرنے لگٰیں جسکے باعث اس تھالی کا بہت سا مادہ اوپر اور نیچے کی طرف جانے لگا، یعنی نظام شمسی سے بچے کھچے مادے کی چھانٹی ہونے لگی۔ ستارتی آندھی کا عمل 10000 سال تک جاری رہا، اب مزید مادہ سورج میں نہیں گر رہا تھا اور سورج سکڑ کر اپنے موجودہ ہجم کی طرف جا رہا تھا۔ گو کہ سورج ٹی تاوری مرحلے کے ابتدائی 20 یا 30 لاکھ سال میں ہی قدرے پرسکون ہو گیا، مگر اسکو پھر بھی اپنی موجودہ حالت میں آنے میں چند کروڑ سال لگ گئے۔
سورج کو اپنی موجودہ حالت جسکو کو مرکزی سلسلہ(Main sequence) کہتے ہیں پہنچنے میں 3 سے 5 کروڑ ابتدائی سال لگے، مگر جب سورج اپنے موجودہ ہجم کے برابر ہو گیا تو اسوقت سورج کا اندرونی درجہ حرارت 1.5 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ ہے، یہ درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ سورج کے اندر موجود ہائڈروجن کے الیکٹران اپنے پروٹان سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، اب اس درجہ حرارت پر پروٹان اپنی چارج کو بالائے طاق لاتے ہوئے مل جاتے ہیں اور ہائڈروجن سے ہیلیئم بن جاتی ہے، ابھی ہمارا سورج یہی کر رہا ہے یہ اپنے اندر کی ہائڈروجن کو ہیلئیم میں تبدیل کر رہا ہے جسکے باعث بے انتہاء توانائی خارج ہو رہی ہے یہی توانائی اندر کی جانب سے باہر کی طرف دباؤ پیدا کر رہی ہے جسکے باعث سورج کی اندر کی طرف لگنے والی کشش ثقل کا مقابلہ ہو رہا ہے، یعنی اس سے پہلے ہمیشہ ہی کشش ثقل اندر کی جانب سورج کو سکیڑ رہی تھی، مگر اب اندر کی جانب سے لگنے والی قوت کے باعث ماعین توازن(Hydrostatic Equilibrium) پیدا ہو گیا ہے، اور سورج اسکے باعث اپنی موجودہ حالت میں ساکن ہو گیا ہے۔ یعنی سورج کی 4.6 ارب سال کی زندگی میں سے ابتدائی پانچ کروڑ سال نکال دیں باقی تمام ہی وقت سورج کی یہی حالت رہی ہے اس حالت کو کسی بھی ستارے کا مرکزی سلسلہ کہا جاتا ہے۔ اور سورج اپنی حیرت انگیز زندگی کے اگلے 5 ارب سال اسی مرکزی سلسلے کی حالت میں گزارے گا۔
اگلی قسط میں سیاروں کی پیدائش کے بارے میں بتاؤں گا۔
غالب کمال (جاری ہے )

4657 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ