ڈارون کا ارتقائی میکانزم - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

ڈارون کا ارتقائی میکانزم

ڈارون کا ارتقائی میکانزم …… فطری انتخاب …… 1930 کے آخری سالوں میں ہی عام قبولیت حاصل کر سکا ۔۔ اس دور میں ہلڈین فشر اور رائٹ جیسے نمایاں سائنسدان Neo_Darwinism کے بانی ہیں جس نے فطری انتخاب کو مینڈل کی جینیات سے منسلک کر دیا ۔۔ نظریہ ارتقا اور Cell theory کے درمیان تعلق کے لیے نظریہ وراثت لازمی تھا ۔۔ انیسویں صدی میں Schwann Schleiden اور Virchow نامی ماہر حیاتیات نے واضح کیا کہ خلیہ تمام جانداروں کی بنیادی اکائی ھے ۔۔ 1944ء میں اوسول ایوری (Oswa Avery) نے خلیے کے مرکزے میں موجود DNA کو ایک ایسے مواد کے طور پر شناخت کر لیا جو وراثت کی بنیاد تھا ۔ کرک اور واٹسن نے DNA کے Double Helix کو دریافت کر کے ارتقا کے راستے کو مزید واضح کر دیا ۔۔ ڈارون نئی پود میں جن تبدیلیوں کی بات کرتا تھا وہ DNA میں تبدیلی کے باعث ھوتی ہیں جن کی وجہ اتفاقیہ قابل توارث تبدیلی Random Mutations اور داخلی سالماتی ترتیب نو ھوتی ھے جس پر فطری انتخاب اثر انداز ھو سکتا ھے ۔۔
گریگر مینڈل ایک آسٹرین پادری اور شوقیہ ماہر نباتات تھا جس نے 1860ء کے عشرے میں پودوں کی موروثی خصوصیات کا بہت احتیاط سے مطالعہ کیا جس سے جینیاتی وراثت ( Genetic inheritance) کا مظہر دریافت ھوا ۔۔ مینڈل نے جو ایک شرمیلا اور منکس المزاج شخص تھا اپنی دریافتوں کو ایک نمایاں ماہر حیاتیات کے پاس بھیجا جس نے حسب توقع اس سارے تصور کو احمقانہ قرار دے کر انھیں واپس بھیج دیا ۔۔ انتہائی بددل ھو کر مینڈل نے اپنے خیالات دنیا سے چھپائے رکھے اور دوبارہ پودوں کی دنیا میں کھو گیا ۔ اس کا انقلابی کام 1900 میں دوبارہ دریافت ھوا جب حقیقی معنوں میں جینیاتی سائنس کا آغاز ھوا ۔۔ خوردبینوں کے زیادہ بہتر ھو جانے سے نئے خلیے کے اندر دیکھنا ممکن ھو گیا جس سے جینز اور کروموسوم دریافت ھوئے ۔۔
جینیٹکس سے ھمیں حیات کے ہمیشہ سے جاری و ساری ارتقا کو سمجھنے کا موقع ملتا ھے حیات کے ارتقا سے مراد اپنی نقل تیار کرنے والے ایسے سالمے کا ظہور تھا جو زندگی کے خصائص آنے والی نسلوں تک منتقل کر سکے ۔۔ DNA ایک ایسا میکانزم ھے ۔ اپنی تجدید نو کی صلاحیت رکھنے والا یہ سالمہ جسم کے کسی مخصوص حصے میں مرکوز نہیں ھوتا بلکہ جانور یا پودے کے ھر خلیے میں موجود ھوتا ھے ۔۔ نسل انسانی سب سے اعلی ارتقا یافتہ نسل ھے جو ساڑھے تین ارب سال کے ارتقا کی پیداوار ھے ۔
جینیٹکس کی دریافت اور ترویج نے ارتقا کے رازوں سے مزید پردہ اٹھایا ۔۔ ڈارون کے دریافت کردہ ارتقائی قوانین میں DNA کی سمجھ بوجھ سے مزید نکھار آیا ھے جس کی وجہ Neo_Darwinism ک بانیوں ہلڈین فشر اور رائٹ کا تحقیقاتی کام تھا ۔۔
افزائش نسل کے ذریعے ہی تنوع پیدا ھوتا ھے ۔ ارتقا کے نقطہ نظر سے یہ بہت اھم ھے ۔ پسماندہ عضویوں میں ھونے والی غیر جنسی افزائش نسل سے پدری خلیے کی ایک جیسی نقول حاصل ھوتی ھیں جن میں قابل توارث تبدیلی شازو نادر ھی ھوتی ھے ۔۔ دوسری طرف جنسی افزائش نسل ‘ دو سرچشموں سے حاصل ھونے والی جینز کا نیا مجموعہ ھونے کی وجہ سے ‘ جینیاتی تغیر کے امکانات میں اضافہ کرتا ھے اور ارتقا کے آگے بڑھنے کی رفتار کو تیز تر کرتا ھے ۔۔
حیات کے ھر قسم کی جینیاتی معلومات کا DNA کوڈ موجود ھوتا ھے ۔ ھمارے آباو اجداد کے مشترک ھونے کی شہادت یہ ھے کہ تمام جاندار اشیا کے خلیوں میں مماثلت پائی جاتی ھے ۔
جینیات کا مطالعہ خیال پرستی کے خلاف فیصلہ کن جواب مہیا کرتا ھے ۔ کوئی بھی جاندار جینوٹائپ کے بغیر وجود نہیں رکھ سکتا اور کوئی بھی جینوٹائپ زمان و مکان کی بے رخنہ وسعت یعنی ماحول کے باھر قائم نہیں رہ سکتا ۔۔ جینز اپنے گرد و پیش کے ساتھ باہمی عمل کے ذریعے انسانی نشونما کے عمل کو فروغ دیتی ھیں ۔ سچ تو یہ ھے کہ اگر حیاتیاتی وراثت کامل ھوتی تو ارتقا بھی نہ ھونے پاتا کیونکہ وراثت ایک قدامت پرست قوت ھے ۔ یہ بنیادی طور پر اپنی نقل تیار کرنے کا میکانزم ھے لیکن جینز کی ساخت میں ہی ایک تضاد موجود ھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی ایسی نقل تیار ھو جاتی ھے جو غیر کامل ھوتی ھے …… یعنی ایک ترمیم ۔۔ ایسے حادثات کی تعداد انگنت ھے جن میں سے اکثر نہ صرف بیکار ھوتے ہیں بلکہ جاندار کے لیے نقصان دہ ھوتے ہیں ۔
کوئی ایک ترمیم کسی جاندار کو دوسرے جاندار میں تبدیل نہیں کر سکتی ۔۔ جینز میں موجود معلومات مکمل علیحدگی کی حالت میں نہیں رھتی ہیں ۔۔ ان کا رابطہ طبعی دنیا کے ساتھ قائم ھوتا ھے جہاں ان کا امتحان ھوتا ھے ، ان پر مختلف عوامل اثر انداز ھوتے ہیں ، ان کی تراش خراش ھوتی ھے اور یہ زیادہ نمایاں ھوتی ھیں ۔۔ اگر ایک مخصوص قسم ایک دیئے گئے ماحول میں دوسری کی نسبت زیادہ بہتر لحمیات مہیا کرتی ہے تو یہ پھلے پھولے گی جبکہ دوسری ختم ھو جائیں گی ۔۔ ایک خاص مقام پر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری سطح پر پہنچ جاتی ہیں اور ایک نئی نسل تشکیل پاتی ھے ۔۔ فطری انتخاب کا یہی مطلب ھے ۔ پچھلے ساڑھے چار ارب سال میں جاندار اشیا پودے ، جانور اور انسان کی جینز اسی طرح تشکیل پائی ہیں ۔۔۔۔

2283 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ