’انفلیشن‘ کے نشانات کی تلاش - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

’انفلیشن‘ کے نشانات کی تلاش

11218062_10204864439395742_475858441869146610_n 11535696_10204864439355741_182886421404425304_n 11402824_10204864439795752_3024689089877646634_n

محققین کے مطابق انھیں آسمان میں خلا کے انتہائی تیزی سے پھیلاؤ کا ایک سگنل یا نشان ملا ہے جو لازماً کائنات کی تخلیق کے لمحے میں ہی وجود میں آیا ہوگا۔
یہ سگنل دوربینوں کی مدد سے دیکھی جانے والے قدیم ترین روشنی میں دکھائی دیا ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر مارک کامیونکوسکی نے کہا ہے کہ ’یہ شاندار چیز ہے۔
اس دریافت کا اعلان بائسیپ 2 (BICEP2) نامی منصوبے پر کام کرنے والی امریکی محققین کی ٹیم نے کیا۔ اس منصوبے کے تحت قطب جنوبی پر نصب ایک دوربین کی مدد سے آسمان کے ایک خاص حصے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
اس تحقیق کا مقصد ’انفلیشن‘ کے نشانات کی تلاش تھا۔ ’انفلیشن‘ وہ نظریہ ہے جس کے مطابق کائنات اپنی تخلیق کے پہلے ہی سکینڈ کے ہزار کھرب ویں حصے میں ہی انتہائی تیزی سے پھیل گئی تھی
خیال یہ ہے کہ اس عمل سے نوزائیدہ کائنات انتہائی چھوٹے حجم سے ایک چھوٹے ’کنچے‘ جتنی ہوگئی تھی اور پھر وہ مزید 14 ارب سال تک پھیلتی رہی۔
’انفلیشن‘ کا خیال پہلی مرتبہ سنہ 1980 کی دہائی میں سامنے آیا تھا اور اس مقصد بگ بینگ تھیوری کے ناقابلِ فہم حصوں کو بیان کرنا تھا۔
ایسا ہی ایک سوال یہ تھا کہ خلا کی وسعتیں آسمان پر ہر جانب ایک جیسی کیوں لگتی ہیں اور اس کی توجیح یہ تھی کہ کائنات کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے ہر قسم کی غیرہموار سطح ہموار ہوگئی تھی۔
تاہم اس بارے میں ’انفلیشن‘ کے تحت ایک مخصوص پیشنگوئی کی گئی کہ خلا کی ہمورای کا تعلق کششِ ثقل کی قوت سے ہے اور ان لہروں نے خلا میں موجود قدیم ترین روشنی پر نشان چھوڑے ہوں گے جسے کوسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ کہا جاتا ہے۔
بائسیپ 2 کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اب وہ اس نشان کی ظاہر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ سائنسدانوں نے اسے بی موڈ پولرائزیشن کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کائنات سے گزرنے والی کششِ ثقل کی لہریں ہی ایسے نشان چھوڑ سکتی ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے ہارورڈ سمتھسونین سنٹر فار آسٹروفزکس کے پروفیسر اور بائسیپ 2 ٹیم کے لیڈر جان کوویک نے کہا کہ ’یہ طبعیات کے ایک نئے دور میں داخلے کا دروازہ کھل گیا ہے۔ وہ طبعیات جو جانے گی کہ کائنات کے ابتدائی سکینڈ کے ذرا سے حصے میں کیا ہوا۔‘
اس دریافت کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری کہکشاں میں سی بی ایم روشنی کے گرد سے ملنے پر ایسی ہی اشکال بنیں لیکن بائسیپ 2 گروپ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ابہام دور کرنے کے لیے ڈیٹا کا تین سال تک جائزہ لیا گیا ہے۔
.امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر اینڈریو جیف کا کہنا ہے کہ ’اس میں بہت کچھ ٹیکنالوجی اور مستقبل کے تجربات کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ ہمیں اس سگنل کی نشاندہی سے کہیں آگے جانا ہوگا اور اس سے مزید معلومات حاصل کرنا ہوں گی۔‘

2611 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 3 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ