وائی فائی کے بعد لائی فائی کا کامیاب تجربہ - سائنس کی دنیا | سائنس کی دنیا

وائی فائی کے بعد لائی فائی کا کامیاب تجربہ

1610941_10204691166984040_4411073449088673234_n 18022_10204691167104043_4149177134924554482_n

 

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے روشنی کی مدد سے دس گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر بغیر تاروں کے معلومات منتقل کرنے والی اس ٹیکنالوجی کو ’لائی فائی‘ کا نام دیا گیا ہے۔
محققین نے مائیکرو ایل ای ڈی بلب کی مدد سے روشنی کے ہر بنیادی رنگ، لال، سفید اور سبز کے ذریعے 3.5 گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا۔
عالمی ڈیٹا سٹور کرنے کی صلاحیت کیا ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ سفید روشنی کی ایک ہی شعاع سے دس گیگا بِٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا منتقل کیا جا سکتا ہے۔
لائی فائی سستی ٹیکنالوجی ہے جس میں مخصوص ایل ای ڈی بلبوں کے ذریعے انتہائی کم خرچ پر انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے گا۔
’الٹرا پیرالل وزِبل لائٹ کمیونیکیشنز پراجیکٹ‘ نامی یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایڈنبرا، سینٹ اینڈروز یونیورسٹی، سٹارتھکلائڈ یونیورسٹی، آکسفرڈ یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کی مشترکہ کوشش ہے۔ اس پراجیکٹ کے اخراجات انجنیئرنگ اینڈ فیزیکل سائنسز ریسرچ کونسل اٹھا رہی ہے۔
گلاسکو کی سٹارتھکلائڈ یونیورسٹی میں تیار کردہ انتہائی چھوٹے ایل ای ڈی بلب روشنی کی شعاعوں کو متوازی طرز سے پھینک سکتے ہیں جن کی مدد سے ہر بلب سے منتقل کی جانے والے ڈیٹا کی مقدار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے پروفیسر ہارلڈ ہاس نے کہا ہے کہ جیسے ایک شاور میں آپ پانی کو دھاروں میں علیحدہ کر سکتے ہیں اسی طرح ہم روشنی کو دھاروں میں علیحدہ کر سکتے ہیں۔
’اورتھاگونل فریکونسی ڈوژنل میٹل پلیکسنگ‘ نامی تکنیک کے ذریعے محققین ان بلبوں کو ایک سیکنڈ میں لاکھوں مرتبہ آن آف کر سکتے ہیں، اور اس عمل کو ڈیجیٹل معلومات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کمپیوٹروں میں استعمال ہونے والے بائنری نظام میں یہ سگنلز صفر اور ایک کے مترادف ہیں۔
اس سال کے آغاز میں ایک جرمن ادارے نے ایک گیگا بِٹ فی سیکنڈ تک معلومات منتقل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اسی ماہ چینی سائنسدانوں نے ایسے مائیکرو چپ والے ایسے ایل ای ڈی بلب تیار کیے تھے جو 150 میگا بِٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا منتقل کر سکتے ہیں اور ایک بلب چار کمپیوٹروں کو انٹرنیٹ فراہم کر سکتا ہے۔
2011 میں پروفیسر ہاس نے ایک ایل ای ڈی بلب کی مدد سے ایک ہائی ڈیفنیشن ویڈیو ایک کمپیوٹر تک پہنچانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
انہوں نے ’لائٹ فیڈیلٹی‘ یا لائی فائی کے الفاظ استعمال کیے اور انہوں نے اسی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے پیور وی ایل سی نامی ایک کمپنی بھی بنائی۔
لائی فائی موجودہ ریڈیو وائی فائی نظام سے مالی اور تونائی، دونوں لحاظ سے کم خرچ ہوگی۔
نظر آنے والی روشنی الیکٹرومگنیٹک شعاعوں کا ایک حصہ ہیں اور ریڈیو کی رینج سے دس ہزار گنا وسیع تر ہیں۔
روشنی کی مدد سے ڈیٹا منتقل کرنے کا ایک اور فائدہ پروفیسر ہاس یہ بتاتے ہیں کہ ایل ای ڈی ٹرانسمیٹرز کی مدد سے عمارتوں میں مستقل انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
روایتی وائی فائی راؤٹرز میں ایک مسئلہ یہ پایا جاتا ہے کہ فاصلہ کے ساتھ ساتھ ان کا سگنل کمزور ہوتا جاتا ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی فراہمی کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔
پروفیسر ہاس کا کہنا ہے کہ روشنی کی دیواروں میں سے نہ گزرنے کے باعث وی ایل ٹیکنالوجی ہمارے نیٹ ورکس کو زیادہ محفوظ بنا دے گی۔

2118 :اب تک پڑھنے والوں کی کُل تعداد 6 :آج پڑھنے والوں کی تعداد



Written by اختر علی شاہ